Topics

حج اور تصوف۔اکتوبر۔۲۰۱۴

 

جب بیت اللہ شریف کی تعمیر ہو گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا: اے ابراہیم ؑ ! لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ حضرت ابراہیم ؑ نے عرض کیا: ”یا اللہ! میری آواز کس طرح پہنچے گی یہاں ہم تین آدمیوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے ابراہیم ؑ ! آواز پہنچانا ہمارے ذمہ ہے۔“ حضرت ابراہیم ؑ نے حج کا اعلان کر دیا۔ اس آواز کو آسمانوں اور زمین میں اور اس کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے، سب نے سنا۔ حج کا یہی وہ اعلان ہے جس کے جواب میں حاجی حضرات حج کے دوران لبیک اللّٰھم لبیک کہتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”جس شخص نے خواہ وہ پیدا ہو چکا تھا یا ابھی عالمِ ارواح میں تھا، حضرت ابراہیم ؑ کی آواز سن کر لبیک کہا، وہ حج ضرور کرتا ہے۔“

سورہ بقرہ میں ارشاد ہے: ”حج کے چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں، پس جو شخص ان ایام میں اپنے اوپر حج مقرر کرے تو پھر نہ کوئی فحش بات جائز ہے اور نہ حکم عدولی درست ہے اور نہ کسی قسم کا جھگڑا زیبا ہے اور جو نیک کام کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔“ (۲ : ۱۹۷)

حضور ﷺ کا ارشاد ہے: ”جو شخص اللہ کے لیے حج کرے اس طرح کہ اس میں فحش بات اور حکم عدولی نہ ہو تو وہ ایسا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔“ (مشکوٰۃ)

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”جب کسی حاجی سے ملاقات ہو تو اس کو سلام کرو، اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہو، اس سے اپنی مغفرت کے لیے دعا کرو۔“ (مشکوٰۃ)

حضرت ابراہیم ؑ نے خواب میں دیکھا کہ انہیں چہیتے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ تجسس، تحقیق اور مشاہداتی عمل سے اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ”اللہ طلوع اور غروب ہونے والی ہستی نہیں ہے۔“ حضرت ابراہیم ؑ سے یہ یقین ان کے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو منتقل ہوا اور جب آپ نے حضرت اسماعیل ؑ کو خواب سنایا تو حضرت اسماعیل ؑ نے کہا: ”آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کریں، ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔“ حضرت ابراہیم ؑ حضرت اسماعیل ؑ کو لے کر منیٰ کے مقام پر آئے اور ایک جگہ انہیں لٹا دیا۔ حضرت اسماعیل ؑ سے فرمایا: آنکھیں بند کر لو اور خود بھی اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ کا نام لے کر حضرت اسماعیل ؑ کے گلے پر چھری پھیر دی۔ جب وہ اپنی دانست میں پیارے بیٹے کو ذبح کر چکے تو آواز آئی: ابراہیم! آنکھیں کھول دے۔ دیکھا کہ ایک تندرست دنبہ ذبح کیا ہوا سامنے پڑا ہے۔

”ہم نے اس کو پکارا: اے ابراہیم! بے شک سچ کر دیا تو نے اپنے خواب کو، تحقیق اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔“ (۳۷ : ۱۰۴۔۱۰۵)

حج کے ارکان میں قربانی اور ہر سال بقر عید میں قربانی حضراتِ ابراہیم علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور ایثار کا مسلسل تواتر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اہلِ استطاعت پر واجب کر دیا ہے۔

اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد حضرت جبرائیل ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس آئے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے اس سرزمین پر اللہ کا گھر تعمیر کرو تاکہ لوگ آئیں اور اپنے رب کے گھر کا طواف کریں۔ آپ ؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ جس مقام پر شیطان نے آپ دونوں کو بہکانا چاہا تھا اور آپ دونوں نے اس پر کنکریاں ماری تھیں، وہیں پر یہ عمل (رمی جمار) حج کے رکن کی صورت میں آج بھی جاری ہے۔ اللہ کے ہر حکم میں بہت ساری حکمتیں چھپی ہوئی ہیں۔

