Topics
آپ کا بھیجا ہوا متن تصوف، تزکیۂ نفس اور ذکرِ الٰہی کی اہمیت
پر مشتمل ایک فکر انگیز تحریر ہے۔ میں نے اس متن میں موجود املا، قواعد اور ٹائپنگ
کی غلطیوں کو درست کر دیا ہے تاکہ یہ پڑھنے میں رواں اور درست رہے۔
تصوف میں تزکیۂ نفس ایسا عمل ہے جس پر تصوف کی بنیاد قائم ہے۔
تزکیۂ نفس اور قلبی طہارت کے لیے اہلِ روحانیت نے اسباق مقرر کیے ہیں۔ یہ اسباق
قرآنی آیات اور اسمائے الٰہیہ سے مرتب کیے گئے ہیں۔ ان کے ورد سے انسان کے اندر
پاکیزگی اور نور کا ذخیرہ ہوتا ہے۔ کسی آیت یا اسمِ الٰہی کے ورد سے روح میں
بالیدگی بڑھ جاتی ہے اور سالک کے اندر باطنی آنکھ کھل جاتی ہے، اسے ایسی بصیرت مل
جاتی ہے جس سے وہ حقیقت کا ادراک کر لیتا ہے۔
لوحِ محفوظ کا قانون بتاتا ہے کہ زوال سے ابد تک صرف لفظ کی
کارفرمائی ہے اور حال، مستقبل کا درمیانی وقفہ لفظ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کائنات
میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کا فرمایا ہوا لفظ ہے۔ آسمانی کتابیں اور
آخری کتاب قرآن، اللہ تعالیٰ کے فرمائے ہوئے الفاظ کی تشریحات ہیں۔ ”لفظ“ قرآنی
آیات کی تمثیلات اور اسمائے الٰہیہ کا مظاہرہ ہے۔ اسم کی مختلف طرزوں سے نئی نئی
تخلیقات وجود میں آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اسم ہی کائنات کو کنٹرول کرتا ہے۔ لفظ
یا اسم کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ہر قسم کے اسم کا ایک سردار ہوتا ہے۔ وہی سردار اسم
اپنی قسم کے تمام اسما کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ سردار اسم بھی اللہ تعالیٰ کا اسم ہے
اور اسی کو اسمِ اعظم کہتے ہیں۔
اسما نور اور روشنی ہیں۔ ایک طرز کی جتنی روشنیاں ہیں ان کو
کنٹرول کرنے والا اسم بھی انہی روشنیوں کا مرکب ہے اور یہ اسما کائنات میں موجود
اشیا کی تخلیق کے اجزا ہیں۔ مثلاً نوعِ انسانی کے اندر کام کرنے والے تقاضوں اور
حواس کو جو اسم کنٹرول کرتا ہے، یہی اسم نوعِ انسانی کے لیے اسمِ اعظم ہے۔ جنات کی
نوع کے لیے الگ اسمِ اعظم ہے۔ نباتات کے لیے الگ، جمادات کے لیے الگ اور نوعِ
ملائکہ کے لیے الگ اسمِ اعظم ہے۔
انسان کے اندر تقاضوں اور جذبات کی تکمیل کے لیے جو حواس کام
کرتے ہیں ان کی مجموعی تعداد تقریباً گیارہ ہزار (11000) ہے۔ ان گیارہ ہزار کیفیات
یا تقاضوں کے اوپر ہمیشہ ایک اسم غالب رہتا ہے۔ یہی وہ اسما ہیں جن کا علم اللہ
تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو سکھایا ہے۔ اسمِ ذات کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اللہ
تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔ جو کامل طرزوں کے ساتھ اپنے اندر تخلیقی قدریں رکھتا ہے۔
”اللہُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ (۲۴ : ۳۵)
اور یہی اللہ کا نور لہروں کی شکل میں نباتات، جمادات،
حیوانات، انسان، جنات اور فرشتوں میں زندگی اور زندگی کی تمام تحریکات پیدا کرتا
ہے۔ پوری کائنات میں قدرت کا یہ فیضان جاری ہے کہ کائنات میں ہر فرد نور کی ان
لہروں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہے۔
کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے در پے
جو خیالات ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور آبادیوں سے ہمیں موصول ہوتے رہتے
ہیں۔ نور کی یہ لہریں ایک لمحہ میں روشنی کا روپ دھار لیتی ہیں۔ روشنی کی یہ چھوٹی
بڑی لہریں ہم تک بے شمار تصویر خانے لے کر آتی ہیں۔ ہم ان ہی تصویر خانوں کا نام
واہمہ، خیال، تصور اور تفکر رکھ دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”لوگو! مجھے پکارو، میں سنوں گا، مجھ
سے مانگو، میں دوں گا۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا تذکرہ اپنے ناموں سے کیا ہے۔
”اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، پس ان اچھے ناموں سے اسے
پکارتے رہو۔“ (۷ :
۱۸۰)
”ایمان والو! اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہو اور صبح اور شام اس
