Topics

مراقبہ۔جولائی۔۲۰۱۵

 

مراقبہ کے لیے بہترین اوقات:

۱۔ تہجد کے وقت

۲۔ فجر کی نماز سے پہلے یا بعد میں

۳۔ ظہر کی نماز کے بعد

۴۔ عشاء کی نماز کے بعد

مراقبہ کس طرح کیا جائے:

۱۔ مراقبہ کی بہترین نشست یہ ہے کہ سالک نماز کی طرح بیٹھے۔

۲۔ آلتی پالتی مار کر بیٹھا جائے۔

۳۔ دونوں زانوؤں پر ہاتھ رکھ کر حلقہ بنا لیا جائے۔ کپڑا یا پٹکا بھی کمر اور ٹانگوں پر باندھا جا سکتا ہے۔

۴۔ مراقبہ میں مرشد سے رابطہ ہونا ضروری ہے۔

۵۔ آنکھیں بند ہوں اور نظر دل کی طرف متوجہ ہو۔

۶۔ نماز کی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھا جائے، آنکھوں کی پتلیاں اوپر کی طرف ہوں۔

۷۔ ناک کی نوک پر نظر جمائی جائے۔

۸۔ کمر اور گردن سیدھی رہنی چاہیے، لیکن سیدھا رکھنے میں کمر اور گردن میں تناؤ نہ ہو۔

۹۔ سانس آنے جانے میں ہم آہنگی ہو۔ سانس دھونکنی کی طرح نہ لیا جائے۔

۱۰۔ مراقبہ خالی پیٹ کیا جائے۔

۱۱۔ نیند کا غلبہ ہو تو نیند پوری کر لی جائے پھر مراقبہ کیا جائے۔

۱۲۔ مراقبہ کے ذریعے لوگوں کے دلوں کی باتیں معلوم ہو سکتی ہیں، دوسرے کسی شخص کو ماورائی چیزیں دکھائی جا سکتی ہیں، مطلب برآری کے لیے لوگوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سب استدراج کے دائرے میں شمار ہوتا ہے اور استدراج شرعاً ناجائز ہے۔ بالآخر آدمی خسارہ میں رہتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ خلافِ شرع باتوں سے لازماً اجتناب کرنا چاہیے۔

۱۳۔ مراقبہ سے پہلے اگر کچھ پڑھنا ہو تو وہ پڑھ کر شمال رخ آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائے (اگر مغرب کی طرف منہ کیا جائے تو سیدھے ہاتھ کی طرف ہوگا، کسی بھی رخ منہ کر کے مراقبہ کیا جا سکتا ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ شمال رخ منہ رہے) اور ذہن اس طرف متوجہ رکھا جائے جس چیز کا مراقبہ کیا جا رہا ہے۔

۱۴۔ مراقبہ کے دوران خیالات آتے ہیں۔ خیالات میں الجھنا نہیں چاہیے، ان کو گزر جانے دیں اور پھر ذہن کو واپس اسی طرف متوجہ کر لیں جس چیز کا مراقبہ کیا جا رہا ہو۔ کم سے کم 15 سے 20 منٹ مراقبہ کے لیے کافی ہیں۔ زیادہ دیر بھی مراقبہ کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ جس وقت دل چاہا مراقبہ کے لیے بیٹھ گئے یا تمام کام چھوڑ کر مراقبہ ہی کرتے ہیں۔

۱۵۔ مراقبہ تخت یا فرش پر کرنا چاہیے، کرسی، صوفے، گدے ایسی چیز پر بیٹھ کر مراقبہ نہیں کرنا چاہیے جس سے ذہنی سکون میں خلل پڑنے کا امکان ہو۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر امتی یہ بات جانتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے غارِ حرا میں طویل عرصہ تک مراقبہ کیا ہے۔

دنیاوی معاملات، بیوی بچوں کے مسائل، دوست احباب سے عارضی طور پر رشتہ منقطع کر کے یکسوئی کے ساتھ کسی گوشے میں بیٹھ کر اللہ کی طرف متوجہ ہونا ”مراقبہ“ ہے۔

