Topics
اس واقعہ کے بعد مستانی نے سختی سے میرے اوپر شہر نہ جانے کی پابندی عائد کر
دی۔ اس کا خیال تھا انسانوں کو مصیبتوں میں دیکھ کر مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اور
میرے پاس جو معمولی سی ماورائی طاقتیں ہیں ۔ میں ان ہی کے سہارے تمام مصیبت زدہ
لوگوں کی مدد کرنے پر تیار ہو جاتا ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر میں نے اس طرح کی
کوئی بھی حرکت کر دی تو میری موجودہ صلاحیت بھی ختم ہو کر رہ جائے گی۔
اس نے روح کو جسم سے جدا کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ کیونکہ اس طرح
بھی اُسے میرے بہک جانے کا اندیشہ تھا ۔ بہرحال اب میں جیکب تالاب تک ہی محدود ہو
کر رہ گیا تھا۔
اس عرصہ میں اچانک ہی باباجی کا انتقال ہو گیا تھا ۔ مجھے ان کے انتقال کا
بہت افسوس تھا لیکن مستانی کا کہنا تھا کہ اب بابا جی اس سے بہتر جگہ پر ہیں۔
بابا جی کے انتقال کے بعد مستانی نے بھی شہر جانا چھوڑ دیا تھا وہ انتہائی
ضرورت کے تحت بازار جاتی تھی اور وہ بھی گھنٹہ ، آدھا گھنٹہ میں واپس اجا تی تھی۔
اس واقعہ کے کوئی تین ماہ بعد ، جب کہ مستانی شہر گئی ہوئی تھی ، میں ظہر کی
نماز پڑھ کر اٹھا تو گرمی محسوس ہوئی۔ میں نے سوچا کہ تالاب کے کنارے بیٹھ کر
نہالوں ۔ اس خیال سے کوٹھری کے دروازے کی جانب مڑا ۔ ابھی میں نے کوٹھری کے باہر
قدم بھی نہیں رکھا تھا کہ دیکا وہی پنڈت ہاتھ میں مالا لیے دروازہ پر کھڑا ہے۔ جسے
میں تین ماہ قبل چشم ِ تصور سے دیکھ چکا تھا ، اُسے اس طرح اچانک اپنے سامنے دیکھ
کر میں ٹھٹک کر رہ گیا۔
”مہمان کو اندر انے دو“ مجھے مستانی کی آواز سنائی دی۔ میں نے گھبرا کر کونے
کی طرف دیکھا جہاں مستانی مصلے پر بیٹھی دروازہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کے خیال
میں میں نے پنڈت کا راستہ روک رکھا تھا۔ مستانی کی اس اچانک آمد سے مجھے خوشی ہوئی
تھی۔ میں دروازے سے ہٹ کر تیزی سے اس کے پاس آیا اور پوچھا ۔” تم کب آئیں، کیسے
آئیں اور یہ کون ہے؟“
”تمہیں خود ہی سب کچھ معلوم ہو جائے گا ۔“ مستانی نے لاپروائی سے جواب دیا۔
اتنی دیر میں پنڈت ایک قدم دہلیز کے اندر رکھ چکا تھا۔
”آؤ پنڈت جی آؤ۔“ مستانی نے اُسے خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے سر کا رومال کھول
کر بیٹھنے کے لیے مصّلی کے پاس ہی بچھا دیا۔
پنڈت نے کوٹھری میں داخل ہو کر چاروں جانب نظر دوڑائی۔ پھر وہ مستانی کے
بچھائے ہوئے رومال کے قریب کھڑا ہو کر بولا۔” تیرے پتا کا دیہات ہوئے دن بیت گئے
لیکن تو نے مجھے خبر تک نہ دی۔“
”منڈت جی !“ مستانی مسکرا کر بولی ۔”یہ دُنیا فانی ہے ، فانی شے کا کیا غم
کرنا ، کیا کسی کو بتانا! جو اس جہان میں آیا ہے وہ تو جائے گا ہی۔“
”کہتی تو ٹھیک ہی ہے ، پر دنیاداری بھی تو کوئی چیز ہے ۔“ اس نے شکوہ آمیز
انداز میں کہا۔
”دنیا داری ۔۔ دنیا والوں کے لیے ہوتی ہے “ مستانی نے طنز کیا۔” ہم مٹی کے
لوگوں کے لیے اس میں کیا رکھا ہے؟“
