Topics

مسلمان سائنسدان۔نومبر۔۲۰۱۵

 

دنیا کے دوسرے معاملات کی طرح منافق اور سازشی لوگوں نے روحانی سلسلوں میں بھی اپنا عمل دخل جاری رکھا اور لوگوں کی توجہ کشف و کرامات کی طرف مبذول کرا دی۔ اس طرزِ فکر کو کچھ اس طرح آگے بڑھایا گیا کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ روحانیت کا مطلب کشف و کرامات کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ دوسری بات جو حقیقت کے برخلاف بیان کی گئی وہ یہ تھی کہ تسخیرِ کائنات یا روحانی علوم حاصل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا سے بیزار ہو کر جنگل میں جا بیٹھے۔ اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمان قوم ریسرچ سے محروم ہو گئی اور غیر مسلم اقوام نے علمِ کائنات میں ترقی کر لی۔ آج کے دور میں ہر آدمی یہ بات جانتا ہے کہ سو سال پہلے جو باتیں کرامات کے زمرہ میں بیان کی جاتی تھیں وہ سائنسی نظام کے تحت عام ہو گئی ہیں۔ اب یہ کہنا کہ فلاں بزرگ کو پانچ جگہ یا سات جگہ دیکھا گیا تھا ایک بہت کم وزن بات معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کی تعلیمات کو اگر مادی شعور کے دائرے میں رہ کر سمجھا جائے تو قرآن کے معنی اور مفہوم میں شدید غلطیاں واقع ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام قرآن جیسی عظیم الشان اور لاریب کتاب کے بارے میں اپنے قائم کردہ مفہوم پر متفق نہیں ہیں۔ ہر تفسیر نئے اسلوب اور نئی شرح کی دستاویز ہے۔ قرآن کے الفاظ اس لیے محفوظ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ صوفیائے کرام کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ انسان ہر لمحہ مرتا ہے اور اس لمحہ کی موت انسان کے اگلے لمحہ کی زندگی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ تھوڑے سے تفکر سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی کی جتنی بھی کاوشیں ہیں چاہے وہ اعمال ہوں، علم ہو، فہم ہو، اخلاقیات ہوں یہ سب قبر تک کے معمولات ہیں۔ اگر زندگی اور حیات کی ہم آہنگی کا ادراک انسان کر لے تو حیاتِ ابدی کا راز اسی زندگی کے لیل و نہار میں کھل جاتا ہے۔ ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ آج کا انسان مادی ماحول میں اس قدر کھو چکا ہے کہ اس نے مذہب کو مادی لذتوں کا وسیلہ بنا لیا ہے۔ مذہب کا نام استعمال کرنے والے تو بہت ہیں مگر ایمان، یقین اور مشاہدہ کی طلب اس دور میں ناپید ہو چکی ہے۔ جب صاحبِ ایمان ہی ناپید ہو جائیں تو ایمان کی طلب کون کرے گا؟ آج کا انسان موجودہ سائنسی ترقی کو نوعِ انسان کا انتہائی شعور سمجھتا ہے۔ یہ ایک گمراہ کن سوچ ہے اس لیے کہ قرآن بتاتا ہے کہ انسان کی ترقی حضرت سلیمان ؑ کے دور میں اتنی تھی کہ ایک شخص نے، جو پیغمبر نہیں تھا، پلک جھپکنے کے وقفہ میں ڈیڑھ ہزار میل کے طویل فاصلہ سے مادی FORM میں دربارِ سلیمان ؑ میں تخت منتقل کر دیا تھا۔ دانشوروں کا کردار گزشتہ صدیوں سے آج تک انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ انہوں نے کبھی انسانی تفکر کو اس طرف مائل نہیں کیا اور انہوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ آقائے نامدار ﷺ بغیر کسی وسیلہ کے جسمانی طور پر کون سی سائنس کے ذریعے معراج کے شرف سے مشرف ہوئے۔ انسان روشنی سے بنا ہوا ہے، اس کے سارے محسوسات الیکٹران کے اوپر قائم ہیں۔ اگر انسان اپنے اندر دوڑنے والی الیکٹریسٹی سے واقفیت حاصل کر لے تو وہ مادی وسائل کے بغیر کسی بھی مادی شے کو جہاں چاہے منتقل کر سکتا ہے۔ سائنس کا نظریہ قیاس پر مبنی ہے۔ قیاس جہاں تک کام کرتا ہے نتیجہ مرتب ہوتا رہتا ہے یا نہیں ہوتا۔ قیاس کا پیش کردہ کوئی نظریہ کسی دوسرے نظریہ کا چند قدم ساتھ ضرور دیتا ہے مگر پھر ناکام ہو جاتا ہے۔ لوگوں نے بذاتِ خود جتنے طریقے وضع کیے ہیں، سب کے سب کسی نہ کسی مرحلہ میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔ توحید کے علاوہ اب تک جتنے نظام ہائے حکمت بنائے گئے ہیں وہ تمام اپنے ماننے والوں کے ساتھ مٹ گئے یا آہستہ آہستہ مٹتے جا رہے ہیں۔ آج کی نسلیں گزشتہ نسلوں سے زیادہ مایوس ہیں اور آئندہ نسلیں اور زیادہ مایوس ہوں گی۔ مختلف ممالک اور مختلف قوموں کے وظیفے جداگانہ ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام نوعِ انسان کا جسمانی وظیفہ ایک ہو سکے، صرف روحانی وظائف ہیں جن میں پوری نوعِ انسانی اشتراک رکھتی ہے۔ اگر دنیا کے مفکرین جدوجہد کر کے روحانی وظائف کی غلط تعبیروں کو درست کر سکیں تو وہ اقوامِ عالم کو ایک دائرہ میں اکٹھا کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”انسان ہماری بہترین صناعی ہے۔“ (۹۵ : ۴) انسان کو مخلوقات میں فضیلت اس بنیاد پر قائم ہے کہ اس کے اندر مخفی علوم جاننے، سمجھنے اور ان علوم سے استفادہ کرنے کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اب سے صدیوں پہلے کی سائنسی ایجادات ہوں یا موجودہ دور میں سائنسی ایجادات ہوں، یہ سب مخفی صلاحیتوں کے استعمال کا مظاہرہ ہے۔ علمِ تصوف انکشاف کرتا ہے کہ زمین پر موجود ہر شے روشنی کے غلاف میں بند ہے اور روشنی کے غلاف میں مقداریں کام کر رہی ہیں۔ انسان جب مخفی صلاحیتوں کو بیدار کر کے کسی شے میں تفکر کرتا ہے تو اس کے اوپر شے کے اندر چھپی ہوئی قوتیں منکشف ہو جاتی ہیں۔ موجودہ سائنسی ترقی اسی ضابطہ اور قاعدہ پر قائم ہے۔ سائنس دانوں نے جیسے جیسے تفکر سے کام لیا ان کے اوپر شے کے اندر کام کرنے والی تخریبی اور تعمیری قوتیں آشکار ہو گئیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں جتنی بھی اشیا ہیں خواہ وہ مائع ہوں یا ٹھوس ہوں یا گیس کی صورت میں ہوں، سب کی سب ایٹموں سے بنی ہوئی ہیں اور خود ایٹم زیادہ تر ”خلا“ پر مشتمل ہے۔ بعض اشیا میں تمام کے تمام ایٹم ایک جیسے ہوتے ہیں، ایسی اشیا کو عناصر کہا جاتا ہے جن میں ہائیڈروجن، کاربن، لوہا، سونا، سیسہ، پلاٹینم اور یورینیم جیسے قدرتی عناصر ہیں۔ عناصر کے علاوہ مرکبات میں مختلف عناصر کے ایٹم ایک دوسرے میں جذب اور گندھے ہوئے ہیں۔ عناصر کی باہمی پیوستگی سے سالمات بنتے ہیں۔ ایٹم یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ”ناقابلِ تقسیم شے“ کے ہیں۔ یونانی زبان میں ”ٹوم (TOM)“ تقسیم کرنے کو کہتے ہیں۔ آریائی زبانوں میں ”آ“ نفی کا کلمہ ہے۔ ایٹم کا نام دمقراطیس نامی ایک سائنس دان کا وضع کردہ ہے۔ دمقراطیس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ دنیا کی ہر شے نہایت چھوٹے چھوٹے ناقابلِ تقسیم ذروں یعنی ایٹموں سے بنی ہے۔ ایٹم کا سائز ایک انچ کا ڈھائی کروڑواں حصہ ہوتا ہے یعنی سوئی کی نوک پر لاکھوں ایٹم رکھے جا سکتے ہیں۔ ہلکی اشیا کے ایٹم ہلکے اور بھاری اشیا کے ایٹم بھاری ہوتے ہیں۔ بشمول انسان تمام جانداروں کی روح بھی ایٹموں سے مرکب ہے۔ روح کے ایٹم باقی تمام اشیا کے ایٹموں سے چھوٹے اور لطیف ہوتے ہیں۔ موت کے بارے میں دمقراطیس کا خیال تھا کہ جب روح کے تمام ایٹم جسم سے نکل جاتے ہیں تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس حالت میں جسم میں روح کا ایک ایٹم بھی باقی نہیں رہتا جو خارج شدہ ایٹموں کو واپس لا سکے۔ اس لیے روح نکل جانے کے بعد آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔ تحقیق اور تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک ہی شے کے دو روپ ہیں کیونکہ یہ تمام ذرات جو کہ اب تک معلوم کیے گئے ہیں توانائی کی صورت میں سامنے آئے ہیں، یعنی ان بنیادی ذرات پر تجربات سے اور ان کی تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ سے آخر کار توانائی ہی حاصل ہوتی ہے۔ مالیکول، ایٹم یا بنیادی ذرات جو اب تک دیکھے نہیں جا سکے، ان کے بارے میں اتنی مفصل معلومات کن بنیادوں پر جمع کی گئی ہیں؟ سائنس دان اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ تجربات کے نتائج سے حاصل ہونے والے تاثر یا خصوصی مظاہرہ کی صورت میں یہ اخذ کیا گیا ہے کہ ایٹم اور اس کے ذرات کیا ہیں۔ مثلاً ٹی وی اسکرین پر جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ الیکٹران بیم (Electron Beam) کے بہاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے جبکہ الیکٹران یا الیکٹران بیم دکھائی نہیں دیتی۔ اس طرح کے تجربات میں ایٹم کو جب کسی بیرونی قوت یا شعاع کے زیرِ اثر لایا جاتا ہے تو ایٹمی ذرات پر اس کی اثر پذیری کے نتائج ایک اسکرین پر دیکھے جاتے ہیں۔ اسکرین پر نظر آنے والا یہ Response روشنی کے دھبہ (Dot)، رنگ یا ٹمٹاہٹ کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس طرح ذرات کی خصوصیات معلوم کر لی جاتی ہیں۔


 

Topics