”اور اپنے رب کا نام یاد کرتے رہو اور سب سے قطع تعلق کر کے اس کی طرف متوجہ رہو۔“ ( ۷۳ : ۸)

صاحبِ مراقبہ کے لیے ضروری ہے کہ جس جگہ مراقبہ کیا جائے وہاں شور و غل نہ ہو، اندھیرا ہو۔ جتنی دیر کسی گوشے میں بیٹھا جائے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ذہن کو مقصود کی طرف متوجہ رکھا جائے۔

پرہیز و احتیاط:

۱۔ مٹھاس کم سے کم استعمال کی جائے۔

۲۔ کسی قسم کا نشہ نہ کیا جائے۔

۳۔ کھانا آدھا پیٹ کھایا جائے۔

۴۔ ضرورت کے مطابق نیند پوری کی جائے اور زیادہ دیر بیدار رہے۔

۵۔ بولنے میں احتیاط کی جائے، صرف ضرورت کے وقت بات کی جائے۔

۶۔ عیب جوئی اور غیبت کو اپنے قریب نہ آنے دے۔

۷۔ جھوٹ کو اپنی زندگی سے یکسر خارج کر دے۔

۸۔ مراقبہ کے وقت کانوں میں روئی رکھے۔

۹۔ مراقبہ ایسی نشست میں کرے جس میں آرام ملے لیکن یہ ضروری ہے کہ کمر سیدھی رہے، اس طرح سیدھی رہے کہ ریڑھ کی ہڈی میں تناؤ نہ ہو۔

۱۰۔ مراقبہ کرنے سے پہلے ناک کے دونوں نتھنوں سے آہستہ آہستہ سانس لیا جائے اور سینہ میں روکے بغیر خارج کر دیا جائے۔ سانس کا یہ عمل سکت اور طاقت کے مطابق استاد کی نگرانی میں پانچ سے اکیس تک کریں۔

۱۱۔ سانس کی مشق شمال رخ بیٹھ کر کی جائے۔

پانچ وقت نماز ادا کرنے سے پہلے مراقبہ میں بیٹھ کر یہ تصور کیا جائے کہ مجھے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ تصور اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ نماز میں خیالات کی یلغار نہیں رہتی۔

جب کوئی بندہ اس کیفیت کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے تو اس کے اوپر غیب کی دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ بتدریج ترقی کرتا رہتا ہے۔

مادی جسم فنا ہونے کے بعد زندگی ختم نہیں ہوتی، ”انسانی انا“ موت کے بعد مادی جسم کو خیر باد کہہ کر روشنی کا نیا جسم بنا لیتی ہے۔

مراقبہ موت کی مشق میں مہارت حاصل کر لینے کے بعد کوئی شخص مادی حواس کو مغلوب کر کے اپنے اوپر روشنی کے حواس کو غالب کر سکتا ہے اور جب چاہتا ہے مادی حواس میں واپس آ جاتا ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

”مر جاؤ مرنے سے پہلے“ اس فرمان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں رہتے ہوئے مادی حواس کو اس طرح مغلوب کر لیا جائے کہ آدمی موت کے حواس سے واقف ہو جائے، یعنی انسان مادی حواس میں رہتے ہوئے موت کے بعد کی دنیا کا مشاہدہ کر لے۔

روحانی راستے کے مسافر ایک صوفی نے کشف القبور کے مراقبہ میں جو دیکھا وہ اس طرح بیان کرتا ہے:

ایک پرانی قبر کے سرہانے جب میں نے مراقبہ کیا تو میں نے دیکھا کہ میری آنکھوں کے سامنے اسپرنگ کی طرح چھوٹے اور بڑے دائرے آنا شروع ہو گئے۔ یہ دائرے نہایت خوش رنگ تھے۔ پھر ایک دم اندھیرا ہو گیا، دور خلا میں روشنی نظر آئی اور ایک بہت بڑی چہار دیواری میں قلعہ کی طرح دروازہ نظر آیا۔ میری روح اس دروازے میں داخل ہو گئی۔۔۔ دروازہ میں داخل ہو کر میں نے دیکھا کہ یہاں پورا شہر آباد ہے۔ بلند و بالا عمارتیں ہیں۔ لکھوری اینٹوں کے مکان اور چکنی مٹی سے بنے ہوئے کچے مکان بھی ہیں۔ دھوبی گھاٹ بھی ہے اور ندی نالے بھی۔ جنگل بیابان بھی ہیں اور پھولوں، پھلوں سے لدے درخت اور باغات بھی۔ یہ ایک ایسی بستی ہے جس میں محلات کے ساتھ ساتھ پتھر کے زمانہ کے غاروں میں رہنے والے آدم زاد بھی ہیں۔

یہاں اس زمانے کے لوگ بھی ہیں جب آدم بے لباس تھا، وہ ستر پوشی کے علم سے بے خبر تھا۔

ان میں سے ایک صاحب نے آگے بڑھ کر مجھ سے پوچھا۔

”آپ نے اپنے جسم پر کپڑوں کا یہ بوجھ کیوں ڈال رکھا ہے؟ صورت شکل سے تو آپ ہماری نوع کے فرد نظر آتے ہیں۔“

یہ اس زمانہ کے مرے ہوئے لوگوں کی دنیا (اعراف) ہے، جب زمین پر انسانوں کے لیے کوئی معاشرتی قانون رائج نہیں تھا اور لوگوں کے ذہنوں میں ستر پوشی کا کوئی تصور نہیں تھا۔

یہ عظیم الشان شہر جس کی آبادی اربوں، کھربوں سے متجاوز ہے، لاکھوں کروڑوں سال سے آباد ہے۔ اس شہر میں گھوم کر لاکھوں سال کی تہذیب کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ایسے لوگ بھی آباد ہیں جو آگ کے استعمال سے واقف نہیں اور ایسے لوگ بھی آباد ہیں جو پتھر کے زمانہ کے لوگ کہے جاتے ہیں۔ اس عظیم الشان شہر میں ایسی بستیاں بھی موجود ہیں جس میں آج کی سائنس سے بہت زیادہ ترقی یافتہ قومیں رہتی ہیں۔ جنہوں نے اس ترقی یافتہ زمانے سے زیادہ طاقتور ہوائی جہاز اور میزائل بنائے تھے۔ امتدادِ زمانہ نے جن کا نام اڑن کھٹولے وغیرہ رکھ دیا۔ اس شہر میں ایسی دانشور قوم بھی آباد ہے جس نے ایسے فارمولے ایجاد کر لیے تھے جن سے کششِ ثقل ختم ہو جاتی ہے اور ہزاروں ٹن چٹانوں کا وزن کششِ ثقل ختم کر کے چند کلو گرام ہو جاتا ہے۔ لاکھوں سال پرانے اس شہر میں ایسی قومیں بھی محوِ استراحت یا مبتلائے رنج و آلام ہیں جنہوں نے ٹائم اسپیس کو Less کر دیا تھا اور زمین پر رہتے ہوئے اس بات سے واقف ہو گئے تھے کہ آسمان پر فرشتے کیا کر رہے ہیں اور زمین پر کیا ہونے والا ہے۔ وہ اپنی ایجادات کی مدد سے ہواؤں کا رُخ پھیر دیتے تھے اور طوفان کے جوش کو جھاگ میں تبدیل کر دیتے تھے۔ اسی ماورائی خطہ میں ایسے قدسی لوگ بھی موجود ہیں جو جنت میں اللہ کے مہمان ہیں اور ایسے شقی بھی جن کا مقدر دوزخ کا ایندھن بننا ہے۔

