Topics
مستانی نے اپنی بڑی بڑی پلکیں اٹھا کر مجھے دیکھا اور نہایت ہی شریں لہجے
میں بولی۔”خان! آخر تم یہاں تک آہی گئے۔ کس تجسس نے تمہیں میرا پیچھا کرنے پر
مجبور کیا ہے؟“
کوٹھری کے ماحول اور پھر مستانی کی پُاسرار شخصیت نے مجھ پر ہیبت طاری کر
دی۔ میں کیا جواب دیتا ۔ گم سُم کھڑا اس کے چہرے کو تک رہا تھا۔
”بولو خان! کیا بات ہے ، تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اس نے دوبارہ سپاٹ لہجے
میں پوچھا۔
”میں ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں۔۔۔“ دل کی بات زبان پر آکر رۃک گئی۔ الفاظ ہوٹوں پر
آکر رہ گئے۔
میری بدحواسی دیکھ کر اس کے چہرے پر ملکوتی پھیل گیا جس نے اس کے حسن کو اور
بھی دوبالا کر دیا وہ اس ہی دلآویز تبسم کے ساتھ بولی ۔” میں جانتی ہوں تم کیا
چاہتے ہو۔“ پھر وہ لمحہ بھر کو رُکی۔ اس نے تسبیح کو بوسہ دیا اور مجھ سے دوبارہ
مخاطب ہوئی۔”یاد رکھو خان! اس کائنات میں کوئی راز راز نہیں ہے۔ لیکن اس کائنات سے
انسان اس ہی وقت فائدہ اٹھا سکتا ہے جب وہ اُن اصولوں کو صدق دل سے اپنالے جو اس
کائنات کے خالق نے بنائے ہیں۔“
اتنا کہہ کر وہ رُک گئی۔ شاید اُسے مجھ سے کسی جواب کی توقع تھی۔ لیکن میں
تو ابھی تک حیرانگی کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔ اس نے معنی خیز نظروں سے مجھے
دیکھتے ہوئے کہا۔
” تمہارےشعور پر آج بھی مادہ کی ہلکی سی تہہ جمی ہوئی ہے لیکن اس میں قصور
تمہارا نہیں ہے کیوں کہ اس کائنات میں ہر شے مادہ سے بنائی گئی ہے اور پھر انسان
اس مادی ماحول سے اتنا زیادہ متاثر ہو چکا ہے کہ ذرا سی بھی تبدیلی اس کے لیے نہ
صرف حیران کُن ہوتی ہے بلکہ پریشانی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔“
”اس کا مطلب یہ ہے کہ مادہ اپنی ہیت تبدیل کرتا رہتا ہے ۔“ میں نے ہمت کر کے
کہا۔
” نہیں، یہ بات نہیں ۔“ مستانی نے جواب دیا۔ اصل راز جاننے کی خاطر سب سے
پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ مادہ کیا ہے ؟ مادہ کی اصل کیا ؟ ہمیں جو کچھ بھی دکھائی
دیتا ہے ، جو کچھ بھی سنائی دیتا ہے ، ہم جو کچھ محسوس کرتے ہیں یہ سب حقیقت ہے؟
”تم نے مادہ پر شک کیا ہے حالنکہ مادہ پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں جو کچھ
نظر آتا ہے ہم جو کچھ بھی محسوس کرتے ہیں ، وہی حقیقت ہے ۔“ میں نے جواب دیا۔
۔ ”اگر تمہاری بات کو تسلیم کر لیا جائے ۔۔۔ تو پھر ۔۔۔ یہی دیکھ لو۔“
اتنا کہہ کر مستانی نے اپنے اطراف ہاتھ سے اشارہ کیا جس کا مطلب کوٹری کا
ماحول تھا۔
مستانی کے اس اشارے پر میں چونکا اور بمشکل تمام کہا۔” یہ ماحول میرے لیے
اجنبی ہے ۔ یہ اتنا پر اسرار ہے کہ میں ابھی تک حیران ہوں ۔ میری عقل ابھی تک اس
