Topics
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اور ہم لوگوں کو مثالیں دے کر سمجھاتے ہیں۔ اور اللہ
ہی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘(سورۃ نور۔ آیت نمبر۳۰)
بڑی سے بڑی بات کو تمثیلی انداز میں بیان کیا جائے تو
کم لفظوں میں بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ زمان اور مکان کی
الجھی ہوئی گتھی کو طالبات اور طلباء آسانی سے سمجھ لیں۔
دو مسافر۔۔۔دودوست۔۔۔دو آدمی۔۔۔سڑک پر چل رہے تھے۔ ایک
چھوٹے قد کا تھا اور دوسرا بڑے قد کا تھا۔ بظاہر دونوں کی رفتار ایک تھی لیکن
چھوٹے قد کے آدمی کا قدم جب اٹھتا تھا تو فاصلہ کم طے ہوتا تھا اور بڑے قد کے آدمی
کا قدم زیادہ فاصلے پر پڑتا تھا۔
دونوں چل رہے تھے۔۔۔چلنے میں قدم آگے اٹھتے تھے۔ سڑک
پیچھے صف کی طرح تہہ ہو رہی تھی جیسے کوئی اُلٹی صف لپیٹ رہا ہو۔۔۔چلتے چلتے دونوں
نے باتیں شروع کر دیں۔ ایک بول چکا تو دوسرے نے اس کی بات کا جواب دیا۔ دوسرا
خاموش ہوا تو پہلے نے جواب دیا۔ کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد انہیں سڑک پر ایک تیسرا
آدمی چلتا ہوا نظر آیا۔۔۔وہ اکیلا تھا۔ وہ پیچھے سے آنے والے دو آدمیوں کی گفتگو
سن کر ان کے ساتھ آ ملا اور بات چیت میں شریک ہو گیا۔
اب دو سے تین دوست۔۔۔تین مسافر۔۔۔تین آدمی ہو گئے۔ یہ آدمی بھی طویل القامت تھا۔۔۔چھوٹے قد کا آدمی بیچ میں آ گیا اور اِدھر اُدھر دو بڑے قد کے آدمی ساتھ ساتھ چلنے لگے۔۔۔چلتے چلتے سڑک پیچھے رہ گئی اور آنکھوں کے سامنے۔۔۔سامنے کی سڑک پھیلتی گئی۔۔۔جب دو قدم اٹھتے تھے۔۔۔تو تیسرے قدم پر سڑک پیچھے رہ جاتی تھی۔۔۔اور آگے قدم اٹھ رہے تھے۔۔۔اس چلنے میں جیسے جیسے اسپیس (اسپیس ) یا سڑک کے حصے پیروں کے نیچے سے نکل رہے تھے۔ اسی مناسبت سے گھڑی کی سوئی بھی گردش کر رہی تھی۔ ایک آدمی نے گھڑی دیکھ کر کہا چلتے ہوئے ہمیں بیس منٹ ہو گئے ہیں۔ ہم چلتے ہیں تو زمین ہمیں دھکیلتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ قدموں کے نیچے سے سرکنے والی سڑک
جب گزوں میں یا فرلانگ میں پیروں کے نیچے سے نکل گئی تو بیس منٹ کا وقت بھی گزر
گیا۔
چھوٹے قد کے آدمی نے سوال کیا۔۔۔دوستو! ہم جب سے چلے
ہیں سڑک ہمارے پیروں میں سے نکل رہی ہے۔۔۔ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔۔۔سڑک پیچھے جا رہی
ہے۔۔۔ہم اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سڑک ہمیں آگے دھکیل رہی ہے؟
دوسرا آدمی بولا۔۔۔۔۔۔دوستو! سڑک اگر ہمیں دھکیل رہی ہے
تو ہمیں چلتے ہوئے بیس منٹ گزر گئے ہیں یہ بیس منٹ کا وقت کیا ہے؟تیسرے آدمی نے
کہا۔۔۔میں تو یہ سمجھا ہوں کہ ہمارا ایک قدم جب اٹھتا ہے تو دوسرا قدم سڑک پر ہوتا
ہے۔۔۔اب جب دوسرا قدم اٹھتا ہے۔ تیسرا قدم سڑک پر ہوتا ہے اور ان دونوں قدموں کے
اٹھنے کے درمیان جو کچھ ہے وہ اسپیس (اسپیس ) اور دونوں قدموں کے درمیان اگر سیکنڈ
کا Frictionبھی
گزرا ہے تو وہ ٹائم Timeہے۔
تینوں مسافر چلتے چلتے رُک گئے۔۔۔اور سڑک کے کنارے ایک
گھنے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔۔۔تھوڑی دیر خاموشی کے بعد ایک مسافر بولا۔
یارو!۔۔۔ہماری نشست قدرتی طور پر ایسی ہے کہ ہم اسے
مثلث کہہ سکتے ہیں۔ کیا مثلث بننا اتفاق ہے؟۔۔۔یا اس کے پیچھے کوئی حکمت ہے؟
کوتاہ قد آدمی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے
کہا۔۔۔۔۔۔اوپر دیکھو!۔۔۔۔۔۔درخت گول ہے۔
لگتا ہے کہ مثلث ایک گول دائرے یا چھتری کے نیچے ہے۔
لیکن یہ عجیب بات ہے کہ چھتری بھی زمین کے اوپر قائم ہے اور ہم تینوں بھی زمین پر
بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب ہم چل رہے تھے تو زمین پیچھے ہٹ رہی تھی۔ اب ہم بیٹھے ہیں زمین
اپنی جگہ پر قائم ہے۔۔۔درخت کی گولائی (چھتری) اور ہمارا مثلث میں بیٹھنا کوئی ہم
معنی بات ہے؟
تیسرا آدمی گفتگو میں شریک ہوا۔۔۔۔۔۔اس نے
کہا۔۔۔۔۔۔دوستو!۔۔۔درخت کی گولائی ایک تنے پر قائم ہے اور درخت کا تنا زمین پر
قائم ہے۔ کیا زمین درخت کے تنے، پتوں اور شاخوں سے بنی ہوئی گول چھتری میں کوئی
پیغام ہے؟ ضرور اس میں کوئی حکمت نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔
تینوں مسافر کواحساس ہوا تو ایک گھنٹہ گزر چکا
تھا۔۔۔ایک مسافر بولا۔۔۔کہ جب ہم سڑک پر چل رہے تھے۔۔۔چونکہ ہمارے قدم اٹھ رہے
تھے۔۔۔اس لئے سڑک پیچھے جا رہی تھی۔ ہم آگے جا رہے تھے۔۔۔قدموں کے یکے بعد دیگرے
اٹھنے میں اور زمین پر پڑنے میں جب سڑک کافی پیچھے رہ گئی تو ہم نے دیکھا کہ 20منٹ
کا وقت گزر چکا ہے لیکن اب ہم بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔۔۔چل نہیں رہے ہیں تو ایک
گھنٹے کا وقت کیسے گزر گیا؟۔۔۔کیا وقت کا تعلق چلنے سے یا وقت چلنے کے بغیر بھی
گزرتا ہے۔۔۔نمبر تین مسافر جو راستے میں شریک سفر ہوا تھا۔۔۔اس نے
کہا۔۔۔بھائیو!۔۔۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم چل رہے تھے جب بھی وقت گزرا اور جب
ہم بیٹھ گئے تب بھی وقت گزرا۔۔۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ وقت کی حیثیت ثانوی ہے اور
اسپیس کو اولیت حاصل ہے۔
یہ ایسا گھمبیر اور مشکل تجزیہ تھا کہ دونوں دوست حیران
رہ گئے۔۔۔کہ اسپیس جب ہو گی تو حرکت ہو نہ ہو وقت گزرے گا۔ اسپیس نہیں ہو گی تو
وقت نہیں گزرے گا۔
تینوں میں سے ایک نے کہا۔۔۔انسان کی پیدائش بھی اسپیس
میں ہوئی۔ رحم مادر اسپیس ہی تو ہے۔۔۔اسپیس میں جب نطفہ قرار پا جاتا ہے تو وقت
بھی شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رحم میں نطفہ قرار نہ پائے اور نو
مہینے کے بعد ولادت ہو جائے۔ایسا بھی کبھی نہیں ہوا کہ زمین اسپیس نہ ہو اور کوئی
بچہ جوان ہو جائے۔۔۔اور کوئی جوان بوڑھا ہو جائے۔۔۔انسان کی زندگی چاہے ساٹھ سال
کی ہو چاہے سو سال کی ہو۔۔۔اسپیس ہو گی تو وقت ہو گا۔ کوئی آدمی اسپیس کے بغیر
ساٹھ سال کا یا سو سال کا نہیں ہو سکتا۔۔۔اسپیس کا پھیلاؤ یا اسپیس کا سمٹنا ہی
وقت کا تعین ہے۔
آدم و حواسے جب نافرمانی سرزد ہو گئی تو انہوں نے خود
کو برہنہ محسوس کیا۔۔۔یعنی انہیں اپنے جسم پر سے کپڑے اترے ہوئے نظر آئے۔۔۔اس کا
مطلب یہ ہوا کہ آدم کا سراپا ایک اسپیس ہے۔ نافرمانی سے پہلے سراپا کے وہ خدوخال
جو ستر میں داخل ہوتے ہیں انہیں نظر نہیں آئے اور جیسے ہی نافرمانی ہوئی آدم کے
سراپا کی اسپیس تبدیل ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدم اعلیٰ اسپیس سے ادنیٰاسپیس
