Topics
ہر طرف سے ذہن ہٹا کر کسی ایک نقطہ پر توجہ مرکوز کرنے کا نام
مراقبہ ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جب تک توجہ مرکوز نہ ہو، ہم کوئی کام احسن طریقے پر
نہیں کر سکتے۔ بچے اس لیے الف، ب، ج سیکھ لیتے ہیں کہ ان کی توجہ استاد کے بولے
ہوئے الفاظ پر مرکوز ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک منشی حساب اس وقت صحیح کرتا ہے جب اس کی
توجہ ادھر ادھر نہ بھٹکے، بصورتِ دیگر وہ کبھی حساب صحیح نہیں کرتا۔ کسی بھی شعبہ
میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کی توجہ اس کام کی طرف قائم رہے۔
جس طرح دنیا کے تمام امور کے لیے ذہنی مرکزیت ضروری ہے، اسی
طرح دینی امور میں ذہنی مرکزیت نہ ہو تو خیالات کی یلغار رہتی ہے۔ خیالات کی یلغار
اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ نماز میں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ نمازی نے کون سی سورۃ کس
رکعت میں تلاوت کی ہے۔
مشائخ اور صوفیا مراقبہ کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے شاگردوں
کو مراقبہ کی تلقین کرتے ہیں۔ تصوّف کی تعریف یہ ہے کہ شریعت اور طریقت پر دلجمعی،
یقین اور مداومت سے عمل کیا جائے۔ عرفانِ ذات کے لیے شریعت تھیوری (Theory) ہے اور تصوف پریکٹیکل ہے۔ بندہ جب اسلام کے ارکان پورے کرتا ہے
تو یہ عمل دین کی تھیوری ہے اور جب مسلمان ارکان کی حکمت پر غور کر کے حقیقت تلاش
کر لیتا ہے تو یہ عمل پریکٹیکل ہے۔ پریکٹیکل میں سالک رکوع کرنے والوں کے ساتھ
رکوع کرنے والے فرشتوں کو اور سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ کرنے والے فرشتوں کو
دیکھتا ہے اور اللہ کا فضل اس کے اوپر محیط ہو جاتا ہے۔ یہی ”الصلوٰۃ معراج
المومنین“ کا مفہوم ہے۔ نمازی دیکھتا ہے کہ میں اللہ کو سجدہ کر رہا ہوں اور اللہ
میرے سامنے ہے۔
مراقبہ کی تعریف مختلف طریقوں سے بیان کی جاتی ہے:
۱۔ تمام خیالات سے ذہن کو آزاد کر کے ایک نقطہ پر مرکوز کر دیا
جائے۔
۲۔ جب مفروضہ حواس کی گرفت انسان کے اوپر سے ٹوٹ جائے تو انسان
مراقبہ کی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے۔
۳۔ جب انسان اپنے اوپر بیداری میں خواب کی حالت طاری کر لے تو
وہ مراقبہ میں چلا جاتا ہے۔
۴۔ یہ بات بھی مراقبہ کی تعریف میں آتی ہے کہ انسان دور دراز کی
باتیں دیکھ اور سن لیتا ہے۔
۵۔ شعوری دنیا سے نکل کر لاشعوری دنیا میں جب انسان داخل ہو
جاتا ہے تو یہ کیفیت بھی مراقبہ کی ہے۔
۶۔ مراقبہ میں بندے کا ذہن اتنا زیادہ یکسو ہو جاتا ہے کہ وہ
دیکھتا ہے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔
۷۔ ایک ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ مراقبہ کرنے والا یہ دیکھتا
ہے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔
انسان کی روح میں ایک ایسی روشنی ہے جو اپنی وسعتوں کے لحاظ سے
لامتناہی حدوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر اس لامتناہی روشنی کی حد بندی کرنا چاہیں تو
