Topics
مستانی کے اس انکشاف نے مجھے مزید حیرت زدہ کر دیا۔ میں چند لمحہ سکھ دیو کے
بارے میں سوچتا رہا۔” اچھا مجھے بتاؤ میں کس طرح اپنی روح سے کام لے سکتا ہوں ۔“
میں نے بڑے ہی جوش سے پوچھا۔
”اس لیے ضروری ہے کہ پہلے خود کو دھو کر صاف کر لیا جائے۔“ مستانی بولی۔
”کیا مطلب؟“ میں نے پوچھا ۔
” جس طرح مادی چیزوں پر میل چڑھ جاتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے بھاری ہو جاتی
ہیں ، یہی حال رُوح کا ہے۔“ مستانی نے بتایا۔” جب تک اسے بھی نہ دھو لیا جائے وہ
بھری رہتی ہے اور بندے کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ گوشت پوست کا جسم رُوح کا
لباس ہے ، ایسا لباس جس کہ بندہ جب چاہے تبدیل کر سکتا ہے۔“
”اور ۔۔دھلنے کے بعد روح ہلکی ہو جاتی ہے۔“ میں نے شش وپنچ سے کہا۔
”ہاں ، دُھلنے کے بعد روح ہلکی ہو جاتی ہے ۔“ مستانی نے میری تائید کی۔” اور
جب چاہے وہ لباس اتار کر جہاں اس کا دل چاہے جا سکتی ہے۔“
”لیکن اُسے دھونے کا طریقہ کیا ہے۔؟“ میں نے بے چینی سے پوچھا۔
مستانی نے سنجیدگی سے کہا۔”حق تعالیٰ کو عجز وانکساری حد درجہ پسند ہے۔ جب
کوئی بندہ اس کے حضور میں عجزو انکساری سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتا ہے تو اس
کا رحم نازل ہوتا ہے اور بندے کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کر دیا جاتا ہے۔
توبہ گناہوں کو اس طرح دھوتی ہے جس طرح میل کو صابن کاٹ دیتا ہے ۔“ پھر والہانہ
انداز سے بولی۔” میرا محبوب توبہ ضرور قبول کرتا ہے۔“
”اس کا طریقہ کیا ہے؟ میں نے اس کی بات سمجھتے ہوئے پوچھا۔
” اس کا طریقہ۔۔۔“ مستانی نے مجھے طریقہ بتانے کے بعد کہا کہ ”جب تمہیں اللہ
ھو کے ورد کے ساتھ کامل یکسوئی حاصل ہو جائے تو حق تعالیٰ کے حضور میں سجدہ شکر
ادا کرو۔ اس سے در گزر اور معافی کی التجا کرو۔ اس طرح سے نفس صاف اور روح پاک ہو
جاتی ہے۔“
”لیکن یہ کیسے معلوم ہوگا کہ توبہ قبول کر لی گئی ہے، غلطیوں کو معاف کر دیا
گیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔
”خان! تمہیں ہر بات کی جستجو رہتی ہے ۔“ وہ مسکرا کر بولی ۔ پھر سمجھاتے
ہوئے کہا۔
”جب تمہارا نفس پاک ہو جائے گا اور روح منور ہو جائے گی تو وجود ِ الٰہی کا
احساس ہوگا اور یہی تمہاری توبہ قبول ہونے کی نشانی ہوگی۔
اتنا کہہ کر مستانی چلی گئی۔ میں کچھ دیر تک اس کی باتوں پر غور کرتا رہا۔
اور پھر ۔۔پھر۔۔ اللہ ھو ، اللہ ھو ، اللہ ھو کا ورد میری زبان پر جاری ہوگیا۔
مستانی نے مجھے جس خاص طریقہ سے اللہ ھو کا ورد کرنے اور سجدہ شکر بجا لانے
کو کہا تھا میں نے اس طریقہ پر عمل کیا۔ یقین جانیے رات کے سناٹے میں جب اللہ ھو
کا ورد کرتا تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں قادر ِ
مطلق کے حضور میں سجدہ ریز ہوں اور ا س کیفیت۔۔۔اس حالت میں مجھے اپنا ہوش بھی
نہیں رہتا تھا۔ وجودِ باری تعالیٰ کا احساس ہوتے ہی میں اور زیادہ تیزی سے اور
زیادہ جوش سے اس کے نام کی گردان شروع کر دیتا۔ اس طرح سے مزید ڈیڑ سال کا عرصہ
اور گزر گیا۔
ایک دن جب کہ میں تالاب کے کنارے اللہ ھو اللہ ھو کر رہا تھا تو اپنے سامنے
مستانی کو موجود پایا۔ وہ تحسین آمیز نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔” خان! یوں
تو حق تعالیٰ تک پہنچنے کی کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے محبوب آخر
الزماں نبی کریم ﷺ کی محبت کو جو درجہ حاصل ہے اس کے سامنے کسی بھی عمل وہ درجہ
حاصل نہیں ہے جو عشقِ رسول کو حاصل ہے۔“
”یعنی ، عبادت کوبھی ؟“ میں نے پوچھا۔
”عبادتِ الٰہی کیا ہے؟“ اس نے مجھ سے سوال کیا پھر خود ہی بولی ۔” دراصل
عشقِ رسول اسی عبادت ِ الٰہی کی بنیاد ہے۔ عشقِ رسول سے یہ مطلب ہر گز نہیں کہ
مسلمان صرف ان کے نام کی مالا جپتا رہے۔“
”تو پھر ؟“ میں نے سولاً کہا۔
”عاشق اور سچے عاشق کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے محبوب کے ہر حکم کو بلاتا نل
بجا لائے۔“ مستانی نے بتایا۔” اس کے اشاروں کو سمجھتے ہوئے تعمیلِ حکم کرے۔ عاشق ِ
رسول کا فرض ہے کہ وہ احکام الٰہی کو پورا کرے اور احکامِ الٰہی قرآن میں موجود
ہیں۔“
”یہ تو شریعت کی بات ہوئی۔“ میں نے کہا
”میں بھی تمہیں شرعی حدود سے باہر نہیں رہنے دینا چاہتی ہوں۔“ وہ سنجیدگی سے
بولی۔” میں چاہتی ہوں کہ تمہارا رواں رواں رسول ﷺ کی شریعت کا پابند ہو جائے ۔ یاد
رکھو!“ وہ حسبِ عادت انگلی اٹھا کر بولی۔” جب تک تم مذہب کو پورا لباس زیب تن نہیں
کرو گے تم کچھ حاصل نہیں کر سکو گے۔“
”مجھے شریعت کا علم نہیں ہے۔“ میں نے جواب دیا۔” میں دنیا پہلے ہی چھوڑ چکا
ہے۔“
”جو لوگ دین کی خاطر خود کو وقف کر دیتے ہیں، جو لوگ اصحابِ صفہ کی پیروی
کرتے ہیں وہی لوگ عارف کہلاتے ہیں۔“ مستانی ایک دل آویز مسکراہٹ سے بولی۔
”میں نے اصحابِ صفّہ کی پیروی کہاں تک کی ہے ، مجھے معلوم نہیں۔ دین کیا ہے
اور کیا چاہتا ہے ، مجھے اس کا بھی علم نہیں۔“ میں نے جواب دیا۔
”علم“ وہ فلسفیانہ انداز میں بولی ۔” علم کسی چیز کی حقیقت جاننے کو کہتے
ہیں۔” کسی چیز کا باطن اس کی حقیقت اور اصلیت ہوتی ہے۔ جو کہ ظاہر پر فوقیت رکھتی
ہے اور دین کا باطن عارف کے سینے میں ہوتا ہے۔“
”اس کا مطلب ہے عارف دین سے آگاہ ہوتا ہے ۔“ میں نے پوچھا۔
”بالکل بالکل “ وہ پیشانی پر آئی بالوں کی ایک لٹ ہٹا کر بولی۔” دین کا
ظاہری ، علم کتابوں میں ہوتا ہے جسے پڑھنے کے لیے آنکھیں اور زبان چاہیئے۔ جب کہ
دین کے باطنی علم کے لیے دل کی بصیرت اور رُوح کا ادراک چاہیئے۔“
دین کے بارے میں مستانی کی بصیرت افروز باتیں سُن کر میرے دل میں بھی دین کا
باطن جاننے کا شوق ہوا اور اس ہی شوق کے تحت میں بولا۔” تو پھر تم مجھے دین کے
باطنی علم سے آگاہ کرو۔“
”اس کے لیے استادِ کامل ہونا ضروری ہے۔“ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔” استاد
کامل کی راہبری سے منزل آسان ہو جاتی ہے۔“
”لیکن ایسا استادَ کامل ملے گا کہاں؟ اس کی پہچان کیا ہے؟ “ میں نے پوچھا۔
اور میرے اس معصومانہ سوال پر وہ زور سے ہنس کر بولی۔” دین ِ فطرت کو باطنی
نگاہ سے دیکھنے والوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ خود میں مگن رہتے ہیں لیکن اگر کوئی ان
سے رہبری حاصل کرنا چاہے تو وہ دنیا ئے وحدت کی جلوہ گری کی خاطر خود بے حجاب ہو
جاتے ہیں۔“
اس کے ساتھ ہی بالوں کی وہی لٹ دوبارہ اس کی پیشانی پر آگئی۔ میں غیر ارادی
طور سے ہاتھ آگے بڑھایا اور۔۔۔ اور نہ جانے مجھے کیا ہوا ۔۔ میرا ہاتھ اس کی
پیشانی پر جا کر رُک گیا۔ میری نگاہیں اس کے چہرے پر جم کر رہ گئیں۔ مستانی مجھے
بظاہر حواس باختہ اور معمولی شکل و صورت کی نظر آتی تھی ۔ لیکن درحقیقت وہ نہایت
ہی حسین و جمیل دوشیزہ تھی۔ اس کے حسن کی مثال دنیا کی حسین سے حسین شے سے بھی
نہیں دی جا سکتی اور شاید یہ اس کے لاثانی حسن ہی کا سماں تھا کہ میں محوِ حیرت سے
اُسے دیکھ رہا تھا۔
میرے دل میں شدت سے اسے چاہنے کی خواہش پیدا ہوئی۔
مستانی نے میرا ہاتھ پیشانی سے ہٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر
کہا۔”خان! یہ نسف بڑا ہی ظالم ہے۔ حق تعالٰ تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی نفس
ہے۔ جب تک انسان اسے قابو نہیں کرتا ، اس کا شکار رہتا ہے۔“
مستانی کی بات سن کر میں نے شرمندگی سے گردن جھکا لی۔
”عارف بننے کے لیے پہلے اپنے نفس کا جاننا پڑتا ہے۔“ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر
بولی۔” جو لوگ اس کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں عہی حق تعالیٰ کے برگزیدہ بندے
کہلاتے ہیں۔“ مستانی نے کہا اور کوٹھری میں چلی گئی۔ میں اپنی حرکت پر شرمندہ تھا
اور اپنے نفس کی سر کشی پر نادم۔
حقیقت یہ ہے کہ مستانی اول دن سے ہی مجھے پسند تھی اور مستانی اوّل سے ہی
مجھے جہاں اور باتوں کی ترغیب دیتی تھی ، وہیں نفس کی بھول بھلیوں سے آزاد ہونے کا
درس بھی دیتی تھی۔ اگر میں اپنے نفس کی کیفیت بیان کر دوں تو اس داستان کو پڑھنے
والوں کی ساری دلچسپی یہیں ختم ہو کر رہ جائے گی۔ یوں سمجھیئے کہ نفس اور اس
داستان کا چولی دامن کا ساتھ ہے بہرحال دوسرے دن صبح ہی صبح جب میں تالاب کے کنارے
بیٹھا ہاتھ منہ دھو رہا تھا، مستانی بھی قریب ہی بیٹھی بالوں میں کنگھی کر رہی تھی
۔۔ کہ اچانک بول ” دیکھو ، وہ کیا ہے؟“
میں نے دیکھا تالاب کی سطح پر ہاتھی سے زیادہ قوی ہیکل ایک جانور کھڑا ہم
دونوں کی جانب خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” یہ ۔۔یہ۔۔ یہاں کیسے آگیا؟“ میں نے گھبرا کر پوچھا۔
”یہ تو ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے ۔“ مستانی نے جواب دیا۔” یہ تیرا نفس ہے خان ،
جو آج بھی تیرے ساتھ ہی ہے لیکن یہ اللہ ہو کی برکت کا نتیجہ ہے کہ تو نے اسے قابو
میں کرنا سیکھ لیا ہے۔“
”میرا نفس ۔۔۔؟“ میں اس ہشت پا پر نظریں جمائے ہوئے بڑ بڑایا اور پھر وہ
ہیبت ناک جانور آہستہ آہستہ تالاب کی تہہ میں بیٹھتا چلا گیا۔
”یہ نفس ہی شیطان ہے خان۔“ مستانی اپنے بالوں کا جوڑا بناتی ہوئی بولی۔” جو
کہ خاک کے پتلے کو خاک ہی میں ملانے کے درپے رہتا ہے لیکن جو اس پر قابو پا لیتا
ہے اُسے خدا کا قرب حاصل ہو جاتا ہے اور جو خدا کے منظور ِ نظر ہوتے ہیں لامحدود
طاقتوں کے مالک ہوتے ہیں۔“
”تم صحیح کہہ رہی ہو۔“ میں نے جواب دیا۔
”طاقت سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار ہے اور روحانی ہتھیار کے سامنے مادی ہتھیار
ہیچ ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے منظور نظر بندوں کو یہ طاقت صرف اس کے احکام کی تعمیل
بجا لانے کے لیے استعمال کرنے کا اختیار دیتا ہے۔“
یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی ۔ میں بھی ساتھ ہی اٹھ گیا۔
”اُدھر اونچائی کی طرف دیکھ۔“ اس نے معصوم شاہ کلہوڑا کے مقبرہ والی پہاڑی
پہ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔” اس دنیا میں جہاں انسان بستے ہیں ، جہاں میں ہر
روز جاتی ہوں وہ دنیا فانی وہ دنیا مادّی ہے لیکن اس دنیا کی حرص و طمع میں انسان
کا کاندھے سے کاندھا چھل رہا ہے۔ یہ انسان جو گروہ در گروہ رہنا پسند کرتا ہے۔ یہ
سب فانی شے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔“ پھر وہ سانس لینے کو رکی اور دوبارہ بولی ۔”
اگر اس دور میں کوئی دوسرا ان کی راہ میں آجائے تو یہ انجام سے بے خبر ہو کر اُسے
روند ڈالتے ہیں یہ سب ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہیں۔“
میں کیا جواب دیتا۔ خاموشی سے گردن جھکائے سنتا رہا۔
”میں روز شہر جاتی ہوں۔“ وہ نیم کے ایک چھوٹے سے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر
بولی۔” اس کائنات کے خالق کا یہی ھکم ہے۔ میرے محبوب کی یہی مرضی ہے کہ میں اس شہر
کے مظلوموں کی مدد کروں ۔ تو نہیں جانتا خان۔“ وہ سرد آہ بھر کر بولی ۔” میری آنکھیں
ہر روز کیسے کیسے ظلم اور کیسی کیسی نا انصافیاں دیکھتی ہوں۔“
اتنا کہہ کر وہ لمحہ کو رُکی ۔ میں نے اس کی آنکھوں میں نمی دیکھی۔ شاید اس
کا دل بھر آیا تھا۔
پھر اس نے نیم کے درخت سے ایک شاخ توڑی اور اس کے پتے چباتی ہوئی بولی۔” میں
دن بھر پان کھا کر گزارا کرتی ہوں اس لیے کہ مجھے ان میں سے کسی کی روزی حلال نظر
نہیں آتی۔ بیوپاری ملاوٹ کر کے ناقص مال فروخت کرتے ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے دکاندار
جھوٹ بول کر دولت کے انبار لگانے میں مصروف ہیں۔ ملازم پیشہ دیانت داری سے اپنی
خدمات انجام نہیں دیتے۔ جس جگہ محنت کرتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں اس ہی ذریعہ رزق کو
نقصان پہنچانے سے بھی نہیں چونکتے۔ وہ سب نفس کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں ۔ وہ نفس
کی دنیا ہے۔“
”ہاں ، وہ نفس کی دنیا ہے۔“ میں نے اس کی تائید کی۔
”ایک دنیا وہ ہے جہاں نفس کی ہنگامہ آرائیاں ہیں۔“ وہ بولی ”اور ایک دنیا یہ
ہے جہاں کوئی ہنگامہ نہیں ، سکون ہی سکون ہے۔“
”اس دنیا کا اُس دنیا سے کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔“ میں نے جواب دیا۔
”تو ٹھیک کہتا ہے خان ۔“ مستانی نے مسکرا کر کہا ۔” یہ دنیا میرے محبوب کی
دنیا ہے اور اس دنیا میں رہنے والے اس کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتے ۔“ پھر گہری
سوچ میں بولی ۔” مجھے اپنے محبوب کی ہر بات ماننا ہے اس کے ہر حکم کو پورا کرنا ہے
اور اس کا یہ حکم ہے کہ۔۔۔“
اتنا کہہ کر وہ نیم کی شاخ سے زمین کریدنے لگی۔
میں کچھ دیر اس کی باتوں پر غور
کرتا رہا۔ جب کچھ سمجھ میں نہی ایا تو بولا۔” میں نہیں جانتا کہ تم کس علم کی بات
کر رہی ہو؟ میں شریعت اور طریقت کے علم کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوں۔“
”تو نے سکھ دیو کو دیکھا ہے؟“ اس نے پوچھا۔
میں اقرار کے انداز میں گردن ہلا دی۔
”وہ ۔۔ مجھ سے شادی۔۔۔کرنا ۔۔۔ چاہتا ہے۔“ مستانی نے جھجکتے ہوئے کہا۔ حیا
کی سُرخی اس کے چہرے پر پھیل گئی۔ اس نے اپنی گردن جھکا لی۔ سکھ دیو کا نام سنتے
ہی مجھے جھٹکا سا لگا۔پھر مستانی کے اس انکشاف سے کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے،
میرے دماغ میں ہلچل سی مچ گئی۔
سکھ دیو کی اچانک آمد اور ببول کے درخت کے نیچے بابا جی سے اس کی گفتگو ساری
بات میری سمجھ میں آگئی۔
رقابت کی آگ ایک دم جل اٹھی۔ میرے ہوتے ہوئے اس دُرِ نایاب کو کون حاصل کر
سکتا ہے۔ مستانی میری اور صرف میری ہے۔
نفس نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میں غصہ سے بولا۔۔ ”سکھ دیو کی
یہ مجال اس گستاخ کی یہ جرات وہ۔۔۔۔ ہرگز ہرگز نہیں تم سے شادی کر سکتا۔“
”کیوں؟“ مستانی نے اس ہی طرح گردن جھکائے ہوئے پوچھا۔
”کیوں ۔۔ اور اس کیوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ میں چند لمحہ سوچتا
رہا کہ مستانی کو کیا جواب دوں۔ بالآخر میں نے ہمت کر کے ڈرتے ڈرتے کہا ” اس لیے
کہ تم میری مشعلِ راہ ہو۔“
”پسند تو مجھے سکھ دیو بھی کرتا ہے۔“ مستانی نے گردن اٹھا کر کہا۔
ایک بار پھر میں لاجواب ہو گیا۔ مستانی کی اس بات کا میرے پاس کوئی جواب
نہیں تھا میں گردن جھکا کر سوچنے لگا۔ آخر مستانی کا مطلب کیا ہے؟
”خان !“ وہ مجھے سوچ میں گم دیکھ کر بولی۔” کسی کو چاہنے کا ہر کسی کو حق
ہے۔ اگر آج تم مجھ پر اجارہ داری دکھا سکتے ہو تو کل تم خدا کو بھی اپنا ہی سمجھو
گے اور پھر تم ہر شے پر قبضہ کرتے چلے جاؤ گے۔“
مستانی کی بات سن کر میں اس کا چہرہ تکنے لگا ۔ اس نے بڑی ہی سچی ، بڑی گہری
بات کہی تھی۔ اس گیری کی مثال شاید ہی اس سے اچھی کوئی اور ہو۔
”یہی نفس ہے خان۔“ اس نے مسکرا کر کہا ۔” اگر تمہیں اپنے نفس پر قابو ہوتا
تو کہہ سکتے تھے کہ تمہاری مرضی۔ اس نفس کو اپنے قابو میں کرو خان!“
مستانی نے آخری جملہ کہا اور نیم کی شاخ میری طرف اچھال کر تیزی سے کوٹھری
کے اندر چلی گئی۔
میں نیم کے نیچے کھڑا اس کی باتوں پر غور کرنے لگا۔ مستانی کی باتیں ،
مستانی کی شخصیت سب کچھ میری سمجھ سے بالا تر تھیں۔ پھر میں نے بے خیالی میں ہاتھ
میں پکڑی ہوئی شاخ سے دو تین پتے توڑے اور منہ میں ڈال لیے۔ نیم کڑوا ہوتا ہے اس
کے پتوں کو بھی کڑوا ہی ہونا چہایئے لیکن۔۔ نہیں یہ پتے تو میٹھے تھے۔
میں کبھی ہاتھ میں پکڑی ہوئی شاخ کو اور اس کے پتوں کو دیکھتا اور کبھی اس
نیم کو دیکھتا جس کے نیچے مستانی کھڑی تھی!
مستانی کا منشا کیا تھا۔ شاید وہ چاہتی تھی کہ میں اپنے نفس پر قابو حاصل کر
لوں۔
میرا نفس
مستانی کے ساتھ رہتے ہوئے مجھے ایک عرصہ گزر چکا تھا اور اس عرصہ میں کبھی
کبھی اس حسین و جمیل دوشیزہ کو چاہنے کی خواہش شدت سے پیدا ہو جاتی تھی۔ لیکن۔۔۔
میں فوراً ہی اپنے نفس پر قابو پا لیتا اور سفلی جذبات کو ذہن سے جھٹک دیتا تھا۔
لیکن اب سکھ دیو میرے دماغ میں ایک رقیب کی حیثیت سے سما چکا تھا۔
میں سمجھتا تھا کہ اس ویرانے میں بابا جی کے علاوہ کوئی تیسرا نہیں ہے۔ لیکن
مستانی کے اس انکشاف نے کہ سکھ دیو اس سے شادی کرنا چاہتا ہے ، مجھے نہ صرف تیسرے
شخص کی موجودگی کا احساس دلا دیا تھا بلکہ رقابت کی آگ میں جھونک دیا تھا۔ حالانکہ
اس طویل مدت میں صرف ایک بار ہی میں نے سکھ دیو کو دیکھا تھا لیکن مجھے یوں محسوس
ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی لمحہ کسی بھی وقت آئے گا اور مستانی کو لے جائے گا۔
سکھ دیو کی یہ برتری اور مستانی سے جدائی کا تصور میرے لئے ناقابلِ برداشت
تھا۔
اب بجائے اس کے مستانی کی ہدایت کے مطابق اپنے نفس پر قابو پانے کی کوشش
کرتا ، میں خود ہی نفس کا غلام بن کر رہ گیا اور اس توہ میں رہنے لگا کہ سکھ دیو
کب آتا ہے ۔ مجھے شدت سے سکھ دیو کا انتظار تھا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ اجائے تو اس
سے دو ٹوک بات کر لی جائے اس ہی دماغی خلفشار میں اللہ ہو کے ورد سے میں غافل ہوتا
چلا گیا۔ اب میرا دل ذکر الٰہی کرنے کو بھی نہیں چاہتا تھا اور اگر کبھی بادلِ
نخواستہ گردان شروع بھی کر دیتا تو سکھ دیو کی شکل سامنے آجاتی اور پھر میری توجہ
ہٹ جاتی۔
اب میں زیادہ سے زیادہ مستانی کی خدمت کرنے لگا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اس
طریقہ سے اس کے دل میں اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مقام پیدا کر لوں گا اور جب کبھی
انتخاب کا موقع آیا تو مستانی مجھے سکھدیو پر ترجیح دے گی۔
مستانی میری اس خدمت گزاری سے خوش تھی یا نہی۔ مجھے اس کا علم نہیں ۔ کیونکہ
مستانی کا رویہ آج بھی میرے ساتھ پہلے دن جیسا ہی تھا۔
اللہ ہو کا ورد چھوڑے مجھے کئی ماہ گزر چکے تھے۔ لیکن مستانی نے مجھے کبھی
نہیں ٹوکا البتہ نماز میں کوتاہی پر وہ ضرور ٹوکتی تھی اور اب میری نماز بھی اس کی
خوشی کی خاطر ہوتی تھی ۔یوں سمجھیئے کہ میں اس کو خوش کرنے کے لیے نماز ادا کرتا
تھا۔
میں نے اپنا یہ معمول بنا لیا تھا کہ مستانی جب سونے کی خاطر پلنگ پر لیٹتی
تو اس سرہانے زمین پر بیٹھ کر اس کے سر میں تیل کی مالش کرنے لگتا اور جب تک وہ سو
نہیں جاتی اپنی جگہ سے نہیں اٹھتا۔
ایک ایسی ہی رات کا واقعہ ہے کہ جب مستانی کے سر میں تیل کی مالش کر رہا تھا
، رات دبے پاؤں اپنا سفر طے کر رہی تھی۔
مستانی کی یہ عادت تھی کہ وہ سوتے میں بھی ”حق اللہ “ کی صدا لگاتی رہتی تھی
اس کے سینے کے زیرہ بم کے ساتھ ہی حق اللہ حق اللہ کی مد ہم آواز ابھرتی رہتی تھی۔
حق اللہ کی آواز اور سونے کی کیفیت سے میں آگاہ تھا کہ میں جانتا تھا کہ جب
وہ سو جاتی ہے تو حق اللہ کی صدا میں معمولی سا ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے ۔ لہذا میں
ابھی اٹھنا ہی چاہتا تھا کہ اچانک مستانی نے زور سے حق اللہ کا نعرہ لگایا۔ یہ
نعرہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ میں گھبرا کر رہ گیا، میرے دونوں ہاتھ اس کے سر
پر جہاں تھے وہیں رُک گئے۔
میں نے مستانی کو پہلے کبھی بھی ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔ لہذا بری طرح
سے پریشان ہو گیا۔ غیظ و غضب سے اس کا چہرہ سُرخ انگارہ ہو رہا تھا۔
چند لمحے بعد وہ غصہ سے بولی ۔”لعنت ہو تجھ پر ، لعنت ہو تجھ پر ۔۔ تو کیا
ہے ، تیری حیثیت کیا ہے؟“
میری سمجھ میں نہیں ایا کہ مستانی سوتے میں اس طرح کیوں۔۔۔ اور کس سے مخاطب
ہے ، اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں اپنے بارے میں خیال پیدا ہوا اور میں خوف سے کانپ
اٹھا ۔ ممکن ہے مجھ سے غیر دانستگی میں کوئی غلطی ہو گئی ہو جس کا علم مستانی کو
اب ہوا ہے۔
اس خیال کے آتے ہی میں کپکپاتا ہوا
اٹھا اور اس کے سامنے دو زانو بیٹھ کر بولا۔” مجھے معاف کر دے مستانی ، مجھے معاف
کر دے ۔“ میں دونوں ہاتھ جوڑ کر گڑ گڑایا۔
” لیکن وہ بدستور آنکھیں بند کیے ہوئے بڑ بڑ ائی ” بے شرم۔۔۔ یہ شہر میرا
ہے۔ یہاں میرا حکم چلے گا ۔۔ دیکھ مان جا ۔۔۔ مان جا نہیں تو میں تی ہوں۔“
اور پھر اس کے ساتھ ہی میں نے دیکھا سوئی ہوئی مستانی کے جسم سے ایک اور
مستانی اٹھی ۔۔ بالکل ویسی ہی ، اور نہایت ہی تیزی کے ساتھ کوٹھری سے باہر نکل
گئی۔
”یا الٰہی ! یہ کیا اسرار ہے ۔ میرا دماغ چکرانے لگا۔
”جاؤ خان ! جا کر آرام کرو ۔“ سوئی ہوئی مستانی نے مجھے حکم دیا۔
میں حیران و پریشان اپنی جگہ سےے
اٹھا اور بستر پر جا کر لیٹ گیا ۔ ابھی مجھے لیٹے ہوئے چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ
مستانی کوٹھری میں داخل ہوئی اور سوئی ہوئی مستانی کے برابر میں جا کر لیٹ گئی ۔
میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ پلنگ پر صرف ایک ہی مستانی تھی۔
مستانی کی شخصیت کا یہ پہلو اتنا پر اسرار اور چونکا دینے والا تھا کہ رات
بھر سوچتا رہا ۔ پھر نہ جانے کب مجھے نیند آگئی اور میں سو گیا۔
صبح جب میری آنکھ کھلی تو رات کا واقعہ دوبارہ ذہن میں تازہ ہو گیا۔ مستانی
کی طرف دیکھا تو پلنگ خالی تھا۔ میں اپنی جگہ اٹھا اور دونوں ہاتھو سے آنکھیں ملتا
ہوا کوٹھری کے دروازے پر آگیا۔
میں نے دیکھا مستانی تالاب کے کنارے ایک پتھر پر بیٹھی اپنے بال سکھا رہی
تھی ۔ میں تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور قریب ہی ایک دوسرے پتھر پر بیٹھ گیا یہ پتھر
بالکل ہی لبِ تالاب تھا۔ میں نے تالاب کے پانی سے ہاتھ دھوئے، اور چلو میں پانی لے
کر منہ پر چھپکا مارا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے گلاب کی مہک محسوس ہوئی۔ میں نے مستانی
کی طرف دیکھا۔ اس کے بال جن میں اکثر مٹی پڑی نظر آتی تھی۔ صبح کی دھوپ میں سیاہ
ریشم کی مانند چمک رہے تھے اور جب مستانی ان کا پانی ہاتھ سے چھرکتی تو ان میں سے پانی
کے قطروں کے ساتھ گلاب کی مہک بھی آتی تھی۔
میں اس کے بالوں کو غور سے دیکھنے لگا۔
”کیا بات ہے؟کیا دیکھ رہا ہے؟“ مستانی نے مجھ سے پوچھا۔
میں نے بات بنائی۔”آج تم شہر نہیں گئیں؟“
”آج بابا شہر گیا ہے۔“ مستانی نے مختصر سا جواب دیا۔
”رات تم کس سے مخاطب تھیں ، کہاں گئی تھیں ، کیا تمہارے دو جسم ہیں ؟“ میں
نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔
”وقت کا انتظار کرو خان ۔“ مستانی نے پُسکون لہجہ میں جواب دیا ”کچھ راز
ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر سے پردہ وقت سے پہلے نہیں ہٹایا جا سکتا۔“
”مستانی !“ میں نے بے اختیار اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا ۔” مجھے تو بتا دے تو
کیا ہے۔؟“
مستانی نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پیار بھرے غصہ سے بولی۔” خان ، میرا ہاتھ
چھوڑ دے آخر کو تو مرد ہے۔ ضد تیری فطرت میں شامل ہے۔“
”نہیں ، یہ بات نہیں۔“ میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر کہا۔” میں مرد ضرور ہوں
لیکن ضدی نہیں ہوں۔“
”نہیں ، تجھے پوچھنے کا حق ہے اس لیے کہ تو مرد ہے تجھے برتری حاصل ہے ۔“
مستانی نے اسی انداز سے کہا۔
مستانی کی یہ بات سن کر میرے دل میں خوشی کی ایک لہر سے اٹھی۔
”لیکن خان “ وہ اپنے بالوں کو گردن کے پیچھے سمیٹتے ہوئے بولی۔” حق اللہ
تعالیٰ کے حضور میں برتر وہ ہے جس کے اعمال اچھے ہیں ، جس کے قولو فعل میں تضاد
نہیں ہے۔“
مستانی کے اس جملے نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا ۔ ایک سیکنڈ میں ماضی میری
نظروں کے سامنے سے گزر گیا ۔ میرے قولو فعل میں تضاد تھا۔
”خان ، تمہیں ہر انہونی بات جاننے کا شوق تو ہے لیکن حاصل کرنے کا جوش
نہیں۔“ مستانی نے نہایت لطیف انداز میں میرے رویہ پر اعتراض کیا تھا۔ مجھے پہلی
بار اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوا۔
”بولو ، جواب دو ۔ تمہیں کیا ہو گیا؟“ اس نے نہایت نرم لہجہ میں پوچھا۔
مستانی کی بات نع میرے ہونٹ سی دیئے تھے۔ میں خاموشی سے گردن جھکائے بیٹھا رہا۔
” تم نے فانی دنیا چھوڑ کر ابدی دنیا کو اپنا مسکن بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
تم نے اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح پڑھنا کیوں چھوڑ دی ۔ تم اپنے فیصلے سے کیوں
پھر گئے۔“ پھر وہ سیکنڈ کے لیے رُکی اور نہایت ہی کرخت لہجہ میں بولی ۔ اگر تم
اپنا فیصلہ بدل چکے ہو تو میرا فیصلہ بھی سن لو۔ تم واپس اپنی دنیا میں لوٹ جاؤ۔“
مستانی کے اس فیصلہ سے میں تڑپ اٹھا ۔ مجھے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ وہ مجھے
اپنے سے جُدا کر سکتی ہے۔ اس کی جدائی کا تصور ہی میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا میں
نے والہانہ جذبہ سے کہا ۔” مستانی میں تجھے نہیں چھوڑ سکتا ۔“
”کیوں نہیں چھوڑ سکتا ؟“ اس نے برجستہ پوچھا۔
” اس لیے ۔۔۔اس لیے ۔۔۔ کہ ۔۔۔ میں۔۔۔“
”تو مجھ سے عشق کرتا ہے۔“ مستانی نے جیسے میرے دل کی بات پڑھ لی ہو۔” لیکن
شاید تجھے یاد ہو “ اس نے انگلی اٹھا کر کہا۔” میں نے تیری مردانہ فطرت کو دیکھتے
ہوئے بتایا تھا کہ سچے عاشق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب کے ہر حکم کی تعمیل
کرے لیکن بتا تو نے میرا کون سا حکم مانا ہے اور جب تو میرے حکم کی تعمیل نہیں کر
سکتا تو خالق دو جہاں کے حکم کی تعمیل کیا کرے گا۔“
”مستانی ۔۔۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے ۔“ میں نے ندامت سے کہا ۔” دراصل جس
دن تو نے مجھے سکھ دیو کے ارادے سے آگاہ کیا تھا ، اس ہی دن سے میں رقابت کی آگ
میں جل رہا ہوں ۔ اس آگ نے مجھے ہر مقصد سے بیگانہ کر دیا تھا۔“
”سکھ دیو ۔۔“ وہ ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔” اگر تجھے سکھ دیو سے
رقابت تھی تو چاہیے تھا کہ خود کو بھی سکھ دیو جیسا بننے کی کوشش کرتا۔ تو نہیں
جانتا کہ وہ انتہائی مافوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے۔ کسی کو شکست دینے کی خاطر اس
کے ہم مرتبہ ہونا ضروری ہے خان۔“ پھر اہ اپنے ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی۔ ”تجھ
سے سکھ دیو کا تذکرہ میں نے اس ہی وجہ سے کیا تھا کہ تو رقابت کی آگ میں جل کر
زیادہ سے زیادہ روحانی قوت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا ۔ لیکن تو تو اس آگ میں خود
ہی بھسم ہو کر رہ گیا۔“
مستانی کے اس انکشاف سے مجھے بہت دکھ ہوا۔ میرے ماہ و سال یوں ہی ضائع ہو
گئے۔ واقعی رقابت کی آگ میں میں خود ہی جل رہا تھا۔
”میں نے تمہیں قدم قدم پر نفس کو مغلوب کرنے کی تاکید کی ۔“ وہ ٹھہرے ہوئے
لہجے میں بولی۔” میں جانتی تھی کہ یہ بہت مشکل کام ہے ۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ
میرے محبوب کے نام کی تسبیح تمہاری رُوح کو صاف کر دے گی اور تمہارا نفس تمہارے
تابع ہو جائے گا اور تم عشق الٰہی کی منزل کی طرف محوِ پرواز ہو جاؤ گے ۔۔۔ لیکن
تم ۔۔ تم۔۔ تو خود نفس کے غلام بن کر رہ گئے ہو۔“ وہ غصہ سے بولی۔” نفس نے تمہیں
اپنا غلام بنا لیا ہے اور ایسے نفس پرست لوگوں کے لیے میرے آستانے میں کوئی جگہ
نہیں ہے۔“
اتنا کہہ کر اس نے نہایت بے رُخی سے منہ پھیر لیا اور جانے کی خاطر کوٹھری
کی طرف قدم بڑھایا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری دنیا لُٹ چکی ہے ، میں تنہا رہ گیا ہوں
اور اس سے پہلے کہ مستانی دوسرا قدم اٹھاتی ، میں نے اپنا سر اس کے قدموں میں رکھ
دیا۔
میرا سر اُس کے قدموں میں تھا ۔ میں نے ہاتھوں سے اس کے پاؤں پکڑ رکھے تھے
اور میں رو رو کر کہہ رہا تھا ۔”مستانی، مجھے معاف کر دے ، خدا کے لیے مجھے معاف
کر ، میں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کی معافی چاہتا ہوں۔“
”اٹھو خان ۔“ مستانی نے مجھے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اُٹھایا ۔” معافی کا حق
صرف حق تعالیٰ کو ہے۔ تمہیں اپنی کوتاہیوں کا احساس ہے ، میرے لیے یہی کافی ہے۔“
میں اٹھ کر دوبارہ پتھر پر بیٹھ گیا۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں ۔
مستانی میری آنکھوں کے آنسو اپنی آستین سے صاف کرتے ہوئے بولی ۔”تمہاری ندامت سے
ظاہر ہو گیا کہ تم آج بھی روحانیت کے متلاشی ہو۔ تمہارے دل میں آج بھی عشق ِ الٰہی
کی تڑپ ہے۔۔ اور۔۔اور“ میری آنکھوں کے سامنے ناقابلِ بیان منظر تھا۔ میں مکہ معظمہ
میں غلاف ِ کعبہ سے لپٹ کت رو رہا تھا ۔
مستانی کیا کہہ رہی تھی ، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا میں تو اپنے خدا
کے حضور میں گڑ گڑا رہا تھا۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا۔ میں روتا رہا ۔
گڑ گڑاتا رہا پھر اچانک یہ سلسلہ ٹوٹ گیا۔ مستانی نے اپنی آستین کھینچ لی۔
”مستانی !“ میں عالمِ بے خودی میں چلایا اور ایک بار پھر اس کے قدموں پر
گرا۔ لیکن اس مرتبہ گرتے ہی مستانی نے مجھے ہاتھوں پر روک لیا اور کسی قدر ڈانتے
ہوئے بولی۔” ہوش میں آؤ خان! سجدہ صرف خدا کو کرنا لازم ہے۔“
میں اس کی ڈانٹ سے سنبھل گیا۔ میرا دل اور دماغ بالکل ہلکے ہو چکے تھے۔ میرے
پورے جسم میں خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی ۔ یہ میرے گناہوں کی تلافی ہو جانے کی نشانی
تھی۔
”خان !“ وہ مجھے سمجھاتے ہوئے بولی ۔” آج سے تم اس بات کا عہد کر لو کہ فانی
چیزوں سے کوئی سروکار نہیں رکھو گے ۔ میں کیا ہوں؟“ اس نے انگلی اپنی جانب اشارہ
کیا ۔” میں بھی فانی ہوں میں بھی مٹی کا ڈھیر ہوں ۔ تم مجھے اور اس شئے کو جسے تم
چاہو ، جس کی تماہرے دل میں خواہش ہو مٹی سے زیادہ نہ سمجھو ۔ ہر شئے کو بے مصرف
جانو ۔ تمہارے دل و دماغ میں صرف اور صرف ابدی دنیا کا تصور ہونا چہایئے۔“
مستانی کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ میرے دماغ میں سماتا جا رہا تھا۔
”تلخ سے تتلخ بات برداشت کرو۔“ وہ اس ہی انداز سے بولی ” برے سے بڑا ظلم ہنس
کر سہہ جاؤ۔ نفس کو ہر طرح کچل دو ۔ سمجھ لو کہ تم خود بھی مٹی ہو جس کا کام صرف
اپنے رب کی ثنا کرنا ہے اور آج سے تم حق اللہ کی صدا لگایا کرو۔“