Topics

صوفیا کا حج۔نومبر۔۲۰۱۴

 

حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حج میں خرچ کرنا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے مرشد حضرت اقدس مولانا خلیل احمد ؒ سہارنپوری صاحب کی ہمرکابی میں دو مرتبہ حج کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ میں نے ہمیشہ حضرت کا یہ معمول دیکھا کہ ہندوستان کے لوگ جب کوئی ہدیہ پیش کرتے تو اول تو حضرت بڑے اصرار سے اس کو یہ کہہ کر واپس کر دیتے تھے کہ یہاں کے لوگ زیادہ مستحق ہیں۔ ان کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔ مخصوص لوگوں کا پتہ بھی بتا دیتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے ، یہاں بازار میں چیزیں خریدا کرو۔ تاکہ یہاں کے لوگوں کی خدمت ہو جائے۔

مولانا زکریا ؒ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ کو بہت کم شعر پڑھتے سنا ہے ۔ مگر جب مسجد الحرام میں حاضر ہوتے تھے تو والہانہ انداز میں یہ شعر پڑھتے تھے       ؎  

کہاں ہم اور کہاں یہ نکہتِ گل

نسیم ِ صبح تیری مہربانی

ایک بدو نے خواب میں دیکھا رسول اللہ ﷺ تیز قدموں سے تشریف لے جارہے ہیں ۔ بدو نے ان سے پوچھا ” یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“

حضور ﷺ نے فرمایا ﷺ ” خلیل احمد ہندی کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کی نماز ِ جنازہ میں جا رہا ہوں۔“

یہ بدو مدینہ منورہ میں حضرت مولانا خلیل احمد سہانپوری ؒ کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوا۔ اور اس نے وہاں موجود لوگوں کو اپنا خواب سنایا۔

شیخ اکبر کہتے ہیں کہ ” میں جمعہ کی نماز کے بعد طواف کر رہا تھا ۔ دیکھا ایک شخص طواف کر رہا ہے لیکن وہ کسی سے ٹکراتا نہیں۔ میں نے سمجھ لیا یہ روح ہے۔ جب وہ شخص قریب آیا تو میں نے اسے سلام کیا۔ اس نے سلام کا جواب دیا۔ ہم آپس میں چند باتیں کیں۔ یہ شخص شیخ احمد سیوطی ؒ کی روح تھی۔“

حضرت بایزید ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے پہلی مرتبہ حج کے وقت گھر دیکھا۔ دوسری مرتبہ گھر کو دیکھا اور گھر والے کو بھی دیکھا ۔ تیسری مرتبہ جب حج کے لیے گیا تو گھر کو نہیں دیکھا صرف گھر والے کو دیکھا۔

حضرت عبد اللہ بن مبارکؒ کا معمول تھا کہ وہ ایک سال حج کیا کرتے تھے اور ایک سال جہاد کرتے تھے۔

کہتے ہیں کہ میں پانچ  سو اشرفیاں  لے کر حج کے ارادے سے چلا اور کوفہ میں جہاں اونٹ فروخت ہوتے پہنچا کہ اونٹ خرید لوں۔ وہاں میں نے دیکھا کہ کوڑے پر ایک بطخ مری پڑی ہے اور ایک عورت اس کے پر نوچ رہی ہے ۔ میں اس عورت کے پاس گیا اور اس سے پوچھا۔ کیا کر رہی ہو؟ اس نے جواب دیا۔ جس کام سے تمہیں واسطہ نہیں اس کی تحقیق کیوں کرتے ہو؟ میں نے اصرار کیا تو اس نے بتایا میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے چار بچے ہیں آج چوتھا دن ہے ہم نے کچھ نہیں کھایا۔ ایسی حالت میں مردار حلال ہے۔ یہ بات سن کر مجھے شرم آگئی۔ میں نے پانچ سو اشرفیاں اس کی گود میں ڈال دیں اور حج کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

جب لوگ حج کر کے آئے تو حاجیوں نے بتایا کہ فلاں فلاں جگہ تم سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں حیرت میں تھا کہ یہ سب کیا کہہ رہے ہیں ۔ رات کو حضور ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضورﷺ نے فرمایا : عبد اللہ ، تعجب نہ کر تو نے ایک مصیبت زدہ کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ وہ ایک فرشتہ مقرر کر دے جو تیری طرف سے حج کرے۔

شیخ حضرت یعقوب بصری ؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حرم شریف میں کئی دن تک بھوکا رہا ، زم زم پیتا رہا۔ جب ضعیف زیادہ ہو گیا تو میں باہر نکلا ایک سڑا ہوا شلجم میں نے اٹھا لیا۔ خیال آیا کئی دن بھوکا رہا اور سڑا ہوا شلجم ملا۔ میں نے پھینک دیا اور مسجد الحرام میں آ کر بیٹھ گیا۔