”جب ہی تو میں چاہتا ہوں۔“ وہ شرارت امیز تبسم سے بولا۔” کہ مٹی کے شریر کو
مٹی کے شریر سے مل جانا چاہیئے ۔ ہم دونوں کا ملاپ دو پاک روحوں کا ملاپ ہوگا۔“
پنڈت کے اس جملے سے میں چونک پڑا۔ اس جملے کی غرض و غایت سے میں واقف تھا۔
میرے سامنے آٹھ سال پہلے کا سکھ دیو کھڑا تھا۔ مجھے پہچاننے میں دیر اس وجہ سے
ہوئی کہ جب پہلی بار میں نے دیکھا تھا تو وہ ہٹا کٹا سادھو تھا لیکن اب وہ جسمانی
لحاظ سے بالکل بدل چکا تھا ۔ اس کا جسم ڈھلک چکا تھا اور گوشت کی جگہ ہڈیاں نکل
آئی تھیں اس کے سر پر چوٹیا کی جگہ لمبے لمبے بال تھے جو شانوں پر جٹاؤں کی شکل
میں پھیلے ہوئے تھے اوران میں آدھے سے زیادہ سفید ہو چکے تھے ۔ بڑھاپا دبے قدموں
اس پر چھاتا جا رہا تھا۔
”سکھ دیو۔۔۔“ مستانی نے اس کا نام لے کر اُسے مخاطب کیا ۔ شاید وہ میرے
خیالات جان چکی تھی اور اب مزید مجھے شک و شبہ میں نہیں رکھنا چاہتی تھی۔” میں آپ
کی عزت کرتی ہوں۔ آپ کی خواہش کا احترام کرتی ہوں۔“ اس نے کہا ”لیکن ہمارا ملاپ
اسی وقت ممکن ہے کہ آپ اپنا دین چھوڑ دیں۔“
”کیسی بالکوں جیسی باتیں کرتی ہے ۔“ سکھ دیو نے اسے سمجھایا ۔” ہمارے لیے
دھرم کیا ہے ، ہم دونوں ہی بھگوان کے سیوک ہیں۔“
”جب ہی تو میں کہتی ہوں کہ اپنا دین آپ چھوڑ دیں ۔“ مستانی نے بھر پور وار
کیا۔
سکھ دیو مستانی کی اس بات سے کچھ دیر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ پھر وہ گہری سوچ
سے بولا۔” تیری خاطر میں یہ بھی کر سکتا تھا لیکن ، میں جو کچھ ہوں اپنے دھرم کی
بدولت ہوں۔“
”میرے دین میں آ کر آپ کو اس سے زیادہ بھی مل سکتا ہے ۔“ مستانی نے اُسے
سمجھایا ۔”خدا آپ کو اور زیادہ نواز سکتا ہے۔۔۔“
”نہیں ۔ نہیں مجھے جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔“ اس نے جواب دیا ” اس سے زیادہ
بھگوان اور کیا دے سکتا ہے۔“ پھر اپنے سر کو خفیف سا ایک جھٹکا دے کر بے خودی سے
بولا ۔” اس سے زیادہ بھگوان اور کیا نواز سکتا ہے؟ میں نے جو چاہا مل گیا اب مجھے
کچھ نہیں چاہیئے ۔“ پھر وہ مستانی سے مخاطب ہوا ” تو نہیں جانتی ۔ میرے دھرم کے
لوگ مجھے کتنا مانتے ہیں ، کتنا چاہتے ہیں۔“
”تیری یہی انا تجھے لے ڈوبے گی ۔“ مستانی نے ذرا خفگی کے انداز میں کہا۔
”اس شریر میں صرف یہی ایک چیز میرے پاس رہ گئی ہے ۔“ وہ عیاری سے بولا۔”
میرے بیا کل من کو صرف اس ہی سے جنتا ملتی ہے اور نو تو تو جانتی ہے کہ میں خود
فنا ہو چکا ہوں۔“
اتنا کہہ کر اچانک اس کی نظریں مجھ پر پڑیں۔ شاید اُسے پہلی بار میری
موجودگی کا احساس ہوا۔ لہذا تیوری پر بل ڈال کر مستانی سے پوچھا۔”یہ جکون ہے؟“
”اللہ کا بندہ ہے ۔“ مستانی نے بالکل نپا تلا جواب دیا۔
”شاید ۔۔۔ میں نے پہلے بھی اسے دیکھا ہے۔“ سکھ دیو بڑبڑ ایا۔ اور اپنی سُرخ
انگارہ جیسی آنکھیں میرے چہرے پر گاڑ دیں ۔ جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ مجھے
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی نگاہیں میرے جسم میں گھسی جا رہی ہوں۔