کی توجیہ نہیں تلاش کر سکی ہے۔“
” اور اس کی توجیہ تلاش بھی نہیں جا سکتی ۔“ مستانی نے ہنس کر کہا ۔” کیوں
کہ قبرستان میں داخل ہوتے ہی تمہارے حواسِ خمسہ کی تمام باطنی قوتیں جاگ اٹھیں اور
اب تم کو جو کچھ نظر آرہا ہے ، حقیقت ہے۔“
” اسے نظر بندی بھی تو کہا جا سکتا ہے ۔“ میں نے جھجکتے ہوئے کہا۔ کیوں کہ
میں سمجھتا تھا کہ حواس ِ خمسہ کی قوتوں کو دھوکا دینا ہی کمال ہے اور مداری یہی
کمال دکھا کر سب کو حیرت زدہ کر دیا کرتے تھے۔
”ہاں تم کہہ سکتے ہو کیوں کہ تم ابھی مادہ کی حقیقت اور اس کائنات کی اصلیت
سے واقف نہیں ہو ۔“ مستانی نے اطمینان سے جواب دیا۔ پھر تخت پر پہلو بدل کر بولی۔
”لیکن جہاں تک نظر بندی کا تعلق ہے اس کا حقیقت سے کوئی بھی واسطہ نہیں ہے
اس میں صرف حواس خمسہ کی ایک قوت ”بصیرت “ ہی کو دھوکا دیا جا سکتا ہے اور وہ بھی
وقتی طور سے۔“
”اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کے بارے میں حواس خمسہ کی قوتیں ہمیں دھوکا
دیتی ہیں۔“ میں نے کہا
”نہیں ۔ یہ بات نہیں ہے۔ انسان کسی بھی حقیقت کو اس ہی وقت تسلیم کرتا ہے جب
حواس خمسہ کی تمام قوتیں اس پہ گواہ ہو جائیں ۔ یہ حقیقت اور سچائی کا معیار ہے۔“
مستانی نے جواب دیا ۔” اس وقت تم جس ماحول میں موجود ہو اس کی حقیقت سے انکار نہیں
کر سکتے ہو کیو نکہ تمہارے حواس کی تمام قوتیں اسے قبول کر رہی ہیں۔“
”کیا مطلب؟“ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔
”مطلب صاف ظاہر ہے ۔ اس کائنات کی موجودگی کا احساس ہم و حواس ہی کے ذریعے
ہوتا ہے ۔ ہم جو کچھ بھی محسوس کرتے ہیں جو اس کے ذریعے ہی کرتے ہیں ۔ اللہ نے
انسان کو حواس کی انمول نعمت سے نوازا ہے اور جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں انہیں
اس کائنات کا تو کیا اپنا بھی ہوش نہیں ہوتا۔ دنیا والے انہیں پاگل کہتے ہیں۔“
مستانی کے اس مدلل جواب کو سُن کر میں نے اقرار کے انداز میں گردن ہلائی۔
”حواس ِ خمسہ کی بھی دو قسمیں ہیں۔“ مستانی نے دوبارہ سلسہ کلام شروع
کیا۔”ایک ظاہری اور دوسری باطنی ۔ حواس خمسہ کی قوتیں جس کی پہچان کراتی ہیں اس کا
اظہار ہم حواس کی ایک قوت ، قوت ِ گویائی سے الفاظ کے ذریعے کرتے ہیں ۔ گویا حواس
اور الفاظ اس کائنات کو پہچاننے کا ذریعہ ہیں۔“
اتنا کہہ کر وہ اچانک سفید ریش بزرگ سے مخاطب ہوئی ۔”مہمان کی خاطر کچھ ہو
تو لاؤ۔“
سفید ریش بزرگ جو دیر سے خاموش کھڑے تھے یہ سنتے ہی ایک بغلی دروازہ میں
داخل ہو کر غائب ہو گئے۔
”حواس خمسہ کی دو قسمیں ہیں ۔“ مستانی نے ایک گہری سانس لے کر دوبارہ کہنا
شروع کیا۔” ایک ظاہری اور دوسری باطنی ۔“ اس نے اپنے الفاظ پر زور دے کر کہا۔”
ظاہری قوت مادے کے باہر دیکھتی ہے۔ جب کہ باطنی قوت مادہ کے اندر جھانکتی ہے اور
