Topics

سکھدیو

 

اس کی عمر مشکل سے پینتیس (۳۵) چالیس (۴۰) سال ہوگی۔ جسم نہایت ہی گھٹا ہوا، سر کے تمام بال کٹے ہوئے، صرف سر کے درمیان میں بالوں کی ایک موٹی سے لٹ تھی جو کہ خم کھاتی ہوئی پیچھے کی جانب چلی گئی تھی۔پیشانی پر تین سُرخ لکیریں نمایاں تھیں۔ اس کے پورے جسم پر صرف ایک سُرخ رنگ کی لنگوٹ تھی۔ گلے میں موتیوں کی لمبی سی مالا پڑی ہوئی تھی اور ایک ایسی ہی مالا اس کے دائیں ہاتھ میں بھی تھی جس کے دانوں پر اس کی انگلیاں تیزی سے چل رہی تھیں۔

”کہو ، مہاراج کیا حال ہے؟“ اس نے شرارت آمیز تبسم سے پوچھا۔

اس کی بات کا جواب دینے کے لیے میں نے منہ کھولنا چاہا۔ لیکن میرا منہ بند تھا۔ میں نے کئی بار کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ پرندے اپنی جگہ سے اڑ گئے اور درخت زور زور سے ہلنے لگے۔ میری ناکامی پر اس نے ایک فلک شگاف قہقہ لگایا اور طنزیہ لہجے میں بولا۔” کیا بات ہے مہاراج ، آپ بول نہیں رہے؟“

اس کے اس طنز پر میں تلملا کر رہ گیا۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی حرکت کرتا ، مجھے سفید ریش بزر دکھائی دیئے۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔

”پدھاریے مہاراج پد ھاریے۔ آج آپ اِدھر کیسے نکل آئے؟“

”آیا تو میں آپ ہی سے ملنے تھا۔“ اس شخص نے جواب دیا ۔” لیکن اس بالک کی شرارت دیکھ کر رُک گیا۔ پرندوں کو ستا رہا تھا۔“

”ابھی بچہ ہے۔ آپ کی سرزنش ہی کافی ہے۔“ سفید ریش بزرگ نے مسکرا کر جواب دیا اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے آستانے کی طرف چل دیئے۔

اور میری قوت گویائی لوٹ آئی۔

میری سمجھ میں کچھ نہیں ارہا تھا۔ مین سہما سہما اس شخص کو دیکھ رہا تھا۔ وہ مجھ سے کچھ ہی فاصلہ پر ببول کے درخت کے نیچے کھڑا سفید ریش بزرگ سے کہہ رہا تھا۔” بابا جی ! آپ جانتے ہیں کہ اس دھرتی پر میری شکتی دان جیسا دوسرا کوئی نہیں ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہو کہ مجھے آپ سے پریم ہے ۔۔۔ بے انتہا پریم۔“

”بھئی ، ہمیں تمہاری دوستی اور محبت کا اعتراف ہے۔“ سفید ریش بزرگ نے مسکرا کر جواب دیا۔

” تو پھر ۔۔۔ اس دوستی کو پریم کے بندھن سے جیون بھر کے لیے اٹوٹ کر لیجیئے نا۔“ اس نے التجا آمیز لہجہ میں کہا۔

” سکھ!“ بابا جی نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔ ” میں تمہیں پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں کہ اس معاملہ میں مجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔“

”تم بھگوان کے کیسے سیوک ہو!“ سکھ دیو نے زبردست طنز کیا۔” تمہیں اپنی بیٹی پر اختیار نہیں۔“

” اس دنیا میں کسی کو کسی پر اختیار نہیں ہے۔“ بابا جی نے نہایت تحمل سے جواب دیا۔ ” مختار ِ کل تو صرف ایک ہی ذات ہے۔۔ انسان تو پھر بھی اپنی مرضی کا مالک ہے۔ وہ اپنی خواہشوں کو اپنی مرضی کے مطابق پورا کرنے کا حق رکھا ہے۔“