پوری کائنات کو اس لامحدود روشنی میں مقید تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ روشنی موجودات کی
ہر چیز کا احاطہ کرتی ہے۔ اس احاطہ سے باہر کسی وہم، خیال یا تصور کا نکل جانا ممکن
نہیں۔ روشنی کے دائرہ میں جو کچھ واقع ہوا تھا یا بحالتِ موجودہ وقوع میں ہے یا
آئندہ ہوگا، وہ سب ذاتِ انسانی کی نگاہ کے بالمقابل ہے۔ اس روشنی کی ایک شعاع کا
نام ”باصرہ“ ہے۔ یہ شعاع کائنات کے پورے دائرہ میں دور کرتی رہتی ہے۔
کائنات ایک دائرہ ہے اور یہ روشنی ایک چراغ ہے۔ اس چراغ کی لو
کا نام باصرہ ہے۔ جہاں اس چراغ کی لو کا عکس پڑتا ہے وہاں اردگرد اور قرب و جوار
کو چراغ کی لو دیکھ لیتی ہے۔ اس چراغ کی لو میں جس قدر روشنیاں ہیں ان میں درجہ
بندی ہے۔ کہیں لو کی روشنی بہت ہلکی، کہیں ہلکی، کہیں تیز اور کہیں بہت تیز پڑتی
ہے۔ جن چیزوں پر لو کی روشنی بہت ہلکی پڑتی ہے، ہمارے ذہن میں ان چیزوں کا تواہم
پیدا ہوتا ہے۔ تواہم لطیف ترین خیال کو کہتے ہیں، جو صرف ادراک کی گہرائیوں میں
محسوس کیا جاتا ہے۔ جن چیزوں پر لو کی روشنی ہلکی پڑتی ہے ہمارے ذہن میں ان چیزوں
کا خیال رونما ہوتا ہے۔ جن چیزوں پر لو کی روشنی تیز پڑتی ہے، ہمارے ذہن میں ان
چیزوں کا تصور قدرے نمایاں ہو جاتا ہے اور جن چیزوں پر لو کی روشنی بہت تیز پڑتی
ہے ان چیزوں تک ہماری نگاہ پہنچ کر ان کو دیکھ لیتی ہے۔
وہم، خیال اور تصور کی صورت میں کوئی چیز انسانی نگاہ پر واضح
نہیں ہوتی اور نگاہ اس چیز کی تفصیل کو نہیں سمجھ سکتی۔ شہود کسی روشنی تک، خواہ
وہ بہت ہلکی ہو یا تیز ہو، نگاہ کے پہنچ جانے کا نام ہے۔ شہود ایسی صلاحیت ہے جو
ہلکی سے ہلکی روشنی کو نگاہ میں منتقل کر دیتی ہے تاکہ ان چیزوں کو جو اب تک محض
تواہم تھیں، خدوخال، شکل و صورت، رنگ اور روپ کی حیثیت میں دیکھا جا سکے۔ روح کی
وہ طاقت جس کا نام شہود ہے، وہم کو، خیال کو یا تصور کو نگاہ تک لاتی ہے اور ان کی
جزئیات کو نگاہ پر منکشف کر دیتی ہے۔
شہود میں برقی نظام بے حد تیز ہو جاتا ہے اور حواس میں روشنی
کا ذخیرہ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس روشنی میں غیب کے نقوش نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ
مرحلہ شہود کا پہلا قدم ہے۔ اس مرحلے میں سارے اعمال باصرہ یا نگاہ سے تعلق رکھتے
ہیں، یعنی صاحبِ شہود غیب کے معاملات کو خدوخال میں دیکھتا ہے۔ قوتِ بصارت کے بعد
شہود کا دوسرا مرحلہ سماعت کا حرکت میں آنا ہے۔ اس مرحلے میں کسی ذی روح کے اندر
کے خیالات آواز کی صورت میں صاحبِ شہود کی سماعت تک پہنچنے لگتے ہیں۔ شہود کا
تیسرا اور چوتھا درجہ یہ ہے کہ صاحبِ شہود کسی چیز کو، خواہ اس کا فاصلہ لاکھوں
برس کے برابر ہو، سونگھ سکتا ہے اور چھو سکتا ہے۔
ایک صحابی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اپنی طویل شب بیداری
کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یارسول اللہ ﷺ! میں آسمان میں فرشتوں کو چلتے پھرتے
