Topics
حیدر آباد پیروں ، فقیروں اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کا شہر ہے۔ یہاں اللہ
کے نیک بندوں کے مزارات ہیں جہاں ہر وقت مست قلندروں کے جمگھٹ لگے رہتے ہیں۔
اب میرا کام صرف یہ تھا کہ دفتر سے فارغ ہونے کے بعد کسی بھی مشہور درسگاہ
پر جاتا اور جس کو بھی اپنے خیال کے مطابق عامل سمجھتا اس کے سامنے اپنا مدعا بیان
کر دیتا۔
کچھ لوگ مجھے جھوٹی تسلی دینے کی غرض سے تعویذ وغیرہ بھی دیتے اور اسے
استعمال کرنے کے عجیب بے تکے طریقے بتائے ، چند پاگل قسم کے لوگ جنہیں مجذوب کہا
جاتا تھا رانی کا آسیب اتارنے بھی آئے لیکن رانی کی نادیدہ قوت نے ان کی وہ گت
بنائی کہ انہوں نے دوبارہ ادھر نہ آنے کی قسم کھا لی۔
اس طرح تقریباً پانچ ماہ گزر گئے۔
اب تک کے حالات نے مجھے اس بات کا مجھے پختہ یقین دلایا کہ اس دنیا میں
روحوں آسیب اور جادو وغیرہ کا وجود ہے۔
میری کوشش یہ تھی کہ ماہر نفسیات ، کوئی پیر ، کوئی فقیر ، کوئی بزرگ ایسا
مل جائے جو نہ صرف رانی کو اُس روح سے نجات دلا دے بلکہ مجھے بھی ”روح“ کی حقیقت
سے آگاہ کر دے لیکن میں ابھی تک اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا۔
پھر ایک شام جب کہ وادی مہران میں سردیوں کی آمد آمد تھی اور میں شاہد تفریح
کر کے واپس گھر لوٹ رہے تھے تو گاڑی کھاتہ میں ایک پنواڑی کی دکان پر پان کھانے کی
خاطر رک گئے۔
شاہد نے پنواڑی سے دو پان بنانے کو کہا۔ اس کے ساتھ ہی کسی نے بڑے زور سے
پیری پیٹھ پر ہاتھ مارا اور ساتھ ہی ایک نسوانی آواز بھی سنائی دی ”پان کھلا۔“
”میں نے پلٹ دیکھا ۔ حیدرآباد کی مشہور خاتون جو مستانی کے نام سے مشہور تھی
سامنے کھڑی مسکرارہی تھی۔ اس کے جسم پر ایک لمبا پھٹا ہوا میلا کرتا تھا۔ سر کے
بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے جن میں مٹیکی ہلکی تہ جمی ہوئی تھی۔
اس کو پان کھانے کا بہت ہی شوق تھا اور تمام پنواڑی اسے پان کھلانا اپنی خوش
قسمتی سمجھتےتھے۔کیوں کہ ان کا عقیدہ تھا کہ مستانی جس دکان سے پان کھا لیتی ہے اس
دکان کی سیل بڑھ جاتی ہے۔ مشہور تھا کہ مستانی اگر کسی تانگہ میں لمحہ بھر کے لیے
بیٹھ جائے تو دن بھر سب سے زیادہ سواریاں اسی تانگہ میں بیٹھتی ہیں۔
لوگ اُسے مستانی اس وجہ سے بھی کہتے تھے کہ بعض دفعہ اسے اپنا ہوش بھی بالکل
نہیں رہتی۔ وہ کبھی کبھی ایک انجانے سے کیف و سرور کے عالم میں سڑک پر رقص کرنے
لگتی تھی اور اس رقص کے دوران جس کو بھی دعا دے دیتی وہ ضرور پوری ہوتی عام حالت
میں وہ سڑکوں پر ماری ماری پھرتی ، لوگوں کو برا بھلا کہتی تھی، لیکن کوئی بھی اس
کی بات کا بُرا نہیں مانتا تھا۔
مستانی کے بارے میں عام لوگوں یہ خیال تھا کہ وہ اللہ کے برگزدہ بندوں میں
سے ہے۔اس کے بارے میں چند ایک کرامات بھی مشہور تھیں۔ ان ہی میں سے ایک کرامت یہ
مشہور تھی کہ مستانی کو کبھی کسی نے بھیک مانگتے نہیں دیکھا۔ حالانکہ لوگوں نے
اپنی مرادیں پوری ہونے کی خوشی میں ایک سے ایک اعلیٰ کھانے پکوا کر اس کے سامنے