مستانی صورتِ حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”ہوں ۔۔۔ تو ۔ تو وہی ہے ۔“ سکھ دیو جیسے پہچان گیا ۔”تو نے میرے جاپ میں
خلل ڈالنے کی کوشش کی تھی ۔“ وہ غرایا۔
”بیٹھ جایئے پنڈت جی ۔“ مستانی سکھ دیو کا مطلب سمجھ چکی تھی اور اب وہ اسے
بہلانا چاہتی تھی۔” آپ دور سے آئے ہیں ۔ مجھے باتوں میں خیال ہی نہ رہا۔“
” میں یہاں اپنا سواگت کرانے نہیں آیا ہوں۔“ وہ جارحانہ لہجے میں بولا۔
”مجھے جس گستاخ کی تلاش تھی ۔۔“
”چھوڑیے پنڈت جی۔“ مستانی نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔”یہ آپ جیسی شخصیت کے
شایان ِ شان نہیں ہے۔“
”تو کہتی ہے تو چھوڑے دیتا ہوں۔“ وہ نہایت غرور سے بولا۔” لیکن اسے سمجھا دے
، میرے منہ نہ لگے۔“
”بچہ ہے “ مستانی ہنس کر بولی۔” اور بچوں کی غلطیوں پر دھیان نہیں دیا
جاتا۔“
گو کہ مستانی نے یہ بات سکھ دیو سے کہی تھی لیکن اس میں میرے لیے بھی سرزنش
تھی۔
”میں بھی کہوں۔“ وہ آنکھیں مچکا کر بولا ۔” اس دھرتی پر کون ہے جو میرے آڑے
آرہا ہے ؟“ پھر اس نے مستانی کو بتایا کہ تین ماہ پہلے جب میں ایک جاپ کر رہا تھا
تو مجھے جھٹکے سے لگے۔ میں نے سوچا کہ اس دھرتی پر کون ایسی مہان شکتی والا ہے۔
میرا خیال تھا وہ تو ہی ہو سکتی ہے لیکن مجھے جلد ہی معلوم ہو گیا کہ تو ایسی
اوچھی حرکت کرنے والی نہیں ہے۔“
پھر وہ مجھے قہر آلود نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔” اگر میں کنڈل سے باہر
ہوتا تو یہ بے وقوف کچھ نہ کچھ کر گزرتا۔“
اس کی یہ بات سُن کر تب میری سمجھ میں آیا کہ تین ماہ قبل وظیفہ پڑھنے سے جو
دھند لائی شکل ابھری تھی وہ اسی سکھ دیو کی تھی اور حصار میں ہونے کی وجہ سے اس کی
صحیح شکل سامنے نہیں آسکی تھی۔
”چھوڑیئے ، گئی گزری بات کی شکایت کیا کرنا ؟“ مستانی نے مسکرا کر جواب
دیا۔” لیجئے ، کچھ کھا لیجئے ۔“ اس کے ساتھ ہی میں نے مستانی کے ہاتھوں میں پھلوں
سے بھری ہوئی تھالی دیکھی جسے اس نے سکھ دیو کے سامنے کر دیا۔
” میں شکایت کرنے نہیں آیا ہوں۔“ وہ اسی طرح غرور سے بولا۔” تو اسے سمجھا
دے۔ اگر یہ اللہ والا ہے تو میں بھی بھگوان کا پجاری ہوں ۔ اگر یہ کچھ جانتا ہے تو
میں بھی خالی ہاتھ نہیں ہوں۔“
سکھ دیو کی یہ بات میرے لیے چیلنج تھی بلکہ میرے ہی لیے نہین، مستانی کے لیے
بھی چیلنج تھی ۔ میرا خیال تھا کہ مستانی اس کا کوئی ٹھوس جواب دے گی لیکن وہ
بدستور ضبط سے کام لے رہی تھی۔
”آپ کیا ہیں، میں جانتی ہوں ۔“ مستانی نے چھپا طنز کیا۔” آپ کی حیثیت کیا ہے
اسے بھی بتا دوں گی ۔ لیکن کچھ کھا تو لیجیئے ۔“ مستانی نے مسکرا کر تھالی کی جانب
آنکھ سے اشارہ کیا۔
”میں بھوکا نہیں ہوں۔“ سکھ دیو نے روکھے پن سے کہا۔ شاید وہ مستانی کا طنز
سمجھ گیا تھا۔”میری آتما بھوکی نہیں ہے۔“ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اس طرح سے ہاتھ
اٹھایا کہ مستانی کے ہاتھ سے پھلوں کی بھری تھالی دور جا پڑی ۔ مستانی کے چہرے پر
اس غیر متوقع حرکت سے ناگواری کی لہر پیدا ہوئی لیکن دوسرے ہی لمحہ وہ در گزر کے
انداز میں بولی۔” افسوس! بھگوان کا پجاری بھگوان کی نعمتوں کو ٹھکرا رہا ہے ۔“
”اگر تجھے اس کا قلق ہوا ہے تو یہ لے ۔“ سکھ دیو اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے
کے بجائے ڈھٹائی سے بولا۔
اور پھر ان الفاظ کے ساتھ ہی زمین پر بکھرے ہوئے پھل خود بخود تھالی میں
آگئے۔
”پنڈت جی ! آپ اپنی طاقت کو انسانوں کی بھلائی میں کیوں نہیں صرف کرتے ؟“
مستانی نے شاید اس کی کرامت سے متاثر ہو کر کہا۔
”بھلائی !“ اس نے نہایت ہی کراہٹ آمیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔” اگر تو پاپ اور
پُن کو جانتی ہے تو چپ رہ۔ انسان کی بھلائی کے لیے کیا کرنا چاہیئے یہ میں جانتا
ہوں۔“
”اگر تم جانتے ہوتے تو یہ بات نہ ہوتی ۔“ میں نے پہلی بار ان دونوں کی گفتگو
میں مداخلت کی۔
دراصل اس کا جار حانہ انداز میرے لیے نا قابل برداشت ہو گیا تھا۔ میری بات
سنتے ہی وہ سانپ کی طرح پلٹا اور حقارت آمیز لہجہ میں بولا۔” چھوکرے اپنی اوقات
میں رہ میرے منہ نہ آ۔ تو نہیں جانتا کہ کس سے بات کر رہا ہے ۔“
”سکھ دیو ۔۔! “ مستانی نے اسے سخت لہجہ میں مخاطب کیا لیکن وہ جیسے ہی اس کی
جانب مڑا ، وہ نہایت میٹھے لہجے میں بولی۔” خدا کی ذات سب سے بڑی ہے ۔ وہی قادرِ
مطلق ہے۔“
”مجھے اس سے انکار نہیں۔“ سکھ دیو سنبھلا ۔” لیکن اس کی طرح کے چند لوگ ۔“
اس نے میری جانب اشارہ کر کے کہا ۔” اپنی طاقت پر گھمنڈ کرنے لگتے ہیں۔“
”نہیں ، نہیں ۔ غرور کرنا انسان کو زیب نہیں دیتا ۔“ مستانی نے بات ، اسی پر
گویا اُلٹ دی ” یہ طاقت انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے طاقت کا نشہ سب سے برُا نشہ
ہے ۔ انسان کو اس نشہ میں اپنا ہوش ہی نہیں رہتا ۔“
” اپنے چیلے کو سمجھا ۔“ سکھ دیو نے طنزیہ ہنس کر کہا ۔ ”ہوش میں رہ۔ مجھ سے
ٹکرانا اچھا نہیں۔ جب دونوں طقاتیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو نتیجہ سوائے بربادی کے
کچھ نہیں نکلتا ۔ مستانی نے جواب دیا۔
” تو مجھے سبق پڑھا رہی ہے ۔“ سکھ دیو نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
” نہیں ، میں تو تمہیں وہ بات بتا رہی ہوں جسے تم ابھی تک نہیں سمھے۔“
مستانی نے سنجیدگی سے کہا۔
”میں کیا سمجھتا ہوں اور کیا نہیں، اس کی تجھے چنتا کرنے کی ضرورت نہیں ۔“
اس نے کھسیا کر جواب دیا اور پیر پٹختا ہوا کوٹھری سے باہر نکل گیا۔
”یہی باطل قوتوں کا مالک سکھ دیو ہے جس سے آج تم اچھی طرح واقف ہو چکے ہو۔“
مستانی نے جتایا۔
” میں جانتا ہوں اور اس ہی لیے میں نے کہا تھا کہ باطل کا سر کچل دینا
چاہیئے۔“ میں نے کسی قدر غصہ سے کہا۔
” کسی کو ختم کرنا خدا کا کام ہے ۔“ مستانی نے مجھے سمجھایا ۔” جو اس زمین
پر آیا ہے اللہ کی منشا سے آیا ہے ۔ وہ اپنی تقدیر کا لکھا پورا کر رہا ہے ، ہمیں
اپنی تقدیر کا لکھا پورا کرنا ہے۔“
یہ کہہ کر اس نے مجھے پاس آنے کا اشارہ کیا ۔ جب میں قریب پہنچا تو اس نے
میرے چہرے اور سر پر پھونک ماری میرے دماغ میں سکھ دیو کے خلاف جو باتیں تھیں ایک
دم ختم ہوگئیں۔ میرا دماغ پھر پہلے کی طرح ہلکا ہو گیا تھا۔
”خان ! “ وہ میرے چہرے پر نظریں گاڑ کر بولی ۔” اب وقت آگیا ہے کہ تم اپنے
قدموں پر کھڑے ہو جاؤ۔ اب تمہاری کشتی کو تلاطم سے نکل جانا چاہیے کیونکہ میری
کشتی کنارے لگنے والی ہے ۔ اور ۔۔۔ اور۔۔ اس سے پہلے کہ میں ساحل پر اتروں ، تمہیں
راستہ بتا دینا میرا فرض ہے ۔ کیوں کہ تم میرے شریکِ حیات ہو ، ابدی دُنیا کے
ساتھی ہو۔“
یہ کہہ کر مستانی نے زور سے ”حق اللہ “ کا نعرہ لگایا اور ۔۔۔ اور اس پر جذب
کی کیفیت طاری ہوگئی۔
اس واقعہ کے بعد مستانی نے مجھے ذکر الٰہی میں ایسا مشغول کیا مجھے اپنا ہوش
ہی نہیں رہا۔
میں نے مستانی کے ساتھ سردیوں کے موسم میں یخ بستہ جیکب تالاب میں سینہ سینہ
پانی میں کھڑے ہو کر وظیفے پڑھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب میں سطح آب پر بھی زمین
کی مانند چل سکتا تھا ، بپھرے ہوئے دریا اور سمندر کو انگلی کے اشارے سے پر سکون
کر سکتا تھا اور چاہتا تو پر سکون دریا کو طوفانی سمندر میں تبدیل کر سکتا تھا۔
میں جس قدر بھی عرفان و آگہی کی منزلی طے کرتا تھا ، میری نظروں میں مستانی
کی قدرو منزلت بڑھتی جاتی تھی ۔ مستانی قطب تھی ، ولی تھی یا مجذوب میں کبھی نہ
جان سکا۔ اس میں تو تمام ماروائی صفات موجود تھیں۔ میں نے اسے فضا میں پرواز کرتے
، سطح ِ آب پر چلتے اور ایک ہی وقت میں کئی جگہ پر موجود دیکھا ۔ یہ باتیں اس کے
لیے بہت معمولی تھیں۔ مستانی اس بھی کسی بڑے مقام پر فائز تھی ۔ اس نے خبیث روحوں
کو بلیوں کی جسموں میں قید کر رکھا تھا ، حوریں اور نیک خواتین کی روحیں س کی
امامت میں نماز ادا کرتی تھیں ۔ وہ امام تھی ، خلیفہ تھی ، نائب تھی اور مخلوقات
میں اشرف تھی ۔ اس کی زندگی کا ہر سانس احکامِ الٰہی کے تابع تھا ، اس کی حرکت
مشیت کی پابند تھی۔
میں بتا چکا ہوں کہ سکھ دیو سے ملاقات کے بعد مستانی نے مجھ پر خاص توجہ
دینا شروع کر دی تھی اور اب جوں جوں یہ کائنات مسخر ہوتی جا رہی تھی ، میں عرفان ِ
حق کی منزل سے قریب ہوتا جا رہا تھا ۔ یوں مستانی نے مجھے کئی وظیفے بتائے لیکن
خاص طور سے آیتہ کریمہ کا وظیفہ پڑھنے کی تاکید کی۔ اس وظیفے کی فضیلت اور برکتیں
بیان کرنے کے لیے دفتر چاہیئے۔ مستانی کا یقین تھا کہ اس آیت ِ مبارکہ کے موکل سے
دنیا میں صرف گنتی کے چند آدمیوں ہی کا رابطہ قائم ہو سکا ہے اور وہ بھی اس سے
صحیح کام نہ لینے کی بدولت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ آیہ کریمہ کی برکتوں سے صرف
وہی لوگ فیضیاب ہو سکتے ہیں جو فنا فی اللہ کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ آیتِ
کریمہ کا چلا پورا کرنے کے لیے اس نے مجھے ویرانے میں چلے جانے کو کہا ۔ اور پھر
میں غاروں کی طرف نکل گیا۔ یہاں ایسا ویرانہ تھا کہ جانور تک نظر نہیں اتے تھے۔
ایک دن میں ایک پہاڑی چشمہ کے کنارے بیٹھا وظیفہ میں مشغول تھا کہ یکا یک
آسمان سے روشنی کی ایک موتی سی دھار میرے سامنے زمین پر پرنے لگی ۔ میں نے اور
تیزی سے وظیفہ پرھنا شروع کر دیا۔ میری نظریں روشنی کی دھار پر جمی ہوئی تھیں ۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس دھار میں ایک سر و قد شکل نمودار ہوئی۔ اس نے سفید
دودھیا رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ شکل نمودار ہوتے ہی فضا میں السلام علیکم کی
نہایت ہی دل کش آواز بلند ہوئی۔
میں نے سلام کا جواب دیا تو وہ نورانی شکل مجھ سے مخاطب ہوئی ۔” اے بندہ خدا
! کیا چاہتا ہے؟“
میں نے لمحہ بھر کو سوچا اور پھر بولا۔”آپ کون ہیں ؟ کیا آپ اپنے بارے میں
بتانا مناسب سمجھیں گے؟“
”تو جس مقدس کلام کو عرصہ سے پڑھ رہا ہے میں اس ہی کلام کا موکل ہوں۔“ اس
نورانی شکل نے اپنا تعارف کرایا۔”خداوند قدوس کا یہ کلام جس کی تو گردان کرتا ہے
اپنے الفاظ اور معنوں کے ساتھ حق تعالیٰ کے حضور میں مقبول ہے۔ اس کلام کی برکتوں
کا میں محافظ ہوں۔ اور ذاتِ الٰہی کی طرف سے مجھے اختیار حاصل ہے کہ جو کلام کو
مسلسل پڑتھا رہے میں اس کی برکتیں نازل کروں۔ اگر وہ کسی مشکل میں گرفتار ہے تو اس
پر سایۂ رحمت ِ خداوندی کروں۔“
”آپ کا نام کیا ہے؟“ میں نے پوچھا ۔
”نام۔۔۔ اللہ کے غلاموں کے نام نہیں ہوا کرتے۔“ اس نورانی شکل نے جواب دیا۔”
تو دنیا میں پہچان کا ذریعہ ہیں۔“
دنیا کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں عرش کا خیال آیا اور میں نے بے تابی سے
پوچھا۔” کیا آپ مجھے عرش ِ معلّی تک لے جا سکتے ہیں؟“
”اے بندہ خدا ! “ اس نورانی شکل نے جواب دیا۔” عرش ِ معلیٰ تک پہنچنا ہر کس
و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔ انوارِ الٰہی کی تجلی دیکھنا صرف وہی نسبی آخر
الزماں ﷺ کو ان کی نسبت اور ہمت سے حاصل ہوئی ۔ تجھے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے
لیے نبی کریم ﷺ سے عشق کرنا ہو گا ۔ان کے نقشِ قدم پر چل کر اللہ کی مخلوق کی خدمت
کرنا ہوگی۔“
مجھے اس جواب سے بہت مایوسی ہوئی کہ میں اس قابل نہیں ہوں ۔ مگر پھر سوچا کہ
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حق تعالیٰ کی تجلی دیکھ کر ہوش میں نہیں رہ سکے تو میری
کیا حیثیت ہے ۔
”آپ اور کیا کر سکتے ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”ذاتِ الٰہی کی جانب سے عطا کی گئی برکتیں اور رحمتیں نازل کر سکتا ہوں ۔“
اس نے مختصر جواب دیا۔
یہ سن کر مجھے خیال ہوا اس کے پاس جو کچھ ہے اللہ کا ہی عطا کردہ ہے۔ جب حق
تعالیٰ اسے نواز سکتا ہے تو مجھے بھی وہ نواز سکتا ہے۔ ساری نعمتیں اور برکتیں
مجھے حق تعالیٰ سے وابستہ کر دینی چاہیئں۔ اس خیال کے اتے ہی مجھ پر بے خودی طاری
ہونے لگی۔ میں نے اس نورانی شکل کو جانے کا اشارہ کیا اور ”حق اللہ“ کی ضرب لگانے
میں مشغول ہو گیا۔
اس طرح دس سال گزر گئے۔
اور پھر ایک دن مستانی نے مجھے واپس آنے کا حکم دیا میں ویرانوں کو چھوڑتا ،
پہاڑوں اور دریاؤں کو عبر کرتا ہو اس کے قدموں میں پہنچ گیا۔
لیکن ، جب میں پہنچا تو وہ سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی ۔ وہ اپنے
ٹوٹے ہوئے پلن پر لیٹی گھاس پھوس سے بنی ہوئی چھت کو تک رہی تھی۔
”خان!۔۔۔ تم۔۔ تم آگئے۔“ وہ نقاہت سے بولی ۔” یہ بہت اچھا ہوا۔“
اپنی محسنہ اپنی رفیق حیات کو ایسی حالت میں دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا ۔ میں
نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر کہا۔” تم۔۔۔ تم ۔۔ تمہاری حالت
کیا ہو گئی ہے؟“
”خان ! تقدیر کے آگے بس نہیں چلتا ۔“ وہ آہستہ سے بولی ۔” مشیت ِ ایزدی یہی
ہے کہ اب ہم تم سے جدا ہو جائیں۔“
” نہیں ۔۔ نہیں۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔“ اور میں نے اپنا سر اس کے سینے پر
رکھ دیا۔
”صبر کرو خان۔۔۔ صبر کرو ! منشائے الٰہی کے سامنے سر جھکا دینا ہی بندگی ہے
۔“ وہ پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیر تے ہوئے بولی۔” یہ جسم خاکی ہے ، خاک میں مل
جانا ہی اس کا مقدر ہے تمہیں خوش ہونا چاہیئے۔“ وہ حسبِ عادت مسکرا کر بولی۔” اب
میں حقیقی دنیا میں جا رہی ہوں اس دنیا میں جہاں میرے آقاﷺ اپنے غلاموں کو بغیر
کسی پردہ کے اپنے دیدار سے سر فراز فر ماتے ہیں۔“
” لیکن ۔۔۔ پھر میرا کیا ہوگا؟“ میں نے بھرائی ہوئی آواز سے پوچھا ۔ جدائی
کے تصور سے میرا دل بھر آیا تھا۔
”جہاں میں جا رہی ہوں ، وہیں تمہیں بھی آنا ہے ۔“ مستانی نے مجھے سمجھایا ۔”
اس جہاں تک پہنچنے کی راہیں میں نے تمہیں بتا دی ہیں۔ اگر تم نے اپنے نفس پر قابو
رکھا تو جلد ہی منزل پا لو گے۔“
”مستانی ! میں نے بے قرار ہو کر کہا ” تیرے بغیر اس دنیا میں میرا جی نہیں
لگے گا۔“
” یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے ۔“ اس نے مجھے پیار بھری نظروں سے دیکھ
کر کہا۔” خان ! تم صرف ذاتِ الٰہی سے دل لگائے رکھنا ۔ میں اُس جہاں میں تمہارا
انتظار کروں گی۔ خبر دار ۔“ وہ انگلی اٹھا کر نصیحت کرتے ہوئے بولی۔” اس کوٹھری کو
نہیں چھوڑنا دکھی لوگوں کی خدمت کرتے رہنا ۔ حق تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی خدمت کرنے
والے بندوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔“۔
ابھی مستانی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ اسے کھانسی کا زبردست دورہ پڑا۔ میں
دوڑ کر کونے میں پرے ہوئے مٹکے کی طرف گیا لیکن وہ نہ جانے کب سے خالی پڑا ہوا
تھا۔ میں نے مٹی کا پیالہ لیا اور باہر تالاب کی طرف لپکا۔ جب میں پانی کا پیالہ
لے کر آیا تو حیرت زدہ رہ گیا ۔ پلنگ خالی تھا اور ماضی کی طرح مستانی ایک بار پھر
میری نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔
”لیکن ۔۔! میں بھی غیر مرئی طاقتوں کا مالک تھا ۔ میں نے لمحہ بھر کو سوچا
کہ مستانی کہاں جا سکتی ہے اور پھر ۔۔۔ پھر میں نے اپنی روح کو جسم سے آزاد کیا۔
اور فضائے بسیط کی جانب محوِ پرواز ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ اگر وہ عالمِ برزخ کی
طرف جا رہی ہے تو میں نہ صرف راستہ میں ملاقات کر لوں گا بلکہ اسے پانی بھی پلا
دوں گا۔
اور جب میں آسمان کے قریب پہنچا تو سبز لباس میں ملبوس دربانوں نے آگے جانے
سے روک دیا ۔ اس حد کو موت کے بعد ہی پار کیا جا سکتا ہے۔
ناچار میں واپس زمین کی طرف پلٹا اور جب زمین کے قریب پہنچا تو میں نے ایک
بڑی سی حویلی کے اندر ایک نہایت ہی انسانیت سوز منظر دیکھا۔
میں نے دیکھا۔
حویلی کے صحن میں ایک دوشیزہ نہایت ہی خوف اور پریشانی کے عالم میں اِدھر سے
اُدھر بھاگتی پھر رہی ہے ۔ اس کے پیچھے دو نہایت خونخوار قسم کے کتّے دوڑ رہے ہیں۔
دوشیزہ کے قریب پہنچ کر اسے بھنبوڑنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا لباس تار تار ہو
چکا تھا ۔ جسم خراشیں تھیں۔ اور ان سے خون رِس رہا تھا میں ذرا اور قریب آیا تو
دیکھا ایک ادھیڑ عمر کا شخص صحن کی آخری دیوار کے ساتھ ایک کرسی پر داہنا پاؤں
رکھے قہقہے لگا رہا ہے ۔ اس کے ایک ہاتھ میں شراب کا گلاس ہے اور دوسرے ہاتھ میں
کتوں کی گردنوں سے بندھی ہوئی رسیاں ہیں جنہیں وہ ڈھیلا کرتا تھا تو کتے دوشیزہ سے
لپٹ جاتے تھے اور جب دوشیزہ خوف زدہ ہو کر چیختی تھی ، وہ قہقہے لگاتا تھا اور
وقتی طور سے کتوں کی رسیاں کھینچ لیتا تھا ۔ جب دوشیزہ حواس کر کے بھاگنے کی کوشش
کرتی تو پھر یہی عمل دوہراتا تھا۔
میں اب حویلی کی چھت پر پہنچ چکا تھا ۔ میں نے غور سے دیکھا ۔ وہ زمین دار
کا بیٹا اصغر تھا۔
درندگی کا یہ کھیل میری برداشت سے باہر تھا ۔ اس معصوم لڑکی کی حالت نے میرا
دل ہلا دیا۔ میں نے ”حق اللہ “ کا نعرہ لگایا اور صحن میں اصغر کے سامنے کود پڑا۔
”کون ہو تم۔۔؟ وہ اس طرح اچھلا جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہو۔ شراب کا گلاس
اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
”اللہ کا بندہ“ میں نے ہنس کر جواب دیا ۔
”تمہیں ، کوٹ میں آنے کی جرات کیسے ہوئی؟“ میری اس اچانک آمد پر غصہ سے
بولا۔
( خیال رہے کوٹ ، مقامی زبان میں اس اونچی سی دیوار کو کہتے ہیں جو برے بڑے
مکانوں کے گرد قلعہ کی فصیل کی طرح بنائی جاتی ہے اور اس چہار دیواری کے اندر
پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔)
”جانتے ہو، میں کون ہوں ؟“ وہ نہایت ہی غصہ کی حالت میں بولا۔
”تم ، فقط مٹی کا ڈھیر ہو ! “ میں نے اطمینان سے جواب دیا ۔” تم اپنے شیطانی
کھیل کی سزا کے لیے تیار ہو جاؤ۔“
یہ کہہ کر میں نے اس کی طرف پھونک ماری۔ وہ چیخ کر زمین پر گرا اور لوٹنے
لگا اس کے شکاری کتے دم دبا کر حویلی کے اندر بھاگ گئے ۔ میں نے دوشیزہ کی طرف
دیکھا وہ دونوں ہاتھوں سے سینہ چھپائے حویلی کے بڑے دروازے کی جانب دوڑ رہی تھی ۔
میں نے حق اللہ کہہ کر انگلی کا اشارہ کیا۔ بڑا سا آہنی دروازہ کھل گیا اور دوشیزہ
بھاگتی ہوئی اس دروازہ سے باہر نکل گئی۔ میں نے اصغر کی طرف دیکھا ۔ وہ زمین پر
آنکھیں بند کیے بے سدھ پڑا تھا۔
اب میں نے وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا۔ لہذا فوراً ہی واپس اپنی کوٹھری
میں آگیا۔ اس واقعہ سے میرا سر نہ جانے کیوں بھاری سا ہو گیا۔