Topics
جب مجھے ہوش آیا تو میں مستانی کی کوٹھری میں پلنگ پر لیٹا ہوا تھا اور سفید
ریش بزرگ کھڑے پنکھا جھل رہے تھے۔ میں نے پوری آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا۔
مستانی کونے میں بیٹھی ایلومونیم کی پتیلی سے مٹی کے پیالوں میں چائے انڈیل رہی
تھی۔
”میں کہاں ہوں؟ ۔۔۔ وہ مکان اور لڑکی کہاں ہے؟؛ میں نے سراسیمگی سے پوچھا۔
”لڑکی؟ ۔۔ کون سی لڑکی ؟“ سفید ریش بزرگ نے قدرے تعجب سے پوچھا پھر میری
پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بولے۔” مجھے تو تم معصوم شاہ کلہوڑا کی پہاڑی کے نیچے بے
ہوش ملے تھے۔“
” ہاں میں بھاگا تھا اور زینہ سے میرا پاؤں پھسل گیا تھا۔“ میں نے سفید ریش
بزرگ کو بتایا ۔ اتنے میں مستانی ایک پیالہ میں چائے لے کر آگئی۔ اس نے پیالہ میری
طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔” لو چائے پیو۔ طبیعت سنبھل جائے گی۔“
میں نے پیالہ لیا اور چائے پینے لگا۔
”رات میں تمہارا انتظار کرتی رہی۔ لیکن تم نہیں آئے۔“ اس نے شکایت امیز لہجے
میں کہا۔ پھر پلنگ پر بیٹھ کر بولی۔” تمہارے ساتھ جو واقعہ گزرا ہے ، پورا بتا
سکتے ہو؟“
میں نے اقرار کے انداز میں گردن ہلائی اور چائے ختم کرنے کے بعد شروع سے آخر
تک جو کچھ بھی پیش آیا تھا ، سنا دیا۔
مستانی نے نہایت توجہ سے واقعہ سنا اور پھر سفید ریش بزرگ سے مخاطب ہوئی ۔ ”
بابا ! شانو ابھی تک اپنی شرارتوں سے باز نہیں ائی۔“
شانو کا نام سنتے ہی میرے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ ” کیا تم اسے جانتی
ہو؟“ میں نے خوف اور تعجب سے پوچھا لیکن ان دونوں میں سے ایک نے بھی میری بات کا
جواب نہیں دیا۔
”میں اسے کئی مرتبہ تنبیہ کر چکا ہوں لیکن وہ نہ جانے کس طرح حصار سے نکل
آتی ہے۔“ سفید ریش بزرگ نے بتایا۔
”بابا جی ! “ مستانی نے خلا میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ”دراصل اسے حصار سے نکالا
جاتا ہے اور آپ جانتے ہیں یہ حرکت صرف ایک ہی شخص کر سکتا ہے۔“ پھر وہ غصہ میں
پلنگ سے کھڑی ہو کر بولی ” آخر۔۔ یہ سادھو خود کو سمجھتا کیا ہے؟“
مستانی کا انداز جارحانہ تھا۔ معلوم ہوتا تھا وہ کسی سے لڑنے والی ہے۔ لیکن
میں نے دیکھا کہ سفید ریش بزرگ نے نہایت ہی پھرتی سے اپنا دایاں ہاتھ اس کے سر پر
رکھ دیا اور نہایت ہی شفقت آمیز لہجے میں بولے ۔” میری بیٹی تو بڑی بہادر ہے۔ یہ
خبیث کیا بگاڑ سکتا ہے۔ غصہ تو میری بیٹی کو آتا ہی نہیں۔ یہ حرام تو میری بیٹی کے
پاس آہی نہیں سکتا۔ کیوں بیٹا ! میں سچ کہہ رہا ہوں۔“
سفید ریش بزرگ کے چہرے پر نہایت ہی دلفریب مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ مستانی بھی
انہیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اب اس کا غصہ ختم ہو چکا تھا۔
”میں شانو کو سمجھا دوں ۔“ یہ کہہ کر سفید ریش بزرگ دروازہ کی جانب بڑھے۔
” نہیں بابا جی ! اسے میرے پاس بھیج دیں ۔“ مستانی نے پر زور لہجے میں
کہا۔سفید ریش بزرگ نے مسکرا کر دیکھا اور باہر نکل گئے۔
” کیا ، کیا تم اسے جانتی ہو ؟ میں نے خوف سے پوچھا۔
”ہاں ، میں نہ صرف اسے جانتی ہوں بلکہ وہ تو میرے ساتھ ہی یہاں رہتی ہے۔“
اس انکشاف سے میں حیرت زدہ ہو گیا۔”لیکن وہ تو ایک روح ہے۔“ میں نے بتایا۔
”میں جانتی ہوں۔“ مستانی اس ہی طرح مسکرا کر بولی۔” شانو ایک بے چین روح ہے
جس کی خواہش کی تکمیل خاکی زندگی میں نہ ہو سکی۔ وہ آج بھی ماضی سے وابستہ ہے اور
اسے جب بھی موقع ملتا ہے ، ماضی کا سوانگ رچا کر اپنی تمنا کی تکمیل کرنا چاہتی
ہے۔“
”کیا ایسا ممکن ہے؟“ میں نے تعجب سے پوچھا۔
”ہاں اگر موت کے وقت کسی خواہش کی شدت قائم رہے تو بعض دفعہ روح اس خواہش کی
تکمیل میں بھٹکتی رہتی ہے۔“ مستانی نے بتایا۔” جب ہی تو مسلمان کے لیے لازم ہے کہ
عالم ِ سکرات میں صرف اپنے خدا کو یاد کرے۔“
ابھی مستانی نے اتنا ہی کہا تھا کہ ”میں۔۔۔آؤں “ کی آواز سنائی دی۔ میں نے
دیکھا کوٹھری کے دروازے پر ایک سفید اور کالے رنگ کی بلی اندر انے کی منتظر ہے۔
”آجاؤ“ مستانی نے بلی کو اندر انے کی اجازت دے دی۔
” یہ شانو ہے۔“ مستانی نے مجھے بتایا۔ میں خوف زدہ نظروں سے بلی کو دیکھ رہا
تھا۔
بلی یا شانو نہایت ہی خوف زدہ انداز میں میاؤں میاؤں کرتی اندر داخل ہوئی ۔
وہ مستانی کے پاؤں میں لوٹنا چاہتی تھی لیکن مستانی نے اسے نہایت ہی سخت لہجے میں
ڈانٹ دیا۔ بلی جہاں تھی وہیں دبک گئی۔
” بتا ، ببول کے درخت سے اگے کیوں گئی تھی؟“ مستانی نے نہایت ہی کرخت لہجے
میں پوچھا۔
بلی جو کہ زمین پر منہ لٹکائے کھری تھی آہستہ آہستہ سے غوں غوں کر کے غرائی۔
اس کی یہ غراہٹ لمبی تھی اور اس غراہٹ میں ایک نام صاف سنائی دے رہا تھا ۔۔۔ میں
۔۔۔و۔۔ک۔۔ھ۔۔
”تیرے سکھ دیو کی ایسی کی تیسی ۔“ مستانی نے غصے میں کہا۔”تو اس کی بات مانے
گی۔“ اس نے پوچھا۔ اور پھر بلی پر نظریں جما دیں۔
میں نے دیکھا خوف سے بلی کے بال کھڑے ہو گئے اس کے حلق سے دبی دبی خرخراہٹ
نکل رہی تھی۔ پھر وہ زمین سے تقریباً دو فٹ اوپر اچھلی اور پلٹا کھا کر گری۔ اس
پٹخی سے اسے نہایت زور دار چوٹ لگی۔ وہ نہایت ہی دل سوز آواز میں میاؤں ، میاؤں
کرنے لگی۔ جیسے اکثر بلیاں روتے وقت کرتی ہیں۔
”اگر اب تو نے کوئی حرکت کی تو اس سے بھی زیادہ سخت سزا دوں گی ۔“ مستانی نے
انگلی کے اشارے سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔” جا، اب دفع ہوجا۔“
اور یہ سنتے ہی بلی دُم دبا کر بھاگ گئی۔ میں حیران نظروں سے مستانی کو دیکھ
رہا تھا۔ وہ میرے قریب آئی اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔” خان ! یہ کائنات بڑی
ہی پراسرار ہے۔ لیکن تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“
مستانی کے یہ تسلی آمیز جملے میرے دماغ مین اترتے چلے گئے۔ رات والا حادثہ
مجھے خواب سا نظر آیا۔ میں نے خود کو پھر پہلے ہی کی طرح ترو تازہ محسوس کیا۔