کی تسبیح میں لگے رہو۔“ (۳۳ :
۴۱۔۴۲)
اللہ تعالیٰ کا ہر اسم ایک چھپا ہوا خزانہ ہے۔ جب لوگ اللہ کا
نام وردِ زبان کرتے ہیں تو ان کے اوپر رحمتوں اور برکتوں کی بارش برستی ہے۔ عام
طور پر اللہ کے ننانوے نام مشہور ہیں۔ اس بیش بہا خزانے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہر
نام کی تاثیر اور پڑھنے کا طریقہ الگ الگ ہے۔
کسی اسم کی بار بار تکرار سے دماغ اس اسم کی نورانیت سے معمور
ہو جاتا ہے اور جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کے اسم کے انوار دماغ میں ذخیرہ ہوتے ہیں
اسی مناسبت سے بگڑے ہوئے کام بنتے چلے جاتے ہیں اور حسبِ دلخواہ نتائج مرتب ہوتے
رہتے ہیں۔ لیکن جس طرح اثرات مرتب ہوتے ہیں اسی طرح گناہوں کی تاریکی ہمارے اندر
روشنی کو دھندلا دیتی ہے۔ کوتاہیوں اور خطاؤں سے آدمی کثافتوں اور اندھیروں سے
قریب ہو جاتا ہے۔ جب کوئی بندہ جانتے بوجھتے گناہوں اور خطاؤں کی زندگی کو زندگی
کا مقصد قرار دے لیتا ہے تو وہ قرآن پاک کی اس آیت کی تفسیر بن جاتا ہے:
”مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور
آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ (۲ : ۷)
اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اللہ تعالیٰ
کی ہر صفت اپنے اندر طاقت اور زندگی رکھتی ہے۔ جب ہم کسی اسم کا ورد کرتے ہیں تو
اس اسم کی طاقت اور تاثیر کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔ اگر مطلوبہ فوائد حاصل نہ ہوں تو
ہمیں اپنی کوتاہیوں اور پُرخطا طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ نیکی اور برائی
دونوں اعمال و افعال کے تابع ہیں۔ دونوں میں انسانی ذہن، انسانی زبان اور ہاتھ،
پیر استعمال ہوتے ہیں۔
مثلاً ایک آدمی گالی دیتا ہے یہ برائی ہے، لیکن گالی دینے میں
زبان استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح دوسرا آدمی میٹھے بول بولتا ہے، لوگوں کی فلاح و
بہبود کے لیے ذہن استعمال کرتا اور احکامات بھی صادر کرتا ہے، اس رویے میں بھی
زبان کا عمل دخل ہے۔ علیٰ ہذا القیاس سوچ، تصورات، جذبات اور اچھے برے احساسات کا
تعلق انسانی رویوں پر قائم ہے۔
اگر طرزِ فکر اور رویوں میں خلوص و ایثار ہے، اللہ کی مخلوق کی
بھلائی ہے اور سیدنا حضور ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے مطابق اخلاقِ حسنہ پر عمل ہے تو یہ
سب اعمالِ صالحہ ہیں۔ اللہ کی نشانیوں پر غور کرنا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنا
اور رسولوں کی تعلیمات پر عمل کرنا ہی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے قربت کا ذریعہ
ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کے ذکر سے اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے۔ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کی تعلیم کو لازمی پکڑو اور ذکرِ الٰہی کرو۔ اس عمل سے آسمانوں
میں تمہارا ذکر ہوگا اور زمین میں تمہارے لیے نور ہوگا۔
قرآنِ حکیم کی تلاوت کا مفہوم یہ ہے کہ ارشاداتِ ربانی پر تفکر
کیا جائے اور اللہ کے احکامات کے مطابق فرمانبرداری کی جائے۔ قرآنِ حکیم میں جہاں
اللہ کے ذکر کا حکم دیا گیا ہے وہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بکثرت ذکر کرو۔
”اے اہلِ ایمان! تم اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“ (۳۳ : ۴۱)
”اے اہلِ ایمان! جب کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم
رہو اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو۔“ (۸ : ۴۵)
حضرت ابنِ عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ
تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کوئی ایسی عبادت فرض نہیں کی کہ اس میں معذور آدمی کا عذر
قبول نہ فرمایا ہو، مگر ذکرِ الٰہی ایسی عبادت ہے جس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔
کوئی اللہ کے ذکر سے معذور نہیں، البتہ مغلوب الحال کا معاملہ الگ ہے۔ فرمایا:
اللہ کا ذکر کرو کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، لیٹے ہوئے، رات ہو یا دن، ذکر دل سے ہو،
زبان سے ہو، خشکی میں یا سمندر میں ہو۔ بندہ خوشحال ہو یا غریب الحال، تندرست ہو
یا بیمار، جس حال میں بھی ہو بندے کو چاہیے کہ اللہ کا ذکر کرتا رہے۔
جس ذکر میں روح اور قلب شامل ہو جائیں اس ذکر کی بڑی اہمیت ہے۔
ذکر اس طرح کیا جائے کہ کسی دوسرے کو اس کا علم نہ ہو۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے
کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس ذکرِ خفی کو ملائکہ کاتبین نہیں سن سکتے اسے جلی
ذکر پر ستر گنا زیادہ فضیلت ہے۔ ذکرِ خفی سالک کو دکھاوے سے محفوظ رکھتا ہے۔
ذکرِ الٰہی اور ذکرِ کثیر کے لیے قرآنِ حکیم میں متعدد آیتیں
ہیں۔ کہیں اسمِ ذات کے ذکر کی تاکید ہے، کہیں ذکرِ قلبی کی تلقین کی گئی ہے۔
”اور یاد کرتے رہو اپنے رب کو صبح و شام گدازِ دل کے ساتھ، اور
خفی آواز میں، اور ذکر سے غافل نہ رہو۔“ (۷ : ۲۰۵)
یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں شیطان کی طرف سے ان کو کوئی خطرہ
لاحق ہوتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں، سو یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
یعنی متقی لوگوں کو شیطان کی طرف سے وسوسہ اور پریشانی آتی ہے اور وہ ان کے دل پر
پردے ڈال دیتا ہے تو اس وقت وہ لوگ اللہ کو یاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دل پر
سے پردہ اٹھا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان کا فتنہ ذکرِ الٰہی سے دفع
ہو جاتا ہے۔
اولیا اللہ ہر دور میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر خفی یا جلی
ذکر کرتے رہے ہیں۔ اس محفل کو حلقۂ ذکر کہا جاتا ہے۔ قرآنِ پاک میں انفرادی اور
اجتماعی دونوں کا ذکر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ شامل رکھیے جو صبح و شام
اپنے رب کی عبادت محض اس کے لیے کرتے ہیں۔“ (۱۸ : ۲۸)
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بھی
اجتماعی ذکر کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ملائکہ اہلِ ذکر کو تلاش کرتے
پھرتے ہیں، جہاں کہیں انہیں ذاکرین کی کوئی جماعت مل جاتی ہے تو وہ اپنے ساتھیوں
کو بلاتے ہیں، چنانچہ ملائکہ ذاکرین کو آسمانِ دنیا تک اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے
ہیں۔“
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے
ان لوگوں کو بخش دیا ہے۔“ تو ان میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے کہ فلاں آدمی تو اہلِ
ذکر میں نہیں ہے، وہ تو اپنے کام کے لیے آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یہ ایک
ایسی مجلس ہے جس میں بیٹھنے والا بدبخت نہیں رہ سکتا۔“
حضور ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں ایسے بہترین عمل کی خبر نہ دوں جس
سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی سمیٹ لو؟ سنو! مجالسِ ذکر کو لازم پکڑو۔“
مجالسِ ذکر کی تلاش اور ان میں فرشتوں کا شامل ہونا عملِ خیر
کی بشارت ہے۔ ذکر کی مجالس اللہ کی خوشنودی اور دین و دنیا کی کامیابی کا ذریعہ
ہیں۔ اللہ کے ذکر سے رحمت کا نزول اور اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے۔
”نماز قائم کرو میرے ذکر کے لیے۔“ (۲۰ : ۱۴)
نماز میں ذکر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا رابطہ
قائم ہو جائے کہ بندہ اللہ کو دیکھ لے یا اسے توحید و ایمان کا یہ کمال حاصل ہو
جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”جس طرح باپ دادا کو یاد کرتے ہو کہ
(محبت بھی ہوتی ہے اور ہمت بھی) اسی طرح اللہ کو یاد کرو، بلکہ اپنے باپ دادا کو
یاد کرنے سے بھی زیادہ۔“ (۲ :
۲۰۰)
”یاد کرو اپنے رب کو اپنے دل میں خشیت اور عاجزی کے ساتھ آہستہ
آواز سے ہر صبح و شام اور تمہارا شمار غافلوں میں نہ ہو۔“ (۷ : ۲۰۵)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وہ شخص جس کا سینہ اسلام کے لیے اللہ