”لیکن ۔۔ اُسے یہ حق کس نے دیا ؟“ سکھ دیو نے برجستہ پوچھا۔

”اللہ نے “۔ بابا جی نے مسکرا کر جواب دیا۔

”میرا یہ مطلب نہیں تھا۔“ سکھ دیو کھسیانا ہو کر بولا۔

”آپ کو اپنی بیٹی پر تو اختیار حاصل ہے۔“

”اگر مجھے اختیار حاصل ہوتا تو تمہیں اتنی زحمت نہیں آتھانی پڑتی۔“ باباجی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔” میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہر انسان اپنی مرضی کا مالک ہے۔“

”میں تو صرف یہ چاہتا ہوں ۔“ سکھ دیو سوچ کر بولا۔” کہ دو طاقتیں ایک ہو جائیں تو اچھا ہے۔“

”اگر اللہ کو یہ منظور ہے تو ایسا ضرور ہو جائے گا۔“ بابا جی نے دائیں ہاتھ کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر کہا۔ ” اور اگر اس کو منظور نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔“

”یہ چھوکرا کون ہے؟” اچانک سکھ دیو نے میرے بارے میں پوچھا۔

”اللہ کا بندہ ہے۔“ بابا جی نے حسبِ عادت مسکرا کر جواب دیا۔

” میرا مطلب ہے ، اس جگہ اس کا کیا کام؟“ سکھ دیو نے قدرے تجسس سے پوچھا۔

”یہ زمین اللہ کی ہے۔ اس پر ہر جاندار کو چلنے پھرنے کا حق ہے۔“ بابا جی نے جواب دیا۔

”گیانی معلوم ہوتا ہے ۔“ سکھ دیو پیشانی پر لکریں ڈال کر بولا ۔ پھر قدرے پریشانی سے پوچھا۔” آپ کا چیلا تو نہیں ہے؟“

”میرا چیلا تو صرف تم ہو ۔“ بابا جی نے رُوکھے لہجے میں کہا۔

”جب ہی تو میں آپ کے چرنوں میں جیون گزارنا چاہتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ باباجی کے پیروں میں جھک گیا۔

لیکن بابا جی نے فوراً سے کاندھوں سے پکڑ کر سیدھا کھڑے کرتے ہوئے کہا۔” کیوں مجھے گنہگار کرتے ہو۔“

”آپ مجھے نراش کر رہے ہیں ۔“ وہ معنی خیز انداز سے بولا ۔ بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ وہ قدم نہ چھونے پر شکایت کر رہا ہے حالانکہ اس کا مطلب کچھ اور تھا۔

” یہ محض تمہارا خیال ہے سکھ دیو۔“ باباجی نے اسے سمجھایا ۔” تم نے مجھ سے سے جیس چیز کی تمنا کی ہے وہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔“

سکھ دیو نے اس بات کے جواب میں دہ تین بار اپنے سر کو اقرار کے انداز میں ہلایا جیسے باباجی کی بات کی تائید کر رہا ہو۔ پھر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا چل دیا۔ اس کا رخ معصوم شاہ مکہوڑا کی پہاڑی کی طرف تھا۔

رات کو جب مستانی آئی تو میں نے اس سے سکھ دیو کا تذکرہ کیا۔ لیکن مستانی نے کسی خاص ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ شاید بابا جی نے اسے پہلے ہی سب کچھ بتا دیا تھا۔

مستانی نے مجھ سے کہا ۔” خان! اس دنیا میں باطل قوتیں بھی ہیں جو کمزور انسانوں کو ستاتی رہتی ہیں۔ ان کا تدراک کرنا اللہ کے محبوب بندوں کا کام ہے۔“

”لیکن ، یہ سکھ دیو کون ہے؟“ میں نے تجسس سے پوچھا۔

”یہ کون ہے ؟“ مستانی نے میرے الفاظ کو دوہرایا۔ پھر لاپروائی سے بولی ۔” یہ وہی ہے جس نے تمہاری خالہ زاد بہن پر ہنومان کا مسلط کر دیا تھا۔“

یہ سن کر میں چونک گیا ماضی کا پورا واقعہ میرے ذہن میں تازہ ہو گیا۔۔ اور۔۔اور اس کے ساتھ ہی میرے دل پر سکھ دیو کی ماورائی طاقت کا رعب سا چھا گیا میرے سامنے دن والے سکھ دیو کی شکل ابھر آئی جس نے میری قوتِ گویائی سلب کر لی تھی۔

میں سکھ دیو کے بارے میں جتنا سوچتا اس کا رعب مجھ پر غالب آتا جاتا تھا۔ درحقیقت مستانی تک پہنچنے کا بہانہ بھی اسی سکھ دیو کی حرکت تھی۔ اس نے میری خالہ زاد بہن پر ایک بد روح کو مسلط کر دیا تھا۔ اتفاقاً میری ملاقات مستانی سے ہوگئی۔ اس نے میری بہن کو اس بد روح سے نجات دلا دی تھی۔ اور پھر ، میں بھی روحوں کو تبع کرنے کے شوق میں مستانی کو تلاش کرتا ہوا اس تک پہنچ گیا تھا لیکن یہاں پہنچ کر میں اپنا مقصد بھل گیا اور مستانی کا بے دام غلام بن کر رہ گیا تھا۔ اب جب کہ مستانی نے یہ انکشاف کیا کہ یہ وہی سکھ دیو ہے تو میرا سویا ہوا شوق ایک بار پھر جاگ اٹھا۔

میں نے بے قراری سے مستانی کو مخاطب کیا۔” تم جانتی ہو ۔۔۔ میں تم تک۔۔۔“

”ہاں میں جانتی ہوں۔“ مستانی نے میری بات کاٹ کر کہا۔” لیکن یاد رکھو ، خان ! ہم سب منشائے الٰہی کے تابع ہیں۔ ہم ا س کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔“

”لیکن یہ سکھ دیو سب کچھ کر سکتا ہے۔“ میں نے جھنجھلا کر کہا۔

”سکھ دیو“ وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔” وہ بھی خدا کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا “ پھر وہ خلا میں گھورتی ہوئی بولی ۔” وہ اپنی تقدیر کا لکھا پورا کر رہا ہے۔“

”میں بھی اپنی تقدیر کا لکھا پورا کرنا چاہتا ہوں۔ میں بھی اپنی تقدیر بدلنا چاہتا ہوں۔“ میں نے ضدی بچہ کی طرح کہا۔

میری بات سُن کر مستانی زور سے ہنسی اور پھر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔” تقدیر اس طرح نہیں بدلا کرتی۔“

”تم۔۔۔تم۔۔۔ مجھے روحوں کو تابع کرنا سیکھا دو۔ پھر میں خود ہی سب کچھ کر لوں گا۔“ میں نے اس ہی طرح ضد سے کہا۔

”روحوں کو تابع کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔“ مستانی نے مجھے سمجھایا۔”لیکن پہلے تم اپنی روح کا عرفان تو حاصل کر لو۔“

”کیا مطلب ؟“ میں نے حیرانگی سے پوچھا ۔ ”کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میری روح میرے قابو میں نہیں ہے؟“

”ہاں ، تمہاری روح تمہارے قابو میں نہیں ہے۔“

مستانی ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی۔”تم اپنے جسم کے تابع ہو اور تمہارا جسم تمہاری رُوح کا لباس ہے۔“

”یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟“ میں نے تعجب سے پوچھا ۔”روح تو جسم کے اندر رہتی ہے۔“

”اگر تمہاری بات کو صحیح مان لیا جائے۔“ وہ بولی ”تو پھر یہ بتاؤ سکھ دیو تمہارے سامنے اچانک کیسے آگیا؟ کیا تم نے اُسے کسی راستہ سے آتے دیکھا تھا؟“

میں نے نفی کے انداز میں گردن ہلا دی۔

”اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ اسے اپنی روح پر قابو حاصل ہے۔“ مستانی نے مجھے سمجھایا۔” وہ جب چاہے جہاں چاہے ، جا سکتا ہے۔“