حج کا ایک رکن شیطان کو کنکریاں مارنا ہے۔ اس کا پسِ منظر یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کے لیے لے کر چلے تو منیٰ کے مقام پر شیطان نے انہیں اپنے ارادے سے باز رہنے کی کوشش کی۔ آپ ؑ نے شیطان کو کنکریاں مار کر بھگا دیا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں حج کے دوران شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ کنکریاں مارنے کی حکمت یہ ہے کہ اگر اللہ کے حکم کی تعمیل میں کوئی رکاوٹ آئے تو اس کی مزاحمت کی جائے۔ ذہنی مزاحمت کے ساتھ جسمانی طاقت بھی استعمال کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم پورا ہو جائے اور شیطان اپنے وسوسوں میں مایوس اور نامراد ہو جائے۔

عمل کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب عمل کرنے کا وقت اور جگہ کا تعین کر لیا جائے۔ کسی کام کا خیال دماغ میں آتا ہے تو اس خیال کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے۔ مثلاً شک کی صورت ایک الجھے ہوئے جال جیسی ہوتی ہے۔ آدمی اگر جال میں پھنس جائے تو نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ آدمی جتنا جال سے نکلنا چاہتا ہے، جال مزید الجھ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا حکم لطیف انوار کا ذخیرہ ہے، جبکہ ناسوتی کثیف روشنیاں عملی راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ شیطان کھلا دشمن ہونے کی وجہ سے آدمی کے نفس کو کثافت سے بھر دیتا ہے۔ ”نفس“ (مٹی کے عناصر کا مرکب) میں شک، وسوسہ، غرور و تکبر، حسد، نافرمانی اور غیر اخلاقی باتیں آتی رہتی ہیں۔

”نفس“ دو راستوں پر سفر کرتا ہے۔ ایک ناسوتی اور دوسرا غیبی دنیا کا راستہ۔ ناسوتی دنیا میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور شیطان کی انسپائریشن حکمِ الٰہی اور انسانی عقل کے درمیان شک بن جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنا شیطانی انسپائریشن کو رد کرنا ہے۔

صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے لگانے کو سعی کہتے ہیں۔ یہ پھیرے حضرت بی بی ہاجرہ ؓ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کے لیے پانی کی تلاش میں لگائے تھے۔ بی بی ہاجرہ ؓ کی اس سعی کے نتیجے میں آبِ زم زم کا چشمہ ابل آیا۔ حضرت بی بی ہاجرہ ؓ کا یہ عمل ممتا کی لازوال مثال ہے۔ مامتا اللہ کی صفت ہے۔ اللہ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ مخلوق کو محبت کے ساتھ پالتا ہے اور ان کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے وسائل مہیا کرتا ہے۔ ہر ماں ذیلِ تخلیق کی ذمہ دار ہے جو دراصل اللہ کی صفات کا مظاہرہ ہے۔ ماں اپنے بچے سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور اپنے بچے کی پرورش اور کفالت کے لیے انتہا تک کوشش کرتی ہے۔

حضرت بی بی ہاجرہ ؓ نے اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل ؑ کی زندگی کے لیے بنیادی وسیلہ پانی کی فراہمی کے لیے تلاش کا فریضہ ادا کیا۔ اور اس فرض میں اتنی مرکزیت قائم ہو گئی کہ قدرت نے آبِ زم زم کا چشمہ جاری کر دیا۔ بی بی ہاجرہ ؓ کی سعی کے نتیجے میں نمودار ہونے والا آبِ زم زم، حضرت اسماعیل ؑ اور توحید پرست لوگوں کے لیے حیات بن گیا۔ اللہ پاک کی نعمتیں لا محدود و لازوال ہیں۔ حضرت بی بی ہاجرہ ؓ کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہونے والا زم زم بھی لا محدود و لازوال ہے۔ ہر سال حج میں تقریباً ۲۵ لاکھ افراد اور پورے سال مزید لاکھوں عازمین عمرہ یہ پانی استعمال کرتے ہیں۔

طواف ایک ایسی عبادت ہے جو بیت اللہ شریف میں کی جاتی ہے۔ خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ کی مرکزیت کا علامت (Symbol) ہے۔ ہر شے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آ رہی ہے اور اللہ کی جانب لوٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والی ہر شے کی صفت کائنات کا شعور ہے اور کائنات کا علم لاشعور ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات علیم ہے اور علم کا سورس اللہ ہے۔ علمِ الٰہیہ کے انوار و تجلیات کا مظاہراتی سطح پر نزول کرنا کائنات کی نزولی حرکت ہے۔ نزولی حرکت میں علم کی تجلی اپنے علوم کا مظاہرہ کرتی ہے۔