نے کھول دیا ہے، تاریک بد نصیبوں کے برابر کس طرح ہو سکتا ہے؟ وہ تو اپنے پروردگار
کی طرف سے نور پر گامزن ہے۔ خرابی ہے ان سنگدل لوگوں کی جن کے قلوب سخت اور زنگ
آلود ہیں اللہ کے ذکر کی طرف سے۔“ (۳۹ :
۲۲)
حضرت زکریا ؑ بہت ضعیف ہو چکے تھے، ضعیفی میں بھی اللہ تعالیٰ
نے ان سے فرمایا:
”تمہارے ہاں لڑکا پیدا ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تین دن کسی آدمی
سے کلام نہ کرو گے، مگر اشارے کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بکثرت کرتے رہنا۔“ (۳ : ۴۱)
غازی اور مجاہدین کو بھی ذکر کی تاکید کی گئی ہے: ”اے ایمان
والو! جب کافروں کے ساتھ جنگ کیا کرو تو پیر جمائے رکھو اور اللہ کا ذکر بہت کرو
تاکہ تم فلاح پاؤ۔“ (سورۃ الانفال: ۴۵)
صوفیائے کرام کی خانقاہوں میں ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے جس
میں وہاں رہنے والے طلبا و طالبات نورِ نبوت اور نورِ الٰہی سے سیراب ہوتے ہیں۔
صوفیائے کرام تھیوری کے طور پر جو اسباق یعنی ورد و وظائف شاگردوں کو پڑھاتے ہیں
وہ قرآن و حدیث کے مطابق ہوتے ہیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا: ”یہ چیز مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب
ہے کہ ذاکرین کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد طلوعِ آفتاب تک، اور عصر کی نماز کے بعد
غروبِ آفتاب تک ذکرِ الٰہی کروں۔“
حضور ﷺ نے فرمایا: ”مجالسِ ذکر پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے، وہ
انہیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر نزولِ سکینہ ہوتا ہے اور ان پر اللہ
کی رحمت سایہ کر لیتی ہے اور اللہ انہیں یاد کرتا ہے۔“
روحانی اسکولوں اور کالجوں میں انفرادی اور اجتماعی طور پر ذکر
کرایا جاتا ہے تاکہ سالکین کے لطائف رنگین ہوں اور ان کے اوپر اللہ کا رنگ غالب
آجائے۔ طلبا و طالبات کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، وضو بے
وضو، ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں۔ ہر سلسلہ میں کسی نہ کسی اسم کا ورد
کرایا جاتا ہے۔ مثلاً سلسلہ عظیمیہ کا ورد ”یاحی یا قیوم“ ہے۔ چلتے پھرتے، وضو بے
وضو، اٹھتے بیٹھتے، پاکی ناپاکی کی ہر حال میں سالکین کو ”یاحی یا قیوم“ پڑھنے کی
ہدایت کی جاتی ہے۔
جب کوئی بندہ جلی یا خفی ذکر کرتا ہے تو اس کے اندر وائبریشن
کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ اس کے حواس ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ قانون
یہ ہے کہ ہر بندے کے اندر دو طرح کے حواس کام کرتے ہیں۔ ایک طرح کے حواس اسے ظاہری
دنیا سے نہ صرف قریب کرتے ہیں بلکہ ظاہری دنیا میں قید کر دیتے ہیں۔ دوسری طرح کے
حواس بندے کے اندر غیب بین اور اللہ سے قربت کے حواس ہیں۔ جب بندہ اپنے باطنی حواس
میں ہوتا ہے تو اس کے اوپر اللہ کی صفات محیط ہو جاتی ہیں۔
اس بات کو آسان الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ جب آدمی
کا انہماک دنیا میں ہوتا ہے تو مادی عناصر کی سڑانڈ اور تعفن میں انہماک ہوتا ہے،
حالانکہ وہ اس سڑانڈ اور تعفن کو محسوس نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ عناصر کا تجزیہ کرے
اور عناصر کی کنہ کو تلاش کرے تو اس کے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ دنیا کی ہر شے
سڑانڈ اور تعفن سے بنی ہوئی ہے۔ انسان جو غذا کھاتا ہے وہ بھی سڑانڈ ہے اور انسان
جس قطرے سے بن کر عالمِ وجود میں آیا ہے وہ بھی سڑانڈ ہے، آدمی جب مر جاتا ہے اس
کا سارا جسم تعفن اور سڑانڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا جسم جو روشنی
اور نور سے بنا ہوا ہے، اتنا لطیف ہے کہ عالمِ بالا کی سیر کرتا ہے اور خود کو
فرشتوں کی مجالس میں دیکھتا ہے۔
صوفی جب ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوتا ہے تو روشنی اور نور سے بنے
ہوئے جسم میں نورانی کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔ خوشی کی لہریں اس کے اوپر سے خوف اور غم
دور کر دیتی ہیں۔