میں آ گئے اگر آدم کا سراپا نہ ہوتا تو
آدم خود کو برہنہ محسوس نہ کرتے۔۔۔
تینوں میں سے ایک صاحب بولے۔۔۔جب بات آدم اور حوا کی ہے
تو ہمیں Time&اسپیس
کا سراغ اگر ملے گا تو آسمانی کتابوں سے ملے گا۔۔۔اس لئے کہ آسمانی کتابوں نے ہی
آدم و حوا کا تعارف کرایا ہے۔
تیسرا مسافر آسمانوں کی وسعتوں میں گم ہو کر
بولا۔۔۔دن۔۔۔روشنی۔۔۔اور یوم اسپیس ہے۔
* میرا ایک دن پچاس ہزار برس کا ہو گا۔
* میرا ایک دن دس ہزار سال کا ہو گا۔
* اور میرا ایک دن ایک ہزار سال کا ہو گا۔
یعنی دن کی طوالت یا دن چھوٹے بڑے ہونے کا تعلق۔۔۔اس کے
پھیلنے یا سمٹنے سے ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میں نے قرآن کو شب قدر میں
نازل کیا۔‘‘(القدر:۱)
جب کہ قرآن پاک 23برس میں پورا ہوا۔۔۔مفہوم یہ ہے کہ
ایک رات 23سال کے وقت کی مدت کے برابر ہوئی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تیس راتوں کے لئے بلایا اور
چالیس راتوں تک کوہِ طور پر رکھا۔ یہاں صرف راتوں کی اسپیس کا ذکر ہے جب کہ موسیٰ
علیہ السلام چالیس دن اور چالیس راتیں کوہِ طور پر رہے۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ
السلام چالیس دن، چالیس راتیں رات کے اسپیس میں رہے۔ رات کے اسپیس میں ٹائم پھیل
جاتا ہے۔ دن کے اسپیس میں ٹائم سمٹ جاتا ہے۔
ایک صاحب بولے۔۔۔اسی
مضمون پر میرے ذہن میں دو مثالیں آئی ہیں۔ دونوں مسافروں نے بیک زبان
کہا۔۔۔ضروربیان کرو۔۔۔
اس نے کہا۔۔۔جب ہم اخبار پڑھتے ہیں تو ہم آنکھوں کو
استعمال کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم اخبار کو آواز سے پڑھتے ہیں۔ یعنی ہم آنکھوں کی
اسپیس کو استعمال کرتے ہیں اور جب اخبار پڑھتے ہیں تو بولنے کی اسپیس استعمال کرتے
ہیں۔ اگر اخبار ہم سے کچھ فاصلے پر ہو تو آنکھوں کی اسپیس کو اخبار پر کیڑے مکوڑے
نظر آئیں گے اور صحیح نہیں پڑھا جائے گا۔ اگر اخبار اور آدمی کا فاصلہ زیادہ ہو
جائے تو حروف کی شکلیں غائب ہو جائیں گی اور اگر چھونے کی صلاحیت سے اخبار دور چلا
جائے گا جب کہ چھونا بھی اسی وقت ممکن ہے جب اسپیس ہو تو اخبار پر کوئی حرف نظر
نہیں آئے گا۔ اس بات سے ثابت ہوا کہ ہر
شئے کا وجود اور ہر وجود میں ڈائمنشن اور ہر ڈائمنشن کا قیام اسپیس پر ہے۔
ہم نام کو بھی اسپیس ہی کہیں گے۔ اس لئے کہ نام
اسپیس کی شناخت ہے۔۔۔اسپیس
۔۔۔جسم۔۔۔ڈائمنشن۔۔۔اگر نہیں ہونگے تو نام نہیں رکھا جائے گا۔ مثلاً ہم تین مسافر
ہیں۔ ہمارے تین نام ہیں۔۔۔میرا نام محمود ہے۔۔۔تمہارا نام زید ہے۔۔۔اور میرے تیسرے
بھائی کا نام ایاز ہے۔۔۔یہ تینوں نام اسپیس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور یہ اسپیس ایک
سراپا ہیں۔ ہر سراپا میں سوچنے کے لئے دماغ ہے۔ دیکھنے کے لئے آنکھیں۔۔۔سننے کے
لئے کان ہیں۔ محسوس کرنے کے لئے دل ہے۔۔۔چھونے کے لئے دوران خون کا عمل
ہے۔۔۔سونگھنے کے لئے ناک ہے۔۔۔گرمی سردی محسوس کرنے کے لئے جسم میں مسامات
ہیں۔۔۔غم زدہ اور خوش ہونے کے لئے ماحول میں انتشار یا اطمینان ہے۔۔ ماحول، زمین
کے تابع ہے۔۔۔زمیناسپیس ہے۔۔۔اسپیس چھوٹی یا بڑی ہوتی رہتی ہے۔
ایک پروانہ چھ گھنٹے میں بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے
تمام مراحل طے کر لیتا ہے جب کہ وہیل مچھلی پروانے کے چھ گھنٹے میں پورے ہونے والے
ماہ و سال ایک ہزار سال میں پورے کرتی ہے۔۔۔پروانے کی پوری زندگی چھ گھنٹے کی ہوتی
ہے اور وہیل مچھلی کی زندگی ایک ہزار سال کی ہوتی ہے۔
ایک سانپ بہت بڑے چوہے کو اس لئے نگل لیتا ہے کہ اسے
چوہا چھوٹا نظر آتا ہے اگر چوہا اتنا بڑا نظر آئے جتنا بڑا آدمی کو نظر آتا ہے تو
سانپ اسے نگلنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ چوہا سانپ کو اتنا
بڑا نظر نہیں آتا جتنا بڑا آدمی کو نظر آتا ہے۔
شیر ہاتھی کے مقابلے میں چھوٹا ہوتا ہے۔ ہاتھی کا ڈیل ڈول شیر کے مقابلے میں بہت
بڑا ہے لیکن ہاتھی شیر سے ڈرتا ہے۔ ہاتھی شیر کو دیکھ کر مقابلہ نہیں کرتا۔ ڈر کر
بھاگ جاتا ہے۔ اس تجزیہ کے تحت ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آدمی جب اعلیٰاسپیس سے نکل
کر اسفل اسپیس میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے اوپر خوف طاری ہو جاتا ہے اور یہی وہ
خوف ہے جو اس کو اعلیٰاسپیس میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ اگر آدمی اسفل اسپیس کو رد
کر دے تو از خود اعلیٰ اسپیس میں داخل ہو جاتا ہے اور اعلیٰاسپیس میں داخل ہونا ہی
جنت کی زندگی ہے۔ جنت میں خوف اور غم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرماتے
ہیں:
اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور اسپیس کی حد
بندی کے بغیر جہاں سے دل چاہے خوش ہو کر کھاؤ پیو۔ (البقرۃ:۳۵)
قرآن کریم کی اس آیت میں یہ حکمت مخفی ہے کہ خوشی اعلیٰ اسپیس ہے اور ناخوشی اسفل
اسپیس ہے۔ اعلیٰ اسپیس حاصل کرنے کے لئے پیغمبروں کا بتایا ہوا طریقہ توکل،
بھروسہ، قناعت، استغناء ہے۔۔۔توحید اور رسالت پر ایمان ہے۔
مادے سے بنا ہوا گوشت پوست کا جسم ہمیں نظر آتا ہے لیکن گوشت پوست کا جسم کس بساط
پر قائم ہے ہماری ظاہری آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ اگر مادہ کی شکست و ریخت کو انتہائی
حدوں تک پہنچا دیا جائے تو محض رنگوں کی جداگانہ شعاعیں باقی رہ جائیں گی۔ تمام
مخلوقات اور موجودات کی مادی زندگی ایسے ہی کیمیائی عمل پر قائم ہے۔ فی الحقیقت
لہروں کی مخصوص مقداروں کے ایک جگہ جمع ہو جانے سے مختلف مراحل میں مختلف نوعیں
بنتی ہیں۔
اس فارمولے کو بیان کرنے سے منشا یہ ہے کہ آدمی کی اصل
مادہ نہیں ہے بلکہ آدمی کی اصل لہروں کے تانے سے بُنی ہوئی ایک بساط ہے۔ ایک طرف
یہ لہریں انسانی جسم کو مادی جسم میں پیش کرتی ہیں اور دوسری طرف یہ لہریں انسان
کو روشنیوں کے جسم سے متعارف کراتی ہیں۔ جب تک کوئی آدمی مادے کے اندر قید رہتا
ہے۔ اس وقت تک وہ قید و بند اور صعوبت کی زندگی گزارتا ہے۔ اور جب وہ اپنی اصل
یعنی روشنی کے جسم سے واقف ہو جاتا ہے تو قید و بند، آلام و مصائب، پیچیدہ اور
لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔
اصلی آدمی یعنی روشنی کے آدمی سے واقفیت، زمان و مکان (Time
& اسپیس ) سے آزاد ہونے کی علامت سمجھی جاتی
ہے۔ یہ وہی زندگی ہے جہاں غیبی علوم منکشف ہوتے ہیں اور اللہ کے عرفان کے دروازے
کھل جاتے ہیں۔