اتنے میں ایک شخص آیا اس نے بتایا کہ ہم دس دن تک سمندر میں موت و زیست میں مبتلا رہے ہیں۔ ہماری کشتی ڈوبنے لگی تھی۔ تو ہم میں سے ہر شخص نے الگ الاگ منت مانی۔ میں نے یہ نذر کی تھی کہ اگر میں زندہ سلامت پہنچ جاؤں تو یہ تھیلی اس شخص کو دوں گا مسجد الحرام میں جس شخص پر میری پہلی نظر پڑے گی۔ میں نے تھیلی لے کر کھولی تو اس میں سفید مصری، خشک روٹی ، چھلے ہوئے بادام اور شکر پارے تھے۔ میں نے ہر ایک میں سے ایک ایک مٹھی لے لی ۔ باقی اس شخص کو واپس کر دی۔

حضرت ابو الحسن سراج ؒ کہتے ہیں کہ میں طواف کر رہا تھا کہ میری نظر ایک حسین عورت پر پڑی۔ جس کا چہرہ چاند کی طرح تھا۔ میں نے کہا : سبحان اللہ ایسی حسین عورت میں نے پہلے کبھی  نہیں دیکھی۔ معلوم ہوتا ہے اس کو کوئی غم نہیں ہے۔ اس نے میری بات سن کر کہا: واللہ! غموں میں جکڑی ہوئی ہوں۔ میرا دل فکروں اور آفتوں میں ہے۔ کوئی میرا ہمدرد نہیں ہے۔

میرے خاوند نے قربانی میں ایک بکری ذبح کی۔ میرے دو بچے کھیل رہے تھے اور ایک دودھ پیتا بچہ میری گود میں تھا۔ میں گوشت پکانے اٹھی تو ان دونوں لڑکوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا میں تمہیں بتاؤں کہابا نے بکری کیسے ذبح کی تھی؟ اس نے دوسرے بھائی کو بکری کی طرح ذبح کر دیا پھر ڈر کر بھاگ گیا اور ایک پہاڑ پر چڑھ گیا۔ وہاں ایک بھیڑیے نے اسے کھا لیا۔

باپ اس کی تلاش میں نکلااور ڈھونڈتے ڈھونڈتے پیاس کی شدت سے مر گیا۔ میں دودھ پیتے بچے کو چھوڑ کر دروازے تک گئی کہ شاید خاوند کا کچھ پتہ مل جائے۔ تو وہ بچہ چولہے کے پاس چلا گیا ۔ چولہے پر ہانڈی پک رہی تھی۔ بچے نے ہانڈی پر ہاتھ مارا ۔ اس کا پورا جسم جل گیا۔ میری بڑی لڑکی جو خاوند کے گھر تھی اس کو جب اس سارے قصے کی خبر ملی تو وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گری اور مر گئی۔ مقدر نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا۔

میں نے پوچھا اتنی زیادہ مصیبتوں کے بعد تجھے صبر کیسے آیا؟ اس خوبصورت خاتون نے تین شعرپڑھے۔

میں نے صبر کیا کیوں کہ صبر بہترین عبادت ہے اس لئے کہ بے صبری سے مجھے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ میں نے ایسی مصیبتوں پر صبر کیا کہ اگر وہ پہاڑوں پر گریں تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ میں نے اپنے آنسوؤں کو پی لیا اور میری آنکھیں خشک ہو گئیں اب آنسو میرے دل پر گرتے ہیں۔ صبر کے ان آنسوؤں نے میرے دل نے مجلّا کر دیا اور اب اللہ میرے ساتھ ہے اس نے مجھے خوف اور غم سے آزاد کر دیا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن صالح ؒ لوگوں سے بھاگ کر ایک شہر سے دوسرے شہر میں پھرتے رہتے تھے مگر مکہ مکرمہ میں کافی عرصہ تک قیام کیا۔ سہیل بن عبد اللہ نے پو چھا اس  شہر میں آپ نے کافی عرصے قیام کیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے ایسا کوئی شہر نہیں دیکھا جس میں اس شہر سے زیادہ برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہوں۔ اس شہر میں سبح و شام فرشتے اترتے ہیں۔

فرشتے مختلف صورتوں میں بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں میں نے عرض کیا: تمہیں خدا کی قسم کچھ دیکھے ہوئے عجائبات اور سناؤ۔ فرمایا ، کوئی ولی کامل ایسا نہیں ہے جو  ہر جمعہ کی شب یہاں نہ آتا ہو۔

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ تنہا حج کے لئے گیا۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران میرا معمول تھا کہ جب رات زیادہ ہو جاتی تو طواف کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا۔ وہ طواف کر رہی تھی اور اشعار پڑھ رہی تھی۔

