Topics

نماز اور تصوّف۔اگست ۔۲۰۱۴

 

صلوٰۃ ذہنی یکسوئی حاصل کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام اور سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اختیار فرمایا ہے۔ اس طریقہ میں بڑی اہمیت تفکر کو ہے۔ صلوٰۃ میں اللہ کے ساتھ بندے کا تعلق قائم ہو جاتا ہے جب بندہ اس تفکر کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوتا ہے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے تو اللہ کی صفات میں ذہن مرکوز ہو جاتا ہے۔ روحانی کیفیات میں تفکر بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ رسول ﷺ نے ایک طویل مدت تک غارِ حرا میں اللہ کی نشانیوں پر تفکر فرمایا ہے۔ تفکر کا مفہوم یہ ہے کہ ہر طرف سے ذہن ہٹا کر اللہ کی نشانیوں پر غور کیا جائے۔ ارکانِ اسلام کی تکمیل کے بعد بندہ کا اللہ کے ساتھ رابطہ قائم رہتا ہے۔

صلوٰۃ اس عبادت کا نام ہے جس میں اللہ کی بڑائی، تعظیم اور اس کی ربوبیت و حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے، نماز ہر پیغمبر اور اس کی امت پر فرض ہے۔ نماز قائم کر کے بندہ اللہ سے قریب ہو جاتا ہے۔ نماز فواحش اور منکرات سے روکتی ہے۔ صلوٰۃ دراصل اللہ سے تعلق قائم کرنے کا یقینی ذریعہ ہے۔ مسلسل گہرائیوں کے ذریعہ سالک کو ذہنی مرکزیت قائم کرنے کی مشق ہو جاتی ہے۔ اس لیے مراقبہ کرنے والے حضرات و خواتین جب نماز ادا کرتے ہیں تو آسانی سے ان کا دلی تعلق اللہ کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے۔

حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کو مکہ کی بے آب و گیاہ زمین پر آباد کیا تو اس کی غرض یہ بیان کی :
اے ہمارے پروردگار ! تاکہ وہ صلوٰۃ (آپ کے ساتھ تعلق اور رابطہ) قائم کریں۔“ (۱۴ : ۳۷)

حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی نسل کے لئے یہ دعا کی :
اے میرے پروردگار ! مجھے اور میری نسل میں سے لوگوں کو صلوٰۃ (رابطہ) قائم کرنے والا بنا۔
(۱۴ : ۴۰)

حضرت اسماعیل ؑ اپنے اہل و عیال کو صلوٰۃ قائم کرنے کا حکم دیتے تھے۔“ (۱۹ : ۵۵)

حضرت لوط ؑ، حضرت اسحاق ؑ، حضرت یعقوب ؑ اور ان کی نسل کے پیغمبروں کے بارے میں قرآن کہتا ہے :
اور ہم نے ان کو نیک کاموں کے کرنے اور صلوٰۃ قائم کرنے کی وحی کی۔“ (۲۱ : ۷۳)

حضرت لقمان ؑ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی :
اے میرے بیٹے صلوٰۃ قائم کر۔“ (۳۱ : ۱۷)

اللہ نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا۔
اور میری یاد کے لئے صلوٰۃ قائم کر (یعنی میری طرف ذہنی یکسوئی کے ساتھ متوجہ رہ)۔

حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت ہارون ؑ کو اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو اللہ نے حکم دیا۔
اور اپنے گھروں کو مسجدیں ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔“ (۱۰ : ۸۷)

عرب میں یہود اور عیسائی قائم الصلوٰۃ تھے۔
اہلِ کتاب میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راتوں کو کھڑے ہو کر اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں اور وہ سجدہ کرتے ہیں۔“ (۳ : ۱۱۳)

اور وہ لوگ جو محکم پکڑتے ہیں کتاب (اللہ کے بنائے پروگرام اور آسمانی قانون) کو اور قائم رکھتے ہیں صلوٰۃ ہم ضائع نہیں کرتے اجر نیکی کرنے والوں کے۔“ (۷ : ۱۷۰)

بندہ جب اللہ سے اپنا تعلق قائم کر لیتا ہے تو اس کے دماغ میں ایک دروازہ کھل جاتا ہے جس سے گزر کر وہ غیب کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔

صلوٰۃ ذہنی مرکزیت (Concentration) کو بحال کر دیتی ہے۔ انسان ذہنی یکسوئی کے ساتھ شعوری کیفیات سے نکل کر لاشعوری کیفیات میں داخل ہو جاتا ہے۔

اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ہر طرف سے ذہن ہٹا کر، شعوری دنیا سے نکل کر لاشعوری دنیا یعنی غیب کی دنیا سے آشنا ہو جائے۔

نماز میں خیالات سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ :
صلوٰۃ قائم کرنے سے پہلے آرام دہ نشست میں قبلہ رخ بیٹھ کر تین مرتبہ درود شریف، تین مرتبہ کلمہ شہادت پڑھیں اور آنکھیں بند کر کے ایک سے تین منٹ تک یہ تصور قائم کریں کہ ”میں عرش کے نیچے ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہیں اور میں اللہ کو سجدہ کر رہا ہوں۔

قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے اور ان حقائق و معارف کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے بوسیلہ حضرت جبرائیل ؑ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ اطہر پر نازل فرمائے۔ قرآن مجید کا ہر لفظ انوار و تجلیات کا ذخیرہ ہے۔

بظاہر مضامینِ غیب عربی الفاظ میں ہیں، لیکن ان الفاظ کے پیچھے نوری معانی کی وسیع دنیا موجود ہے۔ تصوف کے اساتذہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے شاگرد الفاظ میں موجود مخفی نور کو دیکھ لیں تاکہ قرآن حکیم اپنی پوری جامعیت اور معنویت کے ساتھ ان پر روشن ہو جائے۔

روحانی اساتذہ بتاتے ہیں کہ جب بھی قرآن مجید کی تلاوت کی جائے، چاہے نماز میں، تہجد کے نوافل میں یا صرف تلاوت کے وقت، نمازی یہ تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کلام کے ذریعے مجھ سے مخاطب ہیں اور میں اسی کی معرفت اس کلام کو سن رہا ہوں۔ تلاوت کے وقت یہ خیال رکھا جائے کہ الفاظ کے نوری تمثلات ہمارے اوپر منکشف ہو رہے ہیں۔

بندہ جب ذہنی توجہ کے ساتھ کلامِ اللہ کی تلاوت کرتا ہے تو اسے انہماک نصیب ہو جاتا ہے۔ قرآنی آیات کو بار بار پڑھنے سے ملأ اعلیٰ سے ایک ربط پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جس قدر قلب کا آئینہ صاف ہوتا ہے اسی مناسبت سے معانی و مفاہیم کی نورانی دنیا اس کے اوپر ظاہر ہونے لگتی ہے۔

اللہ کی دوستی حاصل کرنے کے لئے قرآن حکیم نے جس پروگرام کا تذکرہ کیا ہے اس میں دو باتیں بہت اہم اور ضروری ہیں۔

قائم کرو صلوٰۃ اور ادا کرو زکوٰۃ۔“ (۲ : ۴۳)

قرآنی پروگرام کے یہ دونوں اجزا، نماز اور زکوٰۃ، روح اور جسم کا وظیفہ ہیں۔ وظیفہ سے مراد وہ حرکت ہے جو زندگی کی حرکت کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

جب تم نماز میں مشغول ہو تو یہ محسوس کرو کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں یا یہ محسوس کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

نماز میں وظیفۂ اعضا کی حرکت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہنے کی عادت ہونی چاہیے۔ ذہن کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا رُوح کا وظیفہ ہے۔ اور اعضا کا حرکت میں رہنا جسم کا وظیفہ ہے۔ قیامِ صلوٰۃ کے ذریعے کوئی بندہ اس بات کا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔

جس حد تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر کسی امتی کا عمل ہوتا ہے، اسی مناسبت سے اسے حضوری نصیب ہو جاتی ہے۔ قلب میں جلا پیدا کرنے کے لئے ہمیں خود کو ان چیزوں سے دور کرنا ہوگا جو ہمیں پاکیزگی، صفائی اور نورانیت سے دور کرتی ہیں۔ اس دماغ کو رد کرنا ہوگا جو ہمارے اندر نافرمانی کا باعث ہے۔ اس دماغ سے آشنائی حاصل کرنا ہوگی جو جنت کا دماغ ہے اور جس دماغ پر تجلیات کا نزول ہوتا ہے۔

نماز ایسا وظیفۂ اعضا اور روحانی عمل ہے جس میں تمام جسمانی حرکات اور روحانی کیفیات شامل ہیں۔

نمازی اللہ کی طرف رجوع ہونے کی نیت کرتا ہے۔ پھر وضو کر کے پاک صاف ہوتا ہے۔ پاک جگہ کا انتخاب کرتا ہے۔ قبلہ رخ کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتا ہے۔ پھر ہاتھ باندھ لیتا ہے۔ قرآن حکیم کی تلاوت کرتا ہے یعنی اللہ سے ہمکلام ہوتا ہے۔ اللہ کی حمد پڑھتا ہے اور اللہ کی صفات بیان کرتا ہے۔ پھر جھک جاتا ہے۔ تسبیح پڑھتا ہے میرا رب پاک اور عظیم ہے۔“ پھر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اے ہمارے رب ہم تیری تعریف کرتے ہیں۔“ پھر سجدے میں چلا جاتا ہے۔ جبینِ نیاز زمین پر رکھ کر اعلان کرتا ہے۔ اے ہمارے رب تو ہی سب سے اعلیٰ اور بلند مرتبہ ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود سلام بھیج کر سلام عرض کرتا ہے۔ وضو میں ہاتھ دھونا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، منہ دھونا، سر کا مسح کرنا وغیرہ سب جسمانی وظیفہ ہے۔ نماز میں کھڑے ہونا، جھکنا، سجدہ کرنا، دو زانو بیٹھنا، اور اِدھر اُدھر دیکھنا یہ بھی جسمانی وظیفہ ہے۔ سب اعمال کا مقصد یہ ہے کہ جسم کے ہر عمل میں ذہن اللہ کے ساتھ وابستہ رہے۔

صلوٰۃ ایک ایسا عمل اور ایسا شغل ہے کہ جس کو پورا کرنے سے بندے کا ذہن اس بات کا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں اللہ کو دیکھتا ہے۔ نماز بندہ اور اللہ کے درمیان ایک رابطہ ہے۔ نماز میں مشغول ہو کر بندہ غیر اللہ سے دور ہو کر اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔ بندہ کے اندر جب یہ کیفیت مستحکم ہو جاتی ہے تو اسے مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا ہے۔ نماز مرتبہ احسان پر عمل کرنے کا مکمل پروگرام ہے۔


 

Topics