بیت اللہ شریف کے طواف میں یہ نیت ہوتی ہے کہ ہم اللہ کے گھر کا طواف کر رہے ہیں۔ طواف صعودی اور نزولی دونوں کیفیات پر مشتمل ہے۔ صعودی حرکت یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور نزولی حرکت یہ ہے کہ بندہ مقدس زمین پر جسمانی طور پر اللہ کے گھر کے ارد گرد گھومتا ہے۔ حجرِ اسود کے سامنے تھوڑی دیر قیام کرنا، حجرِ اسود کو بوسہ دینا یا ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرنا اور خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانا طواف ہے۔

طوافِ کعبہ میں شعور و لاشعور میں روشنیوں کا ہجوم ہو جاتا ہے۔ روشنیوں اور نور کا ذخیرہ ہو جانے سے روح حق کے مشاہدہ میں مصروف ہو جاتی ہے۔ طواف کرنے والے پر بے خودی طاری ہو جاتی ہے۔ بیت اللہ شریف پر ہر لمحہ اور ہر آن انوار و تجلیات کا نزول ہوتا رہتا ہے، فرشتے ہمہ وقت طواف کرتے رہتے ہیں۔ انبیا اور اولیاء اللہ کی ارواحِ طیبہ طواف میں مشغول رہتی ہیں۔ فرشتوں اور انبیا علیہم السلام کے انوار اور اولیائے کرام کی فراست کی روشنیاں ایسا ماحول بنا دیتی ہیں کہ طواف میں حاجی کے اوپر انوار کی بارش برستی ہے۔ نور کی بارش اور تجلی کی لطافت کثیر تعداد میں لوگ محسوس کرتے ہیں اور اس سے پوری طرح فیض یاب اور متاثر ہوتے ہیں۔

حلق کرانے کا مطلب ہے بال کٹوانا۔ آدمی کے تمام اعمال و افعال کی بنیاد خیالات کے تانے بانے پر قائم ہے۔ دماغ خیالات کو قبول کرتا ہے، خیالات عالمِ غیب سے آتے ہیں۔ عالمِ غیب لطیف روشنیوں کا عالم ہے۔ عالمِ غیب سے آنے والی ہر انفارمیشن روشنی کی معین مقدار ہے۔

سر کے بال اینٹینا کا کام کرتے ہیں۔ بال نہایت باریک نلکیوں کی طرح ہیں، برقی قوت ان نلکیوں کے اندر دوڑتی ہے۔ کنگھی کرتے وقت بالوں کی برقی قوت (کرنٹ) کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بالوں میں کنگھی یا کنگھا پھیر کر چھوٹے چھوٹے کاغذ کے ٹکڑوں کے قریب کیا جائے تو کاغذ پر اڑ کر چپک جاتے ہیں۔

غیب سے آنے والی اطلاعات برقی رو کے دوش پر بالوں کو گزرگاہ بناتی ہوئی جڑوں میں اتر جاتی ہیں۔ اور برقی رو انرجی بن جاتی ہے اور یہ برقی توانائی حلق کرانے سے جسمِ مثالی میں جذب ہو جاتی ہے۔

مثبت خیالات کا سورس عالمِ بالا ہے، جبکہ منفی خیالات کا سورس عالمِ اسفل ہے۔ ناسوتی روشنیاں کثیف ہونے کی وجہ سے برقی رو میں رکاوٹ بنتی ہیں اور یہی رکاوٹ منفی خیالات بن جاتے ہیں۔

سعی کے بعد حلق کرایا جاتا ہے یا تھوڑے سے بال کاٹے جاتے ہیں۔ تو اس سے کثافت دور ہوتی ہے اور روشنی کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے، خیالات پاکیزہ اور لطیف ہو جاتے ہیں۔ جب بندہ اللہ پاک کے حکم پر اپنے بال کٹواتا ہے تو ظاہر سے ملنے والی اطلاعات سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے اور عالمِ بالا سے آنے والی اطلاعات سے رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔

جس تنظیم میں یونیفارم ہوتی ہے، اس تنظیم میں نظم و ضبط کا معیار اعلیٰ ہوتا ہے؛ جیسے فوج، پولیس۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر نرسیں، ڈاکٹر وغیرہ اس کی مثال ہیں۔ وردی پہن کر آدمی چست ہو جاتا ہے، احرام بھی ایک یونیفارم کی طرح ہے۔

حج ایک ایسا پروگرام ہے جس میں بندہ کا دھیان تمام وقت اللہ تعالیٰ کی جانب لگائے رکھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لباس سب سے زیادہ ذہن کو متوجہ رکھتا ہے۔ اگر الگ الگ رنگ کے لباس ہوں تو ