Topics

میں تارک الدُنیا ہو گیا

 

اس واقعہ کے بعد میرا دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا۔ میں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت مستانی کی کوٹھری میں گزارنا چاہتا تھا اور اس کے لیے بعض دفعہ دفتر سے چھٹی کے بعد سیدھا جیکب تالاب پہنچ جاتا تھا۔یہ وہ وقت ہوتا تھا جب سورج مغرب کی سمت جھکنا شروع کرتا ہے۔ دنیا سے بیگانگی دیکھتے ہوئے مستانی نے مجھے اس بات کی اجازت دے دی کہ میں جب چاہوں اس کی کوٹھری میں آ سکتا تھا۔

میں چھٹی کے بعد جب بھی جیکب تالاب پہنچا مستانی کو غیر موجود پایا۔ کیو نکہ وہ دن اور رات کا بیشتر حصہ شہر میں گزارا کرتی تھی۔ البتہ سفید ریش بزرگ جنہیں مستانی احتراماً بابا جی کہتی تھی، وہاں موجود رہتے تھے۔

بابا جی مجھے چھوڑ کر باہر نکل جاتے۔ میں کوٹھری میں پہنچ کر وضو کرتا۔ اگر وقت ہوتا تو فرض نماز ادا کرتا ، نہیں تو نفلوں میں مشغول ہو جاتا۔ پُر سکون ماحول کا اثر تھا کہ نماز کے دوران مجھے معلوم ہی نہیں ہو پاتا تھا کہ مستانی کس وقت آتی ہے۔

نماز میں منہک دیکھ کر مستانی نے بھی کبھی مجھے اپنی آمد کا احساس نہیں دلایا۔ البتہ جب میں نماز سے فارغ ہوتا تو وہ مجھے پلنگ پر لیٹی نظر اتی۔ یا پھر دوسرے کونے میں مصلا بچھائے عبادت کرتی نظر آتی۔

مستانی کو باجرہ کی روٹی اور پودینہ کی چٹنی بے انتہا مرغوب تھی۔ شروع میں جب ایک دو بار اس نے مجھے دعوت دی تو میں نے کمتر غذا سمجھ کر انکار کر دیا۔ لیکن جب ایک بار کھالی تو یقین جانیے منہ کو ایسا مزہ لگا کہ کوئی دوسری غذا کھانے کو دل ہی نہیں چاہتا تھا۔

مستانی کے قریب رہ کر میں نے جو کرامات دیکیں ان سے میری نظروں میں مستانی کی قد رو منزلت بڑھتی چلی گئی۔مستانی کا دنیٰ سے ادنیٰ کام کرنا میرے لیے باعثِ فخر تھا میں نے خود کو مستانی کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس کا معمولی سے معمولی کام کر کے مجھے ایک عجیب طرح کی خوشی ہوئی تھی۔ میں نے یہ معمول بنا لیا تھا کہ رات کے پچھلے پہر جب مستانی پلنگ پر سونے کی خاطر لیٹتی تو میں اس کے پیر دباتا یا سر میں تیل کی مالش کرنے لگتا۔

مستانی جو کہ بظاہر پگلی اور حواس باختہ نظر آتی تھی درحقیقت عشق الٰہی کی ایسی منزل پر فائز تھی جہاں پہنچنے کی خاطر عمر عزیز کا بیش تر اور طویل حصہ عبادت و ریاضت میں گزارنا پڑتا ہے۔ یہ سارا کمال اس کے والد کا تھا۔ یہ بزرگ عمر عزیز کے سو سال پورے کر چکے تھے اور اب اپنی بیٹی کی نہگبانی پر مامور تھے۔ ان محترم بزرگ نے اپنی بیٹی کی تعلیم و تربیت اس طرح سے انجام دی تھی کہ خداوند کریم نے اُسے اپنی بے پناہ نوازشوں سے نواز دیا تھا۔ وہ عارفہ تھی اور کائنات میں اُسے تصرف حاصل تھا۔

مستانی کی قلندرانی تربیت کی وجہ سے میں ملازمت چھوڑ چکا تھا۔ جہاں تک گھر کا تعلق تھا وہاں صرف میرا ایک باپ تھا ۔ وہ بھی کسی بیوہ کے چکر میں پڑ کر اسی کا ہو گیا تھا۔ اب اس دنیا میں ساتھی ، میرا مونس و غم وخوار جو کچھ بھی تھا وہ مستانی کی ذات تھی۔میں کلی طور سے خود کو مستانی کے سپرد کر دیا تھا اور مستانی نے بھی مجھے راہِ حق کا مسافر بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس نے مجھ پر نگاہِ کرم نہیں ڈالی تھی۔ بس ، میں خود ہی کثرت سے نفلیں ادا کرنے لگا تھا۔ البتہ وہ مجھے ہمیشہ نفس پر قابو پانے کی نصیحت کرتی تھی۔

بابا جی رات کو بھی کوٹھری کے باہر رہتے تھے۔ میں انہیں دن میں کبھی کبھی مستانی کی غیر موجودگی میں کوٹھری کے اندر ضرورت کی کوئی چیز لینے کی خاطر آتے دیکھتا تھا ۔ ورنہ وہ سارا وقت کوٹھری کے باہر ببول کے ایک درخت کے نیچے گزارتے تھے۔

مستانی مجھ سے بہت کم ہی بات کرتی تھی۔ اس نے مجھ سے کبھی بھی کوئی فالتو بات نہیں کہی۔ کبھی کبھی وہ شہر میں گزرے ہوئے کسی خاص واقعہ کا ذکر کرتی اور میرے نفس کا جائزہ لیتی۔ میں بھی اس سے بہت کم بات کرتا تھا اور میرے پاس تو ویسے بھی کوئی موضوع نہیں تھا کیونکہ مجھے شہر سے نکلے ہوئے کئی ماہ و سال گزر چکے تھے۔

میرا لباس بوسیدہ ہو چلا تھا۔ سر کے بال اور داڑھی بے انتہا بڑھ چکی تھی۔ جب میرا دل چاہتا تالاب کے کنارے لباس پہنے ہی پہنے نہا لیا کرتا تھا۔

اس طرح تقریباً دو اڑھائی سال کا عرصہ گزر گیا۔ ایک دن مستانی مجھ سے بولی۔

”خان! کامل یکسوئی کے لیے تم ”اللہ ہو“ کا ورد کیا کرو۔ شاید تم نے دیکھا ہوگا کہ مائیں بچوں کو سلانے کی خاطر ”اللہ ہو ، اللہ ہو“ کا ورد کرتی ہیں اور بے چین بچہ اس ورد کے اثر سے بہر جلد مکمل سکون کے ساتھ سو جاتا ہے۔ اس نام کی برکت سے ہر شے کو قرار آجاتا ہے۔ تمہارا بھی منتشر ذہن جم جائے گا خیالات کی یلغار رُک جائے گی۔ تمہاری سوچ بدل جائے گی۔“

مستانی نے مجھے طریقہ بتایا اور میں اس کے بتائے ہوئے طریقے پر بیٹھ کر ”اللہ ہو“ کا ورد کرنے لگا۔

کچھ ہی دنوں بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ اس ورد کے شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد حرکت پزیر اشیاء ساکن ہونے لگتی ہیں۔ پھر جوں جوں دِن گزرتے گئے اس ورد کی تاثیر نمایاں ہوتی چلی گئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب کہ اللہ ہو کے ورد کے ساتھ تمام اشیاء ساکن ہو جاتی تھیں ۔ حتیٰ کہ ہلتے ہوئے درخت اور چلتی ہوئی بلیاں بھی رک جاتی تھیں

میرے دماغ کے ہر گوشے میں یہی آواز سما جاتی تھی ۔ پھر ۔۔۔پھر میرے ذہن میں کوئی اور تصور نہیں ہوتا تھا۔ اللہ ہو کی اس حیرت انگیز تاثیر سے میں نہ صرف حیرت زدہ تھا بلکہ خوش بھی تھا۔

اس کی تاثیر کو مزید نمایاں کرنے کی خاطر میں زیادہ سے زیادہ ، وقت بے وقت جب دل چاہتا اللہ ہو اللہ ہو کرنے لگتا۔ کبھی کبھی میں کوٹھری کے باہر بھی آجاتا اور کسی درخت یا جھاڑی کے سائے میں بیٹھ کر اللہ ہو کی ضربیں لگانا شروع کر دیتا ۔ بعض دفعہ اڑتے ہوئے پرندے بھی دم سادھ کر بیٹھ جاتے۔ جیسے ان میں جان نہ ہو۔ اس دوران مجھے اپنا بھی ہوش نہ تھا۔ میں ماحول سے بالکل ہی بے خبر ہو جاتا تھا۔

ایک دفعہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا ”اللہ ہو“ کی ضربیں لگا رہا تھا۔ پرندے میرے سامنے زمین پر دَم سادھے بیٹھے تھے۔ ہر شے ساکت تھی کہ اچانک مجھے اپنی آواز گھٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ زبان لڑکھڑانے لگی۔ جبڑا کھنچنے لگا اور پھر آواز بیٹھتی چلی گئی اس صورتِ حال سے میں سخت پریشان ہو گیا۔ ابھی میں کچھ سوچنے سمجھنے بھی نہیں پایا تھا کہ ایک ننگ دھڑنگ شخص بھبوت ملے میرے سامنے نمودار ہو گیا۔ میں حیران کن نظروں سے اُسے دیکھنے لگا میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک یہ شخص کہاں سے اور کیوں آگیا۔