Topics

جسمانی ، روحانی ، تخلیق؟۔مئی ۔۲۰۱۴

 

ہر مذہب میں عبادت کے لیے غسل یا وضو کا اہتمام کیا جاتا ہے حالانکہ عبادت کا تعلق ذہن سے ہے صرف جسم سے نہیں ہے۔ غسل اور وضو کا منشا طبیعت کو شگفتہ کر کے انہماک پیدا کرنا ہے۔

سوچنا یہ ہے کہ۔۔

ہمارے اشغال و اعمال جو جسمانی اعضا کے ذریعے صادر ہوتے ہیں۔۔ کہاں تخلیق پاتے ہیں؟ اور ان کی تخلیق کس طرح ہوتی ہے؟

اہلِ تصوّف بتاتے ہیں کہ :

کسی شے کی ماہیت کی طرف رجوع کیا جائے تو ہم کتنی ہی انواع و مخلوقات کو پہچان سکتے ہیں، شیر، شاہین، چاند اور سورج، زمین و آسمان، جن و انس، ہوا، پانی، فرشتے، پہاڑ، سمندر اور حشرات الارض یہ سب مخلوق ہیں ان کا مظاہرہ ایک ہی طرز پر ہوتا ہے۔ جیسے شیر شکل و صورت اور خاص طبیعت رکھتا ہے، آواز بھی مخصوص ہے۔ یہ صفات اس کی پوری نوع پر مشتمل ہیں۔ بالکل اسی طرح آدمی بھی خاص شکل و صورت، خاص عادتیں اور خاص صلاحیتیں رکھتا ہے۔ لیکن یہ دونوں اپنی ماہیتوں میں ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں۔ البتہ دونوں میں تقاضے یکساں پائے جاتے ہیں۔ یہ اشتراک نوع کی ماہیت میں نہیں بلکہ ماہیت کی ”اصل“ میں ہے۔

اس قانون سے ہمیں روح کے دو حصوں کی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔۔ ایک ہر نوع کی جداگانہ ماہیت، دوسرے تمام انواع کی واحد ماہیت۔ یہی واحد ماہیت روحِ اعظم اور شخصِ اکبر ہے، اور ہر نوع کی جداگانہ ماہیت شخصِ اصغر ہے اور اسی شخصِ اصغر کے مظاہر فرد کہلاتے ہیں مثلاً تمام انسان شخصِ اصغر کی حدود میں ایک ہی ماہیت (اصل) ہیں۔

ایک شیر دوسرے شیر کو بحیثیت اصغر کی صلاحیت سے شناخت کرتا ہے مگر یہی شیر کسی آدمی کو یا دریا کے پانی کو یا اپنے رہنے کی زمین کو یا سردی گرمی کو شخصِ اکبر کی صلاحیت سے شناخت کرتا ہے۔ اصغر ماہیت کی صلاحیت ایک شیر کو دوسرے شیر کے قریب لے آتی ہے۔ لیکن شیر کو جب پیاس لگتی ہے اور وہ پانی کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کی طبیعت میں یہ تحریک اکبر ماہیت کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ صرف اکبر ماہیت کی بدولت یعنی شخصِ اکبر کی وجہ سے یہ بات سمجھتا ہے کہ پانی پینے سے پیاس رفع ہو جاتی ہے۔

چنا چہ ذی روح یا غیر ذی روح ہر فرد کے اندر اکبر صلاحیت ہی اجتماعی زندگی کی فہم رکھتی ہے۔ ایک بکری سورج کی حرارت کو اس لئے محسوس کرتی ہے کہ وہ اور سورج شخصِ اکبر کی حدود میں ایک دوسرے سے الحاق رکھتے ہیں۔ اگر کوئی انسان شخصِ اکبر کی حدود میں فہم و فراست نہ رکھتا ہو تو وہ کسی دوسری نوع کے افراد کو نہیں پہچان سکتا نہ اس کا مصرف جان سکتا ہے۔ جب آدمی کی آنکھ ستاروں کو ایک مرتبہ دیکھ لیتی ہے تو اس کا حافظہ ستاروں کی نوع کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے۔ حافظہ کو یہ صلاحیت شخصِ اکبر سے حاصل ہوتی ہے لیکن جب کوئی انسان اپنی نوع کے انسان کو دیکھتا ہے تو اس کی طرف ایک کشش محسوس کرتا ہے۔ یہ کشش شخصِ اصغر کا خاصہ ہے۔ یہاں اصغر ماہیت اور اکبر ماہیت کی تخصیص ہو جاتی ہے۔ اکبر ماہیت کششِ بعید کا نام ہے اور اصغر ماہیت کششِ قریب کا نام ہے۔

روحانی دنیا میں غیر ارادی حرکت کا نام کشش اور ارادی حرکت کا نام عمل ہے۔ غیر ارادی تمام حرکات شخصِ اکبر کے ارادے سے واقع ہوتی ہیں۔ لیکن فرد کی تمام حرکات فرد کے اپنے ارادے سے عمل میں آتی ہیں۔

نہر تسوید، نہر تجرید اور نہر تشہید کی حدود میں جب کوئی خرقِ عادت پیش آتی ہے تو کرامت کہلاتی ہے جب نہر تظہیر کی حدود میں کوئی خرقِ عادت پیش آتی ہے تو استدراج کہلاتی ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اللہ سماوات اور ارض کی روشنی ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ تمام موجودات ایک ہی اصل سے تخلیق ہوئی ہیں، خواہ وہ موجودات بلندی کی ہوں یا پستی کی ہوں۔

شیشے کا ایک گلوب ہے اس گلوب کے اندر دوسرا گلوب ہے اس دوسرے گلوب کے اندر ایک تیسرا گلوب ہے۔ اس تیسرے گلوب میں حرکت کا مظاہرہ ہوتا ہے اور یہ حرکت شکل و صورت جسم و ماہیت کے ذریعے ظہور میں آتی ہے۔ پہلا گلوب تصوف کی زبان میں نہر تسوید یا تجلی کہلاتا ہے یہ تجلی موجودات کے ہر ذرہ سے لمحہ بہ لمحہ گزرتی رہتی ہے تاکہ اس کی اصل سیراب ہوتی رہے۔ دوسرا گلوب نہر تجرید یا نور کہلاتا ہے یہ بھی تجلی کی طرح لمحہ بہ لمحہ کائنات کے ہر ذرہ سے گزرتا رہتا ہے۔ تیسرا گلوب نہر تشہید یا روشنی ہے اس کا کردار زندگی کو برقرار رکھتا ہے۔ چوتھا گلوب نسمہ کا ہے جو گیسوں کا مجموعہ ہے۔ اسی نسمہ کے ہجوم سے مادی شکل و صورت اور مظاہرات بنتے ہیں۔ اس کو نہر تظہیر کہتے ہیں۔

جس خدا نے دنیا اور اس کی سب چیزوں کو پیدا کیا وہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا۔“ (انجیل ۔ اعمال، باب نمبر ۱۷ آیت ۲۴)

اس آیت میں نہر تسوید اور نہر تجرید کا بیان ہے۔ اول اللہ تعالیٰ کی قوتِ خالقیت پوری کائنات کے ذرہ ذرہ پر محیط ہے۔ اسی قوت کے تسلط کو تصوف میں نہر تجرید یا نور کہتے ہیں (دنیا اور اس کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔۔ نہر تسوید، آسمانوں اور زمین کا مالک ہو کر نہر تجرید)

جسم میں توانائی کے مراکز ہر جگہ موجود نہیں ہیں لیکن توانائی سر سے پیر تک دور کرتی رہتی ہے اور خارج ہوتی رہتی ہے۔

جس طرح کسی کہکشانی نظام میں ستارے روشنی خارج کرتے ہیں اسی طرح انسانی جسم سے بھی روشنی خارج ہوتی رہتی ہے۔

ظاہری جسم کی طرح انسان کے اوپر روشنیوں کا بنا ہوا ایک جسم اور ہے اس جسم کو جسمِ مثالی کہا جاتا ہے۔ جسمِ مثالی ان بنیادی لہروں یا بنیادی شعاعوں کا نام ہے جو وجود کی ابتدا کرتی ہیں۔ جسمِ مثالی مادی وجود کے ساتھ تقریباً چپکا ہوا ہے لیکن جسمِ مثالی کی روشنیوں کا انعکاس گوشت پوست کے جسم پر نو انچ تک پھیلا ہوا ہے۔ سائنس جسمِ مثالی کے انعکاس کو Aura کہتی ہے۔

نہ کسی چیز کا محتاج ہو کر آدمیوں کے ہاتھوں سے خدمت لیتا ہے کیونکہ وہ تو خود ہی سب کو زندگی، سانس اور سب کچھ دیتا ہے۔“ (انجیل۔ اعمال، باب نمبر ۱۷ ۔ آیت ۲۵)

(زندگی، نہر تشہید، سب کچھ، نہر تظہیر یا نسمہ)

نہر تشہید یا روشنی جسے انجیل کی زبان میں زندگی کہا گیا ہے اس کی عطا کا سلسلہ ازل سے ابد تک جاری ہے۔

تظہیر کی روحوں کا دوسرا نام نسمہ ہے جو کائنات کے مادی اجسام کو محفوظ اور متحرک رکھتی ہیں۔

ہر تخلیق نور اور روشنی سے زندہ ہے۔ نور اور روشنی ذخیرہ ہونے کے لئے ہر مخلوق میں ایسے روشن نقطے یا مراکز ہیں جو نور اور روشنی کا ذخیرہ کرتے ہیں۔ تصوف میں ان روشن نقطوں کو لطائف کہا جاتا ہے۔

انسان کے اندر چھ لطائف کام کرتے ہیں۔

۱) لطیفہ اخفیٰ ۲) لطیفہ خفی ۳) لطیفہ سرّی ۴) لطیفہ روحی ۵) لطیفہ قلبی ۶) لطیفہ نفسی

ہر مخلوق میں تخلیقی امور کے اعتبار سے الگ الگ لطائف ہیں۔

جنات کے اندر پانچ (۵) لطیفے کام کرتے ہیں۔

ملائکہ کے اندر چار (۴) لطیفے کام کرتے ہیں۔

اجرامِ سماوی کے اندر تین (۳) لطیفے کام کرتے ہیں۔

حیوانات کے اندر (۲) لطیفے کام کرتے ہیں۔

جمادات و نباتات کے اندر ایک (۱) لطیفہ کام کرتا ہے۔

انسان میں (۶) لطیفے کام کرتے ہیں۔

فرشتے : چار لطائف کی مخلوق ہیں۔

۱۔ روح ۲۔ سر ۳۔ قلب ۴۔ اخفی

جنات : پانچ لطائف کی مخلوق ہیں۔

۱۔ نفس ۲۔ قلب ۳۔ روح ۴۔ سر ۵۔ خفی

انسان چھ لطائف کی مخلوق ہے۔

۱۔ نفس ۲۔ قلب ۳۔ روح ۴۔ سر ۵۔ خفی ۶۔ اخفی

اجرامِ سماوی : تین لطائف کی مخلوق ہیں۔

۱۔ روح ۲۔ سر ۳۔ قلب

حیوانات : دو لطائف کی مخلوق ہیں۔

۱۔ روحی ۲۔ سر

جمادات و نباتات : ایک لطیفے کی مخلوق ہیں۔

۱۔ روح۔

نورانی لہروں کا نزول :

چھ لطائف کو چار نہریں سیراب کرتی ہیں۔

۱) نہر تسوید ۲۔ نہر تجرید ۳۔ نہر تشہید ۴۔ نہر تظہیر

۱۔ نہر تسوید کا نزول لطیفہ اخفی میں ہوتا ہے۔

۲۔ نہر تجرید کا نزول لطیفہ سرّی میں ہوتا ہے۔

۳۔ نہر تشہید کا نزول لطیفہ قلبی میں ہوتا ہے۔

۴۔ نہر تظہیر کا نزول لطیفہ نفسی میں ہوتا ہے۔

Topics