اس کی حقیقت کو پہچانتی ہے اور جب یہی قوت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو پھر کوئی
راز راز نہیں ۔ یہ کائنات انسان کے لیے مسخر ہو جاتی ۔ ایسا انسان روحانی دنیا کا
باسی ہوتا ہے اس کائنات کی حقیقت جاننے کے بعد وہ صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات “
کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔“
مستانی کی اس عالمانہ گفتگو نے مجھے محو حیرت کر دیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا
تھا کہ اس طرح کی قلندرانہ طبیعت کی مالک علمِ نفسیات اور مابعد النفسیات پر اس
قدر دسترس رکھتی ہوگی۔ اب میں احساسِ کمتری کا شکار ہو چکا تھا ۔ مستانی کے سامنے
میری حیثیت خاک کے ذرّے سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ علم کا ایک ایسا دریا تھی جس کی تہہ
نہیں تھی ۔ لیکن میں بھی آسانی سے شکست ماننے والا نہیں تھا۔ میں نے اس کی عالمانہ
گفتگو پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا ” میں تمہاری کوئی بھی بات نہیں سمجھا ۔“
” تم ان باتوں کو آسانی سے سمجھ بھی نہیں سکو گے۔“ مستانی نے نہایت ہی شفقت
سے کہا ۔” اس کائنات کی حقیقت جاننے کی خاطر انسان کو سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔“ وہ
مجھے سمجھانے والے لہجے میں بولی۔” اس حقیقت کو بھی جاننے کے دو طریقے ہیں۔“ اس نے
اپنے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔” ایک مادی طریقہ ہے جس میں کسی بھی
شے کے بارے میں مادی وسائل سے غور و فکر اور مشاہدہ کیا جاتا ہے اور جسے جدید دور
میں سائنس بھی کہا جاتا ہے دوسرا طریقہ وہ ہے جسے مذہب کہا جا سکتا ہے۔ دنیا کے
تمام مذاہب میں اس کا طریقہ کار موجود ہے اور لوگ اپنے اپنے مذہب کے طریقہ کار کے
مطابق جسمانی اور دماغی ورزش کر کے اس حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔“
”مذہب سے اس کائنات کا کیا تعلق ہے ؟“ میں نے ٹوکا ۔
” بہت گہرا تعلق ہے ۔“ مستانی نے تخت پر ہلکے سے ہاتھ مار کر کہا۔” حق
تعالیٰ نے یہ کائنات بنائی ہی اس لیے ہے کہ انسان وحدانیت کو پہچان لے ، قدرت کو
مان لے اور اس مقصد کی خاطر اُسے مذہب کا لباس پہنایا ہے۔ مذہب کے بغیر انسان اس
کائنات کو نہیں پرکھ سکتا اور جب وہ اس کائنات کو نہیں جان سکتا تو خالقِ کائنات
کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ اس کے علاوہ بھی تمہاری سائنس “ اس نے انگلی سے میری جانب
اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔” اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اس کائنات میں ہر شے کا اپنا
مرکز ہے اور انسان کا مرکز مذہب ہے جو شے مرکز سے ہٹ جاتی ہے وہ اس وقت تک بھٹکتی
رہتی ہے جب تک واپس مرکز پر نہ آجائے۔ اس ہی طرح وہ لوگ جو اپنے مرکز یعنی مذہب سے
ہٹ کر اس کائنات کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں وہ بے راہ روی کا شکار ہو
جاتے ہیں۔“
اتنا کہہ کر وہ لمحہ رُکی اور پھر بولی ۔” میں سمجھتی ہوں کہ تمہارے ذہن میں
مذہب اور اس کائنات کے تعلق سے جو شک تھا وہ ختم ہو گیا ہوگا۔
”کسی حد تک ۔“ میں نے مختصر جواب دیا۔
”تمہارے دماغ میں یہ شک بھی اس وجہ سے پیدا ہوا کہ دنیا کے دوسرے مذاہب میں
اس کائنات کی حقیقت جاننے کا جو طریقہ کار رائج ہے وہ نہایت ہی مشکل اور صبر آزما
ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو اس کائنات کو پہچانتے ہیں
اور حق تعالیٰ کے قریب ہوتے ہیں۔“
لیکن ، بہرحال ان میں ایسے لوگ
موجود رہتے ہیں ، جو ماورائی علوم پر دسترس رکھتے ہیں ۔ میں نے کہا۔
”خان!“ وہ نہایت ہی سنجیدگی سے بولی ۔” ہمیں دوسروں کے بارے میں بحث کرنے کا
حق نہیں ہے ضروری یہ ہے کہ پہلے ہم اپنے مذہب کو دیکھیں۔ پہلے ہم اس کو جانچیں ۔
جب ہی ہم دوسروں کی اچھائیوں اور برائیوں کو بھی جانچ پڑتال کر سکتے ہیں۔“
”چلو ، یوں ہی سہی۔“ میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملا دی۔
”دین ، جسے اسلام کہا جاتا ہے نہایت ہی اعلیٰ وارفع ہے ۔“ مستانی دوبارہ
گویا ہوئی۔ ” یہ میرے محبوب حق تعالیٰ کا سب سے پیارا دین ہے اور اس ہی ناطے سے یہ
نہایت ہی مقدس اور قوی دین ہے ۔ اس کے بارے میں میرے محبوب نے فرما دیا ہے کہ یہ
قیامت تک قائم رہے گا اور جانتے ہو یہ قیامت تک کیوں کر قائم رہے ؟“
مستانی کے اس سوال کے جواب میں ، میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔
”اس لیے کہ انسانیت کو اس دین میں مکمل کر دیا گیا ہے ۔“ اتنا کہہ کر وہ رک
گئی۔
میرے سامنے سفید ریش بزرگ ایک نقرئی تھال میں دودھ کا گلاس اور انگور کا
خوشہ لیے کھڑے تھے۔میں نے تھوڑا سا دودھ پیا۔ یہ وہ دودھ نہیں ، شربت تھا۔ نہایت
ہی لذیذ اور خوشبودار۔ میں صرف چند گھونٹ ہی پی سکا ۔ پھر میں نے گلاس دوبارہ تھال
میں رکھ دیا۔ سفید ریش بزرگ نہایت ہی ادب سے میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے۔
”تم کہتی ہو اسلام میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے۔“
میں نے پوچھا۔
”ہاں ، لیکن یہ میں نہیں کہتی ہوں“ مستانی نے احتیاط سے جواب دیا ۔ ” یہ حق
تعالیٰ کا فرمان ہے۔ یہ میرے کا حکم ہے۔ کیونکہ دین اسلام حقیقت سے بعید نہیں اس
ہی وجہ سے اسے دین ِ فطرت بھی کہا جاتا ہے۔“
”اس کا ثبوت کیا ہے ؟ “ میں نے پوچھا۔
”ثبوت ؟“ اس نے جیسے میرے الفاظ کو دوہرایا ۔”ثبوت ایک نہیں ہزاروں پیش کیے
جا سکتے ہیں ۔ بشرطیکہ تمہاری عقل ساتھ دے ۔“
”عقل ہمیشہ حقیقت کو تسلیم کرتی ہے ۔“ میں نے جواب دیا۔
”اور میں بتا چکی ہوں کہ اسلام حقیقت سے بعید نہیں۔“ مستانی نے قدرے مسکرا
کر جواب دیا۔
”خان !“ وہ سمجھانے والے انداز سے بولی ۔ سب سے پہلے انسان کو اپنی حقیقت
جاننا چاہیئے۔“ مستانی نے ذرا ٹھہر کر کہا۔” اسلام کے نزدیک انسان ایک ایسی ہستی
ہے جو جسم ، روح اور عقل کا مرکب ہے اور یہ تینوں عنصر انسان کی ذات میں اپنا اپنا
فرض پورا کر رہے ہیں ۔ اب یہ فرض انسان کا ہے کہ وہ ان عناصر کے تعلون سے کائنات و
مافیہا کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرے ۔ یہی حق تعالیٰ کی مشیت ہے۔“
”اس کا مطلب ہے کہ انسان جسم ، روح اور عقل سے مل کر بنا ہے ۔“ میں نے کہا۔
”بالکل ٹھیک کہا تم نے !“ مستانی خوشی سے بولی ۔” انسانی وجود کے لیے جسم
روح اور عقل کا ہونا ضروری ہے ، یہ انسان کی حقیقت ہے۔ جسم روح اور عقل کے بغیر
خاک کا ڈھیر ہے ۔۔ جسم مادہ ہے۔ جسم حاضر ہے۔ جب کہ عقل اور رُوح غائب عنصر ہیں۔
عقل کو نہ کسی نے پایا ہے اور نہ ہی کسی نے دیکھا ہے۔“ میں نے کہا۔
”اس ہی طرح روح ہے۔ عقل اور روح کی۔۔۔۔ ابھی میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ
مستانی بات کاٹ کر بولی ۔”عقل کیا ہے ۔۔ انسانی سوچ ہے اور انسانی سوچ وہی ہے جو
ہم کو حواس بتاتے ہیں ۔ حواس کے متبادل انسان جو کچھ کرتا ہے وہ بھی اس کی سوچ ہے
، عقل ہے، یہی حال روح کا ہے ۔ یہ بھی غائب عنصر ہے۔ اسے بھی کسی نے نہیں دیکھا۔
لیکن اس کا وجود قوی ہے کیوں کہ روح مرکزِ خیالات ہے ۔ اس کے بغیر زندگی ممکن
نہیں۔ اور روح کے بغیر وحدانیت نہیں ، روح کے بغیر حقانیت نہیں ۔“
ابھی مستانی اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ دور کہیں سے فجر کی اذان بلند ہوئی۔ ”
اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، اللہ اکبر ۔۔۔“ مستانی نے ایک دم سلسلہ کلام ختم کر دیا
اور گردن جھکا کر نہایت ہی احترم سے اذان سننے لگی میں کبھی مستانی اور کبھی
کوٹھری کے درو دیوار کو تکنے لگتا۔
ایک تو موضوع اہم تھا ۔ پھر مستانی کے سمجھانے اور بات کرنے کا انداز ایسا
تھا کہ مجھے وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ اذان ختم ہوتے ہی میں نے کئی عورتوں کو سفید
، سبز اور زعفرانی لباس پہنے کوٹھری میں داخل ہوتے دیکھا ۔ ان کا آدھا چہرہ نقاب
سے چھپا ہوا تھا۔
وپ دو دو اور تین تین کے غول میں کوٹھری کے اندر داخل ہو رہی تھیں اور نہایت
ہی ادب سے مستانی کے پیچھے کھڑی ہوئی جا رہی تھیں ۔ کوٹھری جلد ہی عورتوں سے بھر
گئی۔ میرا خیال تھا کہ اب عورتیں نہیں آئیں گی کیوں کہ کوٹھری میں بیس (۲۰) عورتوں
سے زیادہ گنجائش نہیں تھی۔ لیکن وہ برابر آئے چلی جا رہی تھیں ۔ پھر جو میں نے نظر
اٹھا کر دیکھا تو عورتوں کی قطاریں ہی قطاریں نظر آ رہی تھیں۔
یہ ایک ایسا روح پرور منظر تھا کہ مجھے اپنا بھی ہوش نہیں رہا۔ عورتوں کا
ایک جم غفیر تھا جو مستانی کی قیادت میں نماز ادا کر رہا تھا۔
میری نظر سفید ریش بزرگ پر پڑی جو بغلی دروازہ کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے
انہیں روکتے ہوئے پوچھا ۔” محترم بزرگ ! یہ سب کیا ہے ، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟“
میری بات سن کر بزرگ کے چہرے پر تبسم پھیل گیا۔ وہ نہایت ہی سرگوشی میں بولے
”بیٹا ! یہ وہ دنیا ہے جسے ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا ۔“
”لیکن ، یہ خواتین کون ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”یہ خواتین “ بزرگ نے اسی طرح سرگوشی سے جواب دیا۔” یہ وہ خواتین ہیں جنہوں
نے اپنی زندگی میں نیک کام کیے اور باری تعالیٰ اُن سے خوش ہیں۔ یہ اسی قبرستان
میں دفن ہیں ، یہ قبرستان ہی ان کا مسکن ہے۔“
اتنا کہہ کر سفید ریش بزرگ تیزی سے بغلی دروازہ میں داخل ہوگئے ۔ میں پلٹ کر
مستانی کو ایک نظر دیکھا۔ وہ نہایت ہی شریں لہجہ میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر رہی
تھی۔ اس پر ایک عجیب محویت کا عالم طاری تھا اور پھر مزید معلومات حاصل کرنے کی
خاطر سفید ریش بزرگ کے پیچھے لپکا۔ لیکن یہ کیا۔۔۔؟ دروازہ میں داخل ہوتے ہی میں
ایک قبر کے پاس کھڑا تھا۔
اب وہاں نہ کوئی کوٹھری اور نہ ہی خواتین کی جماعت۔ قبرستان کا ویرانہ میرے
گرد تھا۔ میں نے گھبرا کر چاروں جانب دیکھا ۔ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے ؟ کہیں میں
خواب تو نہیں دیکھ رہا تھا۔ میں نے سوچا ، اگر یہ خواب تھا تو پھر میں قبرستان میں
کیسے پہنچ گیا۔
اپنے اس شک کو دور کرنے کی خاطر میں نے آنکھوں کو خوب ملا ، ہاتھوں کی
انگلیوں کو کاٹا اور جب یقین ہو گیا کہ جو کچھ دیکھا تھا خواب نہیں تھا تو ایک قبر
کے تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اب میرے ذہن میں گزرے ہوئے لمحات دوبارہ آنا شروع
ہو گئے۔
میں نے مستانی کو شاہی بازار میں دیکھا تھا اور ا س کا تعاقب کرتے ہوئے
مارکیٹ کے چوراہے تک آگیا تھا جہاں اس نے مجھے نہایت ہی لذیذ پان کھلایا تھا۔ پھر
وہ تانگہ اسٹینڈ کے پاس کوڑے کے ڈھیر پر آکر بیٹھ گئی تھی یہیں اس نے مجھے روحوں
کے بارے میں بتانے کے بجائے احمقانہ انداز سے گفتگو کی تھی اور پھر آدھی رات گزرنے
کے بعد وہ اس ویران قبرستان کی طرف چل دی تھی اور میں بھی اس کے پیچھے ہی یہاں تک
آگیا تھا۔۔۔ اور۔۔۔ کوٹھری کے اندر مستانی سے جو باتیں ہوئیں اور ۔۔۔ بعد میں اس
کی جو قدرو منزلت نظر آئی۔۔ وہ سب حقیقت تھی۔
اب تاریکی چھٹنا شروع ہوگئی تھی۔ سپیدہ سحر پھیل رہا تھا۔۔ مستانی مجھے
قبرستان کے آخری سرے پر جاتی دکھائی۔۔ اس نے وہی معمولی سا میلا کرتا پہن رکھا
تھا۔
میں نے جلدی سے آنکھوں کو ایک بار پھر ملا اور پوری قوت سے چلا کر اُسے آواز
دی آواز سنتے ہی اُس نے مُڑ کر میری طرف دیکھا اور کھڑی ہو گئی ۔ میں تیزی سے
بھاگتا ہوا اس کے قریب پہنچا۔
وہ اپنی میلی آستین سے ناک صاف کرتے ہوئے بولی ۔” تو ابھی تک یہاں ہے گھر
نہیں گیا؟“
نہیں ۔۔۔ مستانی نہیں۔۔ میں گھر نہیں جاؤں گا۔“ میں نے پھولی سانس سے جواب
دیا۔
”گھر جا ، خان ، آرام کر ۔ ورنہ لوگ تجھے بھی میری طرح پاگل سمجھنے لگیں
گے۔“ مستانی نے سمجھایا۔
” تو کون ہے؟ یہ سب کیا ہے، مجھے بتا ورنہ ۔۔ ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔ “
میں نے ضدی بچے کی طرح کہا۔
”میرے بارے میں جاننے سے زیادہ تمہیں خود اپنے بارے می جاننا چاہیئے۔“
مستانی نے پھیکی مسکراہٹ سے جواب دیا ۔” لیکن ، مشکل تو یہ ہے کہ تمہیں اپنا ہوش
نہیں ہے اور میرے پاس وقت نہیں ہے۔“
”تو پھر ، کیا ۔۔۔ میں ہوں ہی رہ جاؤں گا؟ “ میں نے پوچھا۔
”سوچنا تو یہی ہے ۔“ اس نے خلا میں دیکھتے ہوئے کہا۔” پھر دوسرے ہی لمحے زور
سے قہقہ لگا کر مخاطب ہوئی ۔” مجھ سے عشق کرے گا /“
میں نے اقرار کے انداز میں گردن ہلا دی۔
”ٹھیک ہے اگر تیرا عشق سچا ہے تو آدھی رات کے بعد جیک تالاب پر آجانا “
مستانی نے جیسے مجھے حکم دیا ۔” جا، اب گھر جا۔“
اتنا کہہ کر وہ دیوانوں کی طرح تیز تیز قدم اٹھاتی مارکیٹ کی طرف چل دی۔ میں
بُت بنا اسے جاتت دیکھتا رہا۔
جیک تالاب ۔ حیدرآباد شہر کے باہر معصوم شاہ کلہوڑا کے مقبرے کے پیچھے
نشیبوں میں واقع تھا۔ اس تالاب میں نہ صرف بارش کا پانی جمع رہتا تھا بلکہ ایک بڑی
سی نالی کے ذریعے پھیل نہر کا پانی بھی اس میں آجاتا تھا۔
کہتے ہیں انگریز افسر جیکب نے یہ تالاب اپنی فوجوں کے گھوڑوں کو پانی پلانے
کی خاطر بنوایا تھا۔ یہ وہی”سرجیکب ہیں جن کی یاد میں کراچی میں جیکب لائن اور
سندھ میں جیکب اباد ابھی تک قائم ہیں۔
اس تالاب میں مچھلیاں بھی ہوتی تھیں اور مچھلی کے شکار کے شوقین حضرات اکثر
یہاں آ کر مچھلیاں پکڑا کرتے تھے۔
میں اسکول کے زمانے میں اکثر دوستوں کے ساتھ معصوم شاہ کلہوڑہ کے مقبرے تک
آیا کرتا تھا۔ اور یہیں سے نشیب میں واقع جیکب تالاب کو دیکھا کرتا تھا۔ کیوں کہ
یہ جگہ شہر سے باہر تھی ، اس لیے جنگل ہی کا حصہ نظر آتی تھی۔ اب تو جیکب تالاب کا
دامن سمٹ کر کم ہو چلا ہے اور حیدرآباد کی آبادی اس کے کناروں تک پہنچ چکی ہے۔
مستانی نے مجھے آدھی رات کو اس جگہ بلایا تھا جب کہ لوگ دن میں بھی بہت ہی
کم ادھر کا رخ کرتے تھے ۔ ایک بار تو جی میں آیا کہ وہاں جانے کا ارادہ ترک کر دوں
لیکن روحوں کا بھید جاننے اور مستانی کی پُراسرا شخصیت نے مجھے وہاں جانے پر مجبور
کر دیا۔