دیکھتا تھا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم شب بیداری کو قائم رکھتے تو فرشتے تم
سے مصافحہ بھی کرتے۔“ دورِ رسالت کے اس واقعہ میں شہود کے مدارج کا تذکرہ موجود
ہے۔ فرشتوں کو دیکھنا باصرہ سے تعلق رکھتا ہے اور مصافحہ کرنا لمس کی قوتوں کی طرف
اشارہ ہے جو باصرہ کے بعد بیدار ہوتی ہیں۔
شہود کے مدارج میں ایک ایسی کیفیت وہ ہے جب جسم اور روح کی
واردات و کیفیات ایک ہی نقطہ میں سمٹ آتی ہیں اور جسم روح کی تحریکات سے براہِ
راست متاثر ہوتا ہے۔ صوفیا کے حالات میں اس طرح کے بہت سے واقعات موجود ہیں۔ مثلاً
ایک قریبی شناسا نے حضرت معروف کرخیؒ کے جسم پر نشان دیکھ کر پوچھا کہ کل تک تو یہ
نشان موجود نہیں تھا، آج کیسے پڑ گیا؟ حضرت معروف کرخیؒ نے فرمایا: ”کل رات نماز
میں ذہن خانہ کعبہ کی طرف چلا گیا، خانہ کعبہ میں طواف کے بعد جب چاہِ زم زم کے
قریب پہنچا تو میرا پاؤں پھسل گیا اور میں گر پڑا، مجھے چوٹ لگی اور یہ اسی چوٹ کا
نشان ہے۔“
ایک بار اپنے مرشدِ کریم ابدالِ حق حضور قلندر بابا اولیا ؒ کے
جسم پر زخم کا غیر معمولی نشان دیکھ کر میں (خواجہ شمس الدین عظیمی) نے اس کی بابت
دریافت کیا۔ حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے بتایا: ”رات کو روحانی سفر کے دوران دو
چٹانوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے چٹان میں نکلی ہوئی ایک نوک جسم میں چبھ گئی تھی۔“
جب شہود کی کیفیات میں استحکام پیدا ہو جاتا ہے تو روحانی
طالب، غیبی دنیا کی سیر اس طرح کرتا ہے کہ وہ غیب کی دنیا کی حدود میں چلتا پھرتا،
کھاتا پیتا اور وہ سارے کام کرتا ہے جو دنیا میں کرتا ہے۔ صوفی جب مراقبہ کے مشاغل
میں پوری طرح انہماک حاصل کر لیتا ہے تو اس میں اتنی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ زمان
کے دونوں کناروں ازل اور ابد کو چھو سکتا ہے اور اللہ کے دیے ہوئے اختیار کے تحت
اپنی قوتوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ وہ ہزاروں سال پہلے کے یا ہزاروں سال بعد کے
واقعات دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے کیونکہ ازل سے ابد تک درمیانی حدود میں جو کچھ
پہلے سے موجود تھا یا آئندہ ہوگا، اس وقت بھی موجود ہے۔ شہود کی اس کیفیت کو تصوف
میں سیر یا معائنہ کہتے ہیں۔
تصوف کا طالب علم ”سالک“ جب اپنے قلب میں موجود روشنیوں سے
واقف ہو جاتا ہے اور شعوری حواس سے نکل کر لاشعوری حواس میں داخل ہو جاتا ہے تو
اسے فرشتے نظر آنے لگتے ہیں، وہ ان باتوں سے آگاہ ہو جاتا ہے جو حقیقت میں چھپی
ہوئی ہیں۔ صوفی پر عالمِ امر (روحانی دنیا) کے حقائق منکشف ہو جاتے ہیں۔ وہ دیکھتا
ہے کہ کائنات کی ساخت میں کس قسم کی روشنیاں اور روشنیوں کو سنبھالنے کے لیے انوار
کس طرح استعمال ہوتے ہیں۔ پھر اس کے ادراک پر وہ تجلی منکشف ہو جاتی ہے جو روشنیوں
کو سنبھالنے والے انوار کی اصل ہے۔
مراقبہ کرنے والے بندے کو مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
۱۔ خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔
۲۔ روحانی علوم منتقل ہوتے ہیں۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی توجہ اور قرب حاصل ہوتا ہے۔
۴۔ منتشر خیالی سے نجات مل جاتی ہے، ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔
۵۔ اخلاقی برائیوں سے ذہن ہٹ جاتا ہے۔
۶۔ مسائل حل ہوتے ہیں، پریشانیوں سے محفوظ رہتا ہے۔
۷۔ مراقبہ کرنے والا بندہ کم بیمار ہوتا ہے۔
۸۔ مراقبہ کے ذریعے بیماریوں کا علاج قدرت کا سربستہ راز ہے۔
۹۔ اللہ تعالیٰ پر یقین مستحکم ہو جاتا ہے۔
۱۰۔ اپنے خیالات دوسروں کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
۱۱۔ صاحبِ مراقبہ روحانی طور پر جہاں چاہے جا سکتا ہے۔
۱۲۔ مراقبہ کرنے والوں کو نیند جلدی اور گہری آتی ہے، وہ فوراً
سو جاتا ہے۔
۱۳۔ فراست میں اضافہ ہوتا ہے۔
۱۴۔ کسی بات یا مضمون کو بیان کرنے کی اعلیٰ صلاحیت پیدا ہو جاتی
ہے۔
۱۵۔ صاحبِ مراقبہ بندہ عفو و درگزر سے کام لیتا ہے، دل نرم اور
گفتگو لطیف ہو جاتی ہے۔
۱۶۔ بلا تخصیص مذہب و ملت، اللہ کی مخلوق کو دوست رکھتا ہے اور
خدمت کر کے خوش ہوتا ہے۔
۱۷۔ ماں سے والہانہ محبت کرتا ہے، باپ کا احترام کرتا ہے، بڑوں
کے سامنے جھکتا ہے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے۔
۱۸۔ مراقبہ کرنے والا بندہ سخی اور مہمان نواز ہوتا ہے۔
۱۹۔ اپنے پرائے سب کے لیے دعا کرتا ہے۔
۲۰۔ مراقبہ کرنے والے کی روح سے عام لوگ فیض یاب ہوتے ہیں۔
۲۱۔ تواضع اور انکساری اس کی عادت بن جاتی ہے۔
۲۲۔ صاحبِ مراقبہ سالک کو پراگندہ خیالات بوجھ اور وقت کا ضیاع
نظر آتے ہیں اور وہ ہر حال میں ان سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ انبیاء
اور اولیاء اللہ کی روحوں سے امداد کا طالب ہوتا ہے اور اس کی بے قراری کو قرار آ
جاتا ہے۔
۲۳۔ نماز میں حضوری ہو جاتی ہے۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع
کرتے ہوئے، اور سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ کرتے ہوئے فرشتوں کو صف بہ صف دیکھتا
ہے۔
۲۴۔ آسمانوں کی سیر کرتا ہے اور جنت کے باغات اس کی نظروں کے
سامنے آ جاتے ہیں۔
۲۵۔ کشف القبور کے مراقبے میں اس دنیا سے گزرے ہوئے لوگوں کی
روحوں سے ملاقات ہو جاتی ہے۔
۲۶۔ سچے خواب نظر آتے ہیں۔
۲۷۔ شریعت و تصوف پر کاربند انسان کو سیدنا حضور ﷺ کی زیارت نصیب
ہوتی ہے۔
مراقبہ کی بے شمار اقسام میں سے چند یہ ہیں:
۱۔ صلوٰۃ قائم کرنا
۲۔ روزہ میں توجہ الی اللہ قائم کرنا
۳۔ حجِ بیت اللہ میں دیدارِ الٰہی حاصل کر کے اللہ کی طرف متوجہ
رہنا
۴۔ تصورِ شیخ کا مراقبہ
۵۔ نیلی روشنی کا مراقبہ
۶۔ مرتبۂ احسان کا مراقبہ
۷۔ پھولوں کا مراقبہ
۸۔ مراقبۂ مشاہدہ قلب
۹۔ عرش کے تصور کا مراقبہ
۱۰۔ بیت المعمور کا مراقبہ
۱۱۔ جنت کا مراقبہ
۱۲۔ اپنی روح کے مشاہدے کا مراقبہ
۱۳۔ دل میں سیاہ نقطے کا مراقبہ
۱۴۔ مراقبۂ معائنہ
۱۵۔ مراقبۂ موت
۱۶۔ مراقبۂ نور
۱۷۔ مراقبۂ استرخاء
۱۸۔ مراقبۂ ہاتفِ غیبی
۱۹۔ مراقبۂ کشف القبور
۲۰۔ مراقبۂ تفہیم