رکھے لیکن مستانی نے ہمیشہ ان سے لاپروائی برتی اور صرف پان کھانے پر ہی اکتفا کیا۔
کچھ لوگوں کے ذہن اس کے برخلاف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ایک ”پاگل عورت ہے
جسے ضعیف الاعتقاد لوگوں نے اللہ کے برگزیدہ بندوں میں شامل کر دیا ہے اور ساتھ ہی
اس کے بارے میں بے سروپا باتیں مشہور کر دی ہیں۔ حالانکہ مستانی صرف اورصرف ایک
پاگل عورت ہے۔
میں بھی اکثر مستانی کو مردوں سے باتیں کرتے اور پنواڑیوں سے پان کھاتے
دیکھا کرتا تھا۔ کبھی ارتفاق نہیں ہوا کہ میری اس سے بات ہوئی ہو اور مجھے اس کی
ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس وقت اچانک ہی مستانی سے سامنا ہو گیا تھا۔ میرے وہم و گمان
میں بھی یہ بات نہیں تھی۔ خدا جانے وہ اس وقت کہاں سے ٹپک پڑی تھی۔
اس نے حسب ِ عادت نہایت بے تکلفی سے میری پیٹھ پر ہاتھ مار کر پان کھلانے کی
فرمائش کی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا پنواڑی نے خود ہی ایک بڑے سے پان کا
بیڑا بنا کر اس کی طرف بڑھایا۔ مستانی کے میلے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ اس نے دیر
سے کھایا ہوا پان فٹ پاتھ پر تھوک دیا اور پنواڑی سے بولی۔”رکھ لے بیٹا ، تیرے پھر
کام آئے گا۔“ اور مجھ سے دوبارہ مخاطب ہوئی ۔”پان کِھلا ۔“
مستانی کے جسم سے اٹھنے والی بدبو نے ہم دونوں کو ناک پر رومال رکھنے پر
مجبور کر دیا۔ پھر شاہد سخت لہجہ میں بولا ۔”معاف کرو۔“
اس کے خیال میں یہ حواس باختہ عورت فقیرنی تھی۔
”کیوں ، پیسے نہیں ہیں کیا؟ مستانی نے ڈھٹائی سے پوچھا اور اس کے ساتھ ہی
اُس نے ہم دونوں کے سامنے اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی کھول دی۔ اس کی مٹھی میں ایک
روپیہ کا نیا نوٹ دبا ہوا تھا۔
ہم دونوں اس بات سے متاثر ہونے کے بجائے روکھے پن سے بولے۔
”پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو، بدبو کے مارے دماغ پھٹا جا رہا ہے۔“
”پان کھلا دو۔ بدبو بھی دور ہو جائے گی۔“ مستانی نے شرارت سے کہا۔
اس کے ساتھ ہی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے گلاب کی خوشبو کا ایک جھونکا میری
ناک سے ٹکراتا ہوا گزر گیا۔ میں نے پہلی بار نظر بھر کر مستانی کی طرف دیکھا۔
وہ ٹھوڑی پر انگلی رکھ کر بڑے عجیب انداز سے بولی۔”دیکھتا کیا ہے؟ ۔ پان
کھلا۔“
نجانے کیوں میرے دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ رانی کو دکھا دیا جائے۔ شاہد
یہ حواس باختہ عورت ہی کچھ کر جائے۔
”بابو جی! خوش قسمت ہو جو مستانی نے تم سے پان کی فرمائش کی ہے۔“ پنواڑی مجھ
سے مخاطب ہوا۔ میں کوئی جواب دینے کے بجائے مستانی کے بارے میں سوچنے لگا۔
”ابے ! سوچتا کیا ہے، مستانی کو بھی آزما کر دیکھ لے۔“ وہ دیوانوں کی طرح
قہقہ لگا کر بولی۔
میرا ماتھا ٹھنکا۔ یہ پاگل عورت میرے دل کی بات کیسے جان گئی۔
میں نے مستانی کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا اور نہایت ہی سرگوشی میں اس سے
بولا۔ ”تو۔۔پھر چل!“
”ایسے نہیں“ وہ زور سے ہنس کر بولی۔”پہلے پان ، پھر کام۔“
اس عرصہ میں پنواڑی مجھے اور شاہد کو پان دے چکا تھا جسے ہم دونوں اپنے اپنے
منہ میں رکھ چکے تھے۔
میں نے پنواڑی سے مستانی کے لیے پان تیار کرنے کو کہا۔ شاہد غالباً ہماری
باتوں سے اُکتا چکا تھا ۔ لہذا اس نے مجھے چلنے کا اشارہ کیا۔
پنواڑی نے مستانی کو پان دیا۔ مستانی نے پان منہ رکھا۔ پھر میرا ہاتھ کلائی
سے پکڑ کر سڑک کی طرف کھینچتے ہوئے بولی۔ ”چل دیکھتی ہوں ، کون ہے؟“
مستانی کا یہ جملہ میرے لیے معنی خیز تھا۔ گاڑی کھاتہ کیے لوگ اس کی عادت سے
واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جب مستانی موج میں ہوتی ہے تو وہ اس ہی طرح راہ چلتے
لوگوں سے باتیں کرتی ہے۔
ابھی وہ میرا ہاتھ پکڑے چند قدم ہی چلی ہوگی کہ سڑک پر گزرتے ہوئے ایک تانگے
والے نے ازراہ مذاق پوچھا۔۔۔ مستانی۔۔۔کدھر؟“
”اپنے سسرال “ مستانی نے بے ساختہ کجواب دیا ۔ پھر اُسے ہاتھ کے اشارے سے
روکتے ہوے بول۔” کیا مجھے گھر نہیں پہنچائے گا؟“
تانگہ والا فوراً ہی رک گیا۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی کہ آج مستانی نے خود ہی
تانگہ میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ میں مستانی کے ساتھ پیچھے اور شاہد آگے
تانگے والے کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پھر ہم خالہ کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں
شاہد نے بار بار مستانی سے اظہارِ بیزارگی کیا۔ لیکن میرے دل و دماغ سے یہ صدا آتی
تھی کہ آخر اسے آزما لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ پھر بھی اسے مزید کریدنے کی خاطر میں
نے کہا۔ ”مائی مستانی“ اس کے سامنے تو کوئی ٹھہرتا ہی نہیں ہے۔“
”ابھی اُسے کوئی مرد کا بچہ ملا ہی نہیں ہے۔“ مستانی نے جواب دیا۔
”سوچ لے ، سمجھ لے ۔“ میں نے اسے متنبہ کیا۔ ”وہ اچھے اچھوں کو بھگا چکی
ہے۔“
”ارے ! مستانی کو بھگانے والا ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔“ اس نے دانت پیس کر
کہا۔“ پھر دوسرے ہی لمحہ زور سے ہنس کر تانگہ والا سے بولی۔”کیوں بھائی میرے ساتھ
بھاگے گا؟“
”رحم کر مائی ۔“ تانگہ والا ہاتھ جوڑ کر بولا۔”تیرے ساتھ تو ہوائی جہاز بھی
نہیں بھاگ سکتا۔“
اور جب میں نے تانگہ والے سے اس بارے وضاحت چاہی تو اس نے بتایا۔” مستانی
پلک جھپکتے میں سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کر لیتی ہے۔ بہت سے لوگوں نے مستانی کو
ایک ہی وقت میں کئی شہروں میں بھی دیکھا ہے۔ یہ اس کی تیز رفتاری کی مثال ہے۔“
تانگہ والے کی یہ بات سن کر میں مسکرا دیا۔ میرے ذہن میں ایک بار پھر مادہ
پرستی نے جُھرجُھری لی تھی۔مائی مستانی کی اب تک کی باتوں سے میں نے صرف یہ اندازہ
لگایا تھا کہ وہ کچھ نہ کچھ ہے ضرور اور پھر جہاں بہت سے پیروں اور فقیروں کو
آزمایا جا چکا تھا ، وہاں مستانی کو آزما لینے میں کیا حرج تھا۔
جس وقت ہم لوگ گھر پہنچے تو سورج ڈوب چکا تھا اور رات کی سیاہی آہستہ آہستہ
اپنا دامن پھیلا رہی تھی۔ خالہ جان صحن میں بیٹھی چھالیہ کتر رہی تھیں اور رانی
حسبِ معمول اپنے کمرے میں پلنگ پر لیٹی تھی۔ مائی مستانی عین صحن کے بیچ میں آلتی
پالتی مار کر بیٹھ گئی۔
خالہ جان نے ایک نظر مستانی پر ڈالی اور مجھ سے بولیں ۔”ارے بیٹا! اسے تم
کہاں سے پکڑ لائے۔ یہ تو پاگل عورت ہے۔ دن بھر گلیوں میں بچوں کے ساتھ کھیلتی رہتی
ہے۔“
”زندگی کھیل کا ہی نام ہے۔“ مائی مستانی خالہ سے مخاطب ہوئی۔
اس کے ساتھ ہی رانی اپنے کمرہ کے دروازہ پر نمودار ہوئی اسے معمول کے مطابق
کسی انجانے ذریعہ سے مستانی کی آمد کا پتہ چل گیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ کچھ ہی
دیر میں وہ مستانی کا گالیاں دینا شروع کر دے گی اور اگر پھر بھی وہ نہ بھاگی تو
دست و گریبان ہو جائے گی۔
رانی دروازہ کے درمیان میں کھڑی مستانی کو گھور رہی تھی ۔ لمحہ بہ لمحہ اس
کی آنکھیں سُرخ ہوتی جا رہی تھیں۔
مستانی نے بھی اپنی نگاہیں رانی کی نگاہوں میں گاڑ رکھی تھیں۔ وہ دونوں
پلکیں جھپکائے بغیر ایک دوسرے کو تکے جا رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں
میں مسمریزم کا مقابلہ ہو رہا ہے۔
حق اور باطل کا یہ معرکہ کچھ عجیب نوعیت کا تھا۔ ہم سب دم بخود کبھی رانی
اور کبھی مستانی کو دیکھ رہے تھے۔ مائی مستانی کے چہرے پر جلال برس رہا تھا اور اس
کے ساتھ ہی کبھی کبھی گلاب کی خوشبو کا جھونکا ہم سب کے دماغ کو معطر کر جاتا تھا۔
قریب قریب پانچ سات منٹ تک وہ دونوں نظریں ملائے رہیں۔ پھر آہستہ آہستہ رانی کی
نظریں جھکتی چلی گئیں جیسے اسے شکست ہو گئی ہو۔ اب وہ فرش کو تک رہی تھی جیسے
شرمندہ ہو۔
” بس ، بیٹا ہار گئے۔“ پر سکون فضا میں مائی مستانی کی آواز گونجی۔ پھر وہ
اپنے سامنے زمین پر ہاتھ مار کر بڑے ہی پیار بھرے لہجے میں بولی ۔ ”آؤ بیٹا ! یہاں
آجاؤ ۔“
رانی نے ایک نظر مستانی کی طرف دیکھا اور دوبارہ گردن جھکا لی۔
”آجاؤ بیٹا ، آجاؤ “ مائی مستانی نے دوبارہ اس ہی لہجے میں رانی کو مخاطب
کیا لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس تک نہ ہوئی۔
”ایسے نہیں مانو گے ۔“ مائی مستانی نے مسکرا کر کہا۔
پھر اس نے اپنے دائیں ہاتھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اور وہی ہاتھ زمین پر زور
سے دے مارا۔ اس کے ساتھ ہی رانی اپنی جگہ سے اس اچھلی جیسے کرنٹ لگا ہو۔ پھر دوسرے
ہی لمحہ وہ چاروں ہاتھوں پیروں سے ندر کی طرح چلتی ہوئی مستانی کے سامنے پہنچ کر
رک گئی۔
”اوہو! تو یہ تو ہے۔“ مائی مستانی کے لہجے میں قدرے حیرت نمایاں تھی۔
ہم سب بے جان بتوں کی مانند گم سُم بیٹھے دیکھ رہے تھے۔
”بیٹھ جاؤ۔“ مستانی نے نہایت رُعب سے رانی کو حکم دیا۔
رانی اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ لیکن اس نے منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ معلوم ہوتا
تھا کہ وہ مستانی کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کر رہی ہے۔
”میری طرف دیکھو ۔“ مائی مستانی رانی سے مخاطب ہوئی۔