”میں نے عشق کو بہت چھپایا مگر وہ نہیں چھپ  سکا۔ اب تو کھلم کھلا میرے پاس ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ جب شوق بڑھتا ہے تو اس کے ذکر سے دل بے چین ہو جاتا ہے اور اگر میں اپنے محبوب سے قریب ہونا چاہتی ہوں تو وہ مجھ سے قریب ہو جاتا ہے اور وہ ظاہر ہوتا ہے تو میں اس میں فنا ہو جاتی ہوں اور پھر اسی کے لیے زندہ ہو جاتی ہوں اور وہ مجھے کامیاب کرتا ہے حتیٰ کہ میں مست و بے خود ہو جاتی ہوں۔“

میں نے اس سے کہا تو ایسی بابرکت جگہ ایسے شعر پڑھتی ہے۔ وہ لڑکی میری طرف متوجہ ہوئی اور بولی جنید! اس کے عشق میں بھاگی پھر رہی ہوں اور اسی کی محبت نے مجھے حیران پریشان کر رکھا ہے۔ اس کے بعد  لڑکی نے پوچھا جنید! تم اللہ کا طواف کرتے ہو یا بیت اللہ کا۔ میں نے جواب دیا میں تو بیت اللہ کا طواف کرتا ہوں۔

آسمان کی طرف منہ کر  کے اس نے کہا ۔ سبحان اللہ آپ کی بھی کیا شان ہے پتھر کی مانند بے شعور مخلوق پتھروں کا طواف کرتی ہے اور شعور والے ، گھر والے کا طواف کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے عشق و محبت میں سچے ہوتے تو ان کی صفات غائب ہوجاتیں اور اللہ کی صفات ان میں بیدار ہو جاتیں۔ حضرت جنید ؒ فرماتے ہیں کہ فرطِ گم سے میں غش کھا کر گر گیا جب ہوش آیا تو وہ خاتون جا چکی تھی۔

خواجہ معین الدین چشتی ؒ فرماتے ہیں کہ حاجی جسم کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں لیکن صوفی (عارف) جب طواف کرتا ہے تو اس کا دل اور روح بھی طواف کرتی ہے۔

فرمایا ایک مدت تک میں خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتا رہا اور اب خانہ کعبہ کی تجلیات سے بہرہ مند ہوتا ہوں۔

حضرت ابراہیم ؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں پیاس سے اس قدر بے چین ہوا کہ چلتے چلتے پیاس کی شدت سے بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ کسی نے میرے منہ پر پانی ڈالا۔ میں نے آنکھیں تو دیکھا ایک نہایت خوبصورت آدمی گھوڑے پر سوار ہے۔ اس نے مجھے پانی پلایا اور کہا کہ میرے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو جاؤ۔

تھوڑی دیر چلے تھے اس نے مجھ سے پوچھا یہ کون سی ابادی ہے؟ میں نے کہا یہ تو مدینہ منورہ آگیا ۔ کہنے لگا ، اتر جاؤ اور روضہ اقدس پر حاضر ہو تو یہ عرض کر دینا کہ آپﷺ کے بھائی خضر نے سلام کہا ہے۔

شیخ ابو الخیرا قطعؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ طیبہ حاضر ہوا اور پانچ دن ایسے گزر گئے کہ کھانے کو کچھ نہ ملا۔ کوئی چیز چکھنے کی بھی نوبت نہ آئی۔ قبرِ اطہر پر حاضر ہوا اور حضور اقدس ﷺ اور حضرات شیخین پر سلام عرض کر کے منبر شریف کے پیچھے جا کر سو گیا۔ میں نے  خواب دیکھا  حضور ﷺ تشریف فرما ہیں ۔ دائیں جانب حضرت ابو بکر صدیق ؓ ، بائیں جانب حضرت عمر فاروق ؓ ہیں اور حضرت علی ؓ سامنے ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا دیکھ حضور اقدس ﷺ تشریف لائے ہیں۔ میں اٹھا تو آپ ﷺ نے مجھے ایک روٹی مرحمت فرمائی۔ میں نے آدھی کھا لی اور جب میری آنکھ کھلی تو آدھی روٹی میرے ہاتھ میں تھی۔

احمد رضا خان بریلوی ؒ دوران حج مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے اس وقت دل میں یہ تمنا ابھری کہ کاش مجھے بیداری میں محبوب رب العالمین حضرت محمد ﷺ کی زیارت نصیب ہو جائے۔

مواجہ شریف میں کھڑے ہو کر دیر تک درود پڑھتے رہے ۔ ایک نعت لکھی جس کا مطلع یہ ہے:

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

 انکھیں بند کر کے با ادب انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ قسمت جاگ اٹھی اور رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔


 

Topics