یہاں کھیت کھلیان بھی ہیں اور بازار بھی۔ ایسے کھیت کھلیان جن میں کھیتی تو ہو سکتی ہے لیکن ذخیرہ اندوزی نہیں ہے۔ ایسے بازار ہیں جن میں دکانیں تو ہیں لیکن خریدار کوئی نہیں ہے۔

ایک صاحب دکان لگائے بیٹھے ہیں اور دکان میں طرح طرح کے ڈبے رکھے ہوئے ہیں ان میں سامان کچھ نہیں ہے۔ یہ شخص اداس اور پریشان نظر آتا ہے۔

میں نے پوچھا: ”بھائی تمہارا کیا حال ہے؟“

بولا: ”میں اس بات سے غمگین ہوں کہ مجھے پانچ سو سال بیٹھے ہوئے ہو گئے ہیں۔ میرے پاس ایک گاہک بھی نہیں آیا ہے۔“ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ شخص دنیا میں سرمایہ دار تھا۔ منافع خوری اور چور بازاری اس کا پیشہ تھا۔

برابر کی دکان میں ایک اور آدمی بیٹھا ہوا ہے، بوڑھا آدمی ہے، بال بالکل خشک الجھے ہوئے، چہرے پر وحشت اور گھبراہٹ ہے۔ سامنے کاغذ اور حساب کتاب کے رجسٹر پڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک کشادہ اور قدرے صاف دکان ہے۔ یہ صاحب کاغذ قلم لیے رقموں کی میزان دے رہے ہیں اور رقموں کا جوڑ کرتے ہیں تو بلند آواز سے اعداد گنتے ہیں۔ کہتے ہیں: ”دو اور دو سات، سات اور دو دس، دس اور دس انیس۔“ اس طرح پوری میزان کر کے دوبارہ ٹوٹل کرتے ہیں تاکہ اطمینان ہو جائے، اب اس طرح میزان دیتے ہیں۔ ”دو اور تین پانچ، پانچ اور پانچ سات، سات اور نو بارہ۔“ مطلب یہ ہے کہ ہر مرتبہ جب میزان کی جانچ کرتے ہیں تو میزان غلط ہوتی ہے اور جب دیکھتے ہیں کہ رقموں کا جوڑ صحیح نہیں ہے تو وحشت سے چیختے ہیں، چلاتے ہیں۔ بال نوچتے ہیں اور خود کو کوستے ہیں۔ بڑبڑاتے ہیں، سر کو دیوار سے ٹکراتے ہیں اور پھر دوبارہ میزان کرنے میں منہمک ہو جاتے ہیں۔ میں نے برے میاں سے پوچھا۔

”جناب! آپ کیا کر رہے ہیں؟ کتنی مدت سے آپ اس پریشانی میں مبتلا ہیں؟“

برے میاں نے غور سے دیکھا اور کہا:

”میری حالت کیا ہے کچھ نہیں بتا سکتا، چاہتا ہوں کہ رقموں کی میزان صحیح ہو جائے مگر تین ہزار سال ہو گئے ہیں کم بخت یہ میزان صحیح نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ میں زندگی میں لوگوں کے حسابات میں دانستہ ہیر پھیر کرتا تھا، بدمعاملگی میرا شعار تھا۔

علمائے سو سے تعلق رکھنے والے ان صاحب سے ملیے۔ داڑھی اتنی بڑی بڑی جیسے جھڑ بیر کی جھاڑی۔ چلتے ہیں تو داڑھی کو اکٹھا کر کے کمر کے گرد لپیٹ لیتے ہیں، اس طرح جیسے پٹکا لپیٹ لیا جاتا ہے۔ چلنے میں داڑھی کھل جاتی ہے اور اس میں الجھ کر زمین پر اوندھے منہ گر جاتے ہیں۔ سوال کرنے پر انہوں نے بتایا: ”دنیا میں لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے میں نے داڑھی رکھی ہوئی تھی اور داڑھی کے ذریعے بہت آسانی سے سیدھے اور نیک لوگوں سے اپنی مطلب برآوری کر لیا کرتا تھا۔“

 

 

 

 

Topics