”دور ہو یہاں سے !“ رانی نے اسے بُری طرح دھتکارا اور اٹھ کر جانے لگی۔
اس ہی لمحہ مائی مستانی نے اپنی میلی قمیض کا دامن دانتوں میں دبا لیا۔ رانی
جوں کی توں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ ہم سب نے دیکھا ، اس نے جانے کی خاطر دو تین بار
پاؤں اٹھائے لیکن یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے اس کے پاؤں سختی کے ساتھ زمین سے
جکڑ دیئے ہوں۔
مائی مستانی دانتوں میں اپنی قمیض کا دامن دابے مسکرا رہی تھی۔
پھر رانی آہستہ آہستہ خود ہی فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔
”اسے ، اسے کیوں تنگ کرتا ہے؟“ مائی مستانی نے رانی سے پوچھا۔
”میری مرضی ۔“ رانی نے ہنس کر جواب دیا۔
اب اس کی آواز بالکل ہی بدل چکی تھی۔ وہ مردوں جیسی بھاری آواز میں باتیں کر
رہی تھی۔
”تیری مرضی نہیں چلے گی۔“ مائی مستانی نے غصے سے کہا۔
”تیری مرضی بھی نہیں چلے گی۔“ رانی نے ایک بے ہنگم سا قہقہ لگا کر کہا۔
”میری مرضی چلے گی۔“ مائی مستانی کا لہجہ سخت ہو گیا۔
”اری جا ، یہ میری معمول بن چکی ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں۔“ رانی نے
اس ہی طرح زور سے ہنس کر جواب دیا۔
”تیری محبت کی ایسی کی تیسی۔ سچ سچ بتا ، تو یہاں کیوں آیا ہے؟“ مائی مستانی
نے کرخت لہجے میں پوچھا۔
جواب میں رانی نے تیزی سے مستانی کے سر کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ غالباً وہ اُس
کے بال پکڑنا چاہتی تھی۔ لیکن مستانی چوکنی تھی۔ اس نے جھکائی دے کر سر کو بچایا
اور اسے ڈانٹتے ہوئے بولی ۔”خبردار! مجھے ہاتھ نہ لگانا۔“
اس کے ساتھ ہی اس نے آہستہ سے زمین پر ہاتھ مارا ۔ رانی سہم کر سمٹ گئی۔
”بتا ، کیوں آیا ہے؟“ مستانی نے دوبارہ فضا میں ہاتھ بلند کر کے پوچھا۔
” جا ، جا ! اپنا کام کر ۔“ رانی نے لاپروائی سے جواب دیا اور ساتھ ہی زمین
پر زور سے ہاتھ مارا۔
زمین پر دھپ کی آواز کے ساتھ ہی مستانی اپنی جگہ سے اس طرح اچھلی جیسے اُسے
کسی نے کھڑا کر دیا ہوا۔
” کیا تو اللہ والوں سے مقابلہ کرے گا !۔“ مائی مستانی نے دوبارہ اپنی جگہ
پر جم کر بیٹھتے ہوئے کہا۔ مستانی سے مقابلہ کرے گا؟۔ ارے اللہ کی دیوانی کے
مقابلے پر آئے گا ؟ آ، آ پنجہ لڑائے گا ؟“
اتنا کہہ کر مستانی نے اپنے سیدھے ہاتھ کا پنجہ رانی کی طرف بڑھا دیا۔
رانی نے ایک زور دار قہقہ لگایا اور ہاتھ زمین پر مارنے کی خاطر اٹھا دیا۔
مستانی نے اپنے ہاتھ کے نیچے کا رخ رانی کی طرف کر رکھا تھا۔ رانی نے زمین پر زور
سے ہاتھ مارا اور اس کے ساتھ ہی اس نے ایک دل خراش چیخ مار کر اپنا ہاتھ پکڑ لیا۔
” اللہ کی دیوانی سے لڑے گا ؟“ مائی مستانی نے ایک زور دار قہقہ لگا کر طنز
کیا اور ساتھ ہی پنجہ زمین میں گاڑ دیا۔ مائی مستانی نے جیسے ہی پنجہ زمین پر گاڑا
، رانی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا گلا پکڑ لیا۔ اس کی آنکھیں باہر کو اُبل پڑیں۔
معلوم ہوتا تھا کوئی اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ رانی کے منہ سے خر خر کی آواز نکلنے
لگی۔ خالہ جان سے رانی کی یہ حالت نہ دیکھی گئی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھیں۔ اس کے ساتھ
ہی مائی مستانی کڑک دار آواز سے بولی ۔”خبردار ! کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔“
خالہ جان پھر ویسے ہی دم سادھ کر بیٹھ گئیں۔
”چھوڑدے ، مجھے چھوڑ دے ۔“ رانی کی گھٹی آواز میں چلائی۔
”پہلے بتا تو کیوں آیا؟ کس نے تجھے بھیجا؟ “ مستانی اپنا سوال دہرایا۔
” مجھے زمیندار کے لڑکے نے بھیجا ہے۔ وہ شادی کرنا چاہتا ہے۔“ رانی نے بے
بسی سے جواب دیا۔
یہ سنتے ہی خالہ اور شاہد اس طرح چونکے جیسے خواب سے بیدار ہوئے ہوں۔ اب
انہوں نے سمجھا کافی عرصہ قبل شادی سے انکار پر اصغر نے یہ نازیبا حرکت کی ہے۔
مائی مستانی نے ایک نظر ہم سب کی طرف دیکھا اور پھر فوراً ہی پنجہ ہٹا کر
زمین پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔” اچھا چل ، اب بھاگ یہاں سے۔“
اس کے ساتھ ہی رانی نے اپنی کمر پکڑ لی جیسے مستانی نے اس کی کمر پر ہاتھ
مارا ہو۔ پھر ۔۔ پھر جیسے مستانی پر جنونی کیفیت طاری ہو گئی ہو۔ وہ زمین پر مسلسل
پوری قوت سے ہاتھ مار رہی تھی اور صحن میں رانی کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں۔ زمین
پر مائی مستانی کا ہاتھ پڑتے ہی رانی اپنے جسم کے کسی نہ کسی حصہ کو چیخ مار کر
پکڑ لیتی تھی جیسے مستانی اُسے براہ راست مار رہی ہو۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے رانی کے سر کے عین درمیان سے چند بال اوپر کو اٹھنا
شروع ہوگئے۔ یہ منظر ہم سب کے لیے حیرت انگیز تھا۔ مستانی جوں جوں زمین پر ہاتھ
مارتی جاتی تھی رانی کے سر کے بال اوپر کو اٹھتے جاتے تھے اور جب بال کسی حد تک
ایستادہ ہو گئے تو مستانی نے آگے ہاتھ بڑھا کر انہیں نوچ لیا۔
اس کے ساتھ ہی رانی بے ہوش ہو کر زمین پر لڑھک گئی ۔ ہم سب جو بُت بنے یہ
تماشا دیکھ رہے تھے ، ایک دم اس کی جانب بڑھے۔
”اس کی شادی اُس ہی سے کر دے ورنہ پھر ستائے گا ۔“ مائی مستانی نے مجھ سے
مخاطب ہو کر کہا۔پھر وہ اپنا لمبا کرتا جھاڑتے ہوئے کھڑی ہو گئی اور بے ہوش رانی
کو اندر لے جانے کے لیے کہا۔
میں نے خالہ جان اور شاہد کی مدد سے رانی کو اٹھایا اور اندر کمرے میں لے
گئے۔ عین اسی لمحہ جب کہ ہم سب رانی کو پلنگ پر لٹا رہے تھے صحن میں سے مستانی کی
آواز سنائی دی۔” ارے او ، بے یقین ، پان تو کھلا دے ۔“
” ابھی دیتی ہوں “ خالہ نے کمرہ میں سے ہی جواب دیا اور جلدی سے رانی کے سر
کے نیچے تکیہ رکھ کر باہر نکل آئیں۔ میں بھی شاہد کے ساتھ باہر آگیا تاکہ رانی
مستانی کو انعام دے سکوں اور اس آسیب کی حقیقت معلوم کر سکوں لیکن صحن خالی پڑا
تھا اور خالہ جان حیرت کی تصویر بنی کھڑی تھیں۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ
مستانی آواز کے ساتھ ہی کہاں غائب ہو گئی۔
میں اور شاہد باہر کی طرف بھاگے لیکن باہر بھی گلی بالکل ویران پڑی تھی۔ میں
نے اسے حیدر آباد کی ہر سڑک پر ، گلی میں تلاش کیا وہ کہیں بھی نہ مل سکی۔