Topics

فرشتوں کے گروہ۔اپریل۔۲۰۱۴

 

 

فرشتوں کی کئی قسمیں ہیں۔

ملائکہ نوری ، ملاءِ اعلیٰ ، ملائکہ سماوی ، ملائکہ عنصری ، رضوان اور زَبانیہ فرشتے اور کراماً کاتبین۔

کائنات میں ممتاز مخلوق فرشتے اور جنات ہیں اور ان سب میں ممتاز مخلوق انسان ہے۔ فرشتے کی تخلیق نور سے جنات کی تخلیق نار سے اور انسان کی تخلیق مٹی ، خلا اور گیس سے ہوئی ہے۔ کائنات کی مرکزی قوت جہاں سے Events ظاہر ہوتے ہیں اور جہاں ہر چیز لوٹ کر جاتی ہے وہ تجلی کا دوسرا رخ ہے جو عرش کا کوئی حصہ اور کوئی چیز تجلی سے باہر نہیں۔ اس ممتاز جگہ سے زمین کی طرف نور کی لہریں نزول کر رہی ہیں عرش کے نیچے پوری انسانیت کا ایک ہیولا ہے جس کو شخصِ اکبر یا انسانِ اکبر کہا جاتا ہے۔ اصطلاح صوفیا کی قائم کردہ ہے۔ نوعِ انسانی کا شخصِ اکبر کے ساتھ براہِ راست تعلق ہے۔۔۔ نوع ِ انسانی کی تمام زندگی شخصِ اکبر سے متحرک ہے۔

حیوانات کی ہر نوع کا ایک شخصِ اکبر بھی موجود ہے اور ہر نوع کے ہر فرد کا اپنے اپنے شخصِ اکبر سے تعلق ہے۔ یہ تعلق فرشتوں کی Inspiration کے ذریعے قائم ہے جس طرح زمین کا ہر ذرّہ کششِ ثقل میں بندھا ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ فرشتے جو عرش کو تھامے ہوئے ہیں اور وہ فرشتے جو اس کے ارد گرد ہیں وہ سب اللہ کی حمد و تسبیح کرتے ہیں اور اللہ کا حکم ماننے کے لیے اپنے آپ کو ہر دم تیار رکھتے ہیں اور ایمان والے لوگوں کے لیے دعا مانگتے ہیں۔

”اے ہمارے پروردگار! تیری رحمت اور تیرا علم ہر ایک چیز پر حاوی ہے ان لوگوں کو جو تیری طرف متوجہ ہوئے اور تیرے راستے پر چلے ، ان کی غلطیاں بخش دے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ کر دے ۔ اے ہمارے پروردگار! انہیں ان باغوں میں داخل کر جن میں وہ ہمیشہ رہیں جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کے ساتھ ان کے باپ دادا کو ، بیویوں کو اور بچوں کو بھی ہمیشگی کے باغوں میں داخل کر تو بہت عزت دینے والا اور دانائی بخشنے والا ہے۔ کم از کم یہ کہ انہیں تکلیف سے بچا۔ واقعی اس روز جو تکلیف سے بچ گیا اس پر تیری بڑی رحمت ہے اور پوری کامیابی ہے۔“ (۴۰ : ۷۔۹)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :

جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم دیتے ہیں تو فرشتے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں پروں کے پھڑپھڑانے سے ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے ، پتھر پہ زنجیر کھینچنے سے ہوتی ہے پھر نیچے کے فرشتے اوپر والے بڑے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے کیا حکم ملا اوپر والے فرشتے کہتے ہیں جو حکم بھی دیا گیا ہے وہ سچ ہے اللہ تعالیٰ بہت بلند اور بڑا ہے اور اس کے بعد وہ تفصیل بتا دیتے ہیں۔

جب اللہ تعالیٰ کوئی نیا حکم دیتے ہیں تو وہ فرشتے جو عرش کو تھامے ہوئے ہیں سبحان اللہ کہتے ہیں یہاں تک کہ زمین کے قریب والے آسمان تک تسبیح پہنچ جاتی ہے اس کے بعد حاملینِ عرش کے قریب رہنے والے فرشتے حاملینِ عرش سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے تو وہ انہیں اللہ کے حکم سے آگاہ کر دیتے ہیں اس طرح نیچے کے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں یہاں تک کہ آسمانِ دنیا تک یہ حکم پہنچ جاتا ہے۔

(صحیح مسلم جلد سوئم : 1322/جامع ترمذی : 1172)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ایک روز کچھ رات گزر گئی تھی کہ میں اٹھا وضو کیا اور جس قدر مجھے وقت میسر آیا میں نے صلوٰۃ قائم کی۔ صلوٰۃ میں مجھے اونگھ آ گئی میں نے دیکھا میرا پروردگار نہایت اچھی شکل میں میرے سامنے ہے مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ ! میں نے عرض کیا : اے پروردگار میں حاضر ہوں۔

پوچھا ملاءِ اعلیٰ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟

میں نے عرض کیا ! میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین دفعہ فرمائی اور میں نے تینوں دفعہ یہی جواب دیا پھر میں نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ انگلیوں کی ٹھنڈک میرے سینے میں محسوس ہوئی اب مجھ پر سب چیزیں روشن ہو گئیں۔

اور میں سب کچھ سمجھ گیا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے پکارا !

اے محمد ﷺ ! میں نے عرض کیا : لبیک میں حاضر ہوں اللہ تعالیٰ نے پوچھا : ملاءِ اعلیٰ کس بات پر بحث کر رہے ہیں؟

میں نے عرض کیا ! کفارات پر بحث ہو رہی ہے۔

پوچھا ! کفارات کیا چیز ہیں؟

میں نے عرض کیا ! جماعت کی طرف پیدل چل کر جانا ، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور تکلیف کے باوجود وضو کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور کس بات پر بحث ہو رہی ہے؟

میں نے عرض کیا!

درجے حاصل کرنے والی چیزوں پر۔

فرمایا وہ کیا ہیں؟

میں نے عرض کیا!

بلا شرط کھانا کھلانا ۔ (یعنی مسکین اور محتاج ہونے کی شرط نہ ہو) بلکہ ہر ایک کو کھانے کی عام اجازت ہو۔ اس لیے کہ بعض غیرت والے لوگ محتاجوں کے زمرے میں آنا پسند نہیں کرتے اور ہر ایک انسان سے نرم بات کرنا اور راتوں کو ایسے وقتوں میں صلوٰۃ قائم کرنا جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔

(جامع ترمذی ، جلد دوئم : 1181)

رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے پیار کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر اس سے کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے پیار کرتا ہے تو بھی اس سے پیار کر۔

چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے پیار کرتے ہیں پھر آسمانوں میں منادی ہو جاتی ہے کہ فلاں شخص سے اللہ پیار کرتا ہے تم سب بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ تمام آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین پر اسے مقبولِ عام بنا دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم جلد دوئم : 2204)

ایسے ہی جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کو ناپسند کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص کو پسند نہیں کرتا چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اسے پسند نہیں کرتے پھر آسمانوں میں منادی کرا دی جاتی ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ناپسندیدہ ہے پھر وہ سب فرشتے اسے ناپسند کرتے ہیں۔

اس کے بعد زمین پر موجود مخلوق بھی اسے ناپسند کرتی ہے اور وہ دنیا میں ناپسندیدہ شخص بن جاتا ہے۔

رسول ﷺ نے فرمایا ہر روز انسان جب صبح کے وقت اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں ایک کہتا ہے یا اللہ ! اچھی جگہ خرچ کرنے والوں کو اور نعمتیں عطا کر دے۔

دوسرا فرشتہ کہتا ہے اے اللہ دولت ذخیرہ کرنے والوں کو ہلاک کر دے۔ مقرب فرشتے اللہ کے حضور حاضر رہتے ہیں وہ ہر اچھے آدمی کے لئے دعا کرتے ہیں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے لوگوں پر لعنت کرتے ہیں۔

فرشتے اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان پیغام پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ فرشتے دلوں میں نیک کام کرنے کا خیال Inspire کرتے ہیں۔

جب فرشتے انسانوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو طبیعت میں اچھے کام کرنے کے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ فرشتے ٹکڑیوں کی شکل میں جمع ہوتے ہیں اور ٹکڑیوں کی شکل میں اڑتے پھرتے ہیں۔ آپس میں گفتگو بھی کرتے ہیں۔ فرشتوں کی ٹکڑیوں میں نیک انسانوں کی روحیں بھی شامل ہوتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔ اے اطمینان والی روح تو راضی اور خوش ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو پھر میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری بہشت میں داخل ہو۔ ( ۸۹ : ۲۷۔۳۰)

ملاءِ اعلیٰ کا مقام وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہوتا ہے۔

نورانی فرشتے :

ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر ہے۔ کائنات کے مجموعی تقاضوں کے مطابق نظام چلانا ان کی ڈیوٹی ہے۔

انسانی روحیں :

یہ وہ روحیں ہیں جو ملاءِ اعلیٰ سے علم سیکھتی ہیں اور یہ لوگ ایسے اعمال کرتے ہیں جن سے ان کا ذہن و قلب پاکیزہ ہو جاتا ہے۔ پاکیزگی اور نور کے ذخیرے کی وجہ سے وہ ملاءِ اعلیٰ کی بات سمجھتے ہیں۔ مرنے کے بعد اُن فرشتوں کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جہاں نیک روحوں اور فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے اس مقام کا نام حظیرۃ القدس ہے۔۔

حظیرۃ القدس میں جمع ہونے والے فرشتے اور روحیں انسانوں کو تباہی اور مصیبت سے بچانے کے طریقوں پر سوچ بچار کرتے ہیں اور سب متفق ہو کر یہ طریقے انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس کام کے لیے وہ انسان منتخب کیا جاتا ہے جو انسانوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ ہو۔ پاکیزہ شخص کے لیے لوگوں کو Inspire کیا جاتا ہے کہ اس آدمی کی پیروی کریں۔

پھر ایک جماعت بن جاتی ہے جو انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔ جن باتوں میں قوم کی بھلائی اور بہتری ہو، اس پاکیزہ بندے کی روح میں وحی کے ذریعہ خواب میں اور شہودی کیفیت میں وہ باتیں داخل کر دی جاتی ہیں۔ ایسے پاکیزہ انسان سے ملاءِ اعلیٰ رو برو بات کرتے ہیں۔

اسفل کے فرشتے ملاءِ اعلیٰ سے دوسرے درجے میں ہیں۔ یہ فرشتے اپنی طرف سے کچھ نہیں سوچتے۔ حکم آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ وہ اتنی ہی بات جانتے ہیں جتنی بات اوپر کے فرشتے انہیں سمجھا دیں۔ فرشتے کے سامنے ذاتی نفع و نقصان نہیں ہوتا۔ صرف وہی عمل کرتے ہیں جس کا انہیں الہام ہوتا ہے فرشتے حرکت تبدیل کرنے پر بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا حکم سب سے پہلے حظیرۃ القدس میں آتا ہے وہاں ملاءِ اعلیٰ اس حکم کو سن کر اپنے نیچے درجے کے فرشتوں کو پہنچاتے ہیں۔ نیچے کے فرشتے سن کر اپنے نیچے کے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا حکم سناتے ہیں یہ فرشتے ملائکہ سماوی ہیں۔ ملائکہ سماوی اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر ملائکہ عنصری کو پہنچاتے ہیں۔ ملائکہ عنصری اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر مخلوق کو Inspire کرتے ہیں۔ اگر دو جماعتوں میں لڑائی ہو جاتی ہے تو یہ فرشتے وہاں پہنچ کر حالات کے مطابق ایک جماعت کے دلوں میں بہادری ، ثابت قدمی اور فتح کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور دوسری جماعت کے دلوں میں کمزوری اور بزدلی کے خیالات Inspire کرتے ہیں تا کہ اللہ کے چاہنے کے مطابق نتیجہ نکلے اور وہ جماعت غالب آ جائے جس کا غلبہ اللہ چاہتا ہے۔

فرشتوں کی ایک قسم کراماً کاتبین ہے جن کی ہر انسان کے ساتھ ڈیوٹی ہے ایک فرشتہ ہر نیک کام کی ویڈیو فلم بناتا ہے اور دوسرا ہر برے کام کی ویڈیو فلم بناتا ہے۔

سدرۃ المنتہا کے نیچے ، بیت المعمور ہے۔ بیت المعمور حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ کا مقام ہے اسی مقام میں ملاءِ اعلیٰ رہتے ہیں۔

۱۔ ملاءِ اعلیٰ

۲۔ ملائکہ نوری

۳۔ ملائکہ سماوی

۴۔ ملائکہ عنصری ہیں۔

گروہِ جبرائیل علیہ السلام ۔ گروہِ میکائیل علیہ السلام۔ گروہِ عزرائیل علیہ السلام۔ گروہِ اسرافیل علیہ السلام ہر گروہ کی الگ الگ صلاحیتیں ہیں اور ان صلاحیتوں کا الگ الگ استعمال ہے۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ کے قاصد ہیں۔ وحی پہنچانا اور الہام کرنا ان کا وصف ہے۔

حضرت میکائیل علیہ السلام کے فرائض میں بارش کے سارے معاملات ہیں۔

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے ذمہ موت سے متعلق معاملات ہیں۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام کی ڈیوٹی میں قیامت سے متعلق معاملات ہیں۔

جبرائیل علیہ السلام ، میکائیل علیہ السلام ، اسرافیل علیہ السلام ، عزرائیل علیہ السلام ، کراماً کاتبین ، منکر نکیر ، ملائکہ رضوان ، ملائکہ زبانیہ وغیرہ۔ فرشتوں کے کئی طبقے ہیں۔ سارے فرشتے کائناتی نظام میں ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ فرشتے اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں ذرہ برابر فرق نہیں کرتے ہیں۔ فرشتوں کی تعداد کا کسی بھی طرح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

اس وقت ہماری دنیا کی آبادی سات ارب ہے جب کہ ہماری دنیا کی طرح کروڑوں دنیائیں اور بھی موجود ہیں۔

دوسری دنیاؤں کے مقابلہ میں ہماری زمین سب سے چھوٹا کرۂ ہے۔ سیر کے دوران صوفی کو ہماری زمین ایسی نظر آتی ہے جیسے بڑے گنبد پر سوئی کی نوک سے نشان لگا دیا جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں دنیا کے سارے درخت قلم بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے اور یہ سب ختم ہو جائیں گے لیکن اللہ کی باتیں باقی رہیں گی۔ (۳۱ : ۲۷)

منکر نکیر مرنے کے بعد پہلی ملاقات میں سوالات کر کے بتا دیتے ہیں کہ نیکی اور برائی میں بندے کی کیا حیثیت ہے۔ اگر وہ نیک ہے تو جنت کے نظاروں سے مستفیض ہوتا ہے ، برائی کا پیکر ہے تو دوزخ کا عذاب نظروں کے سامنے آتا رہتا ہے۔

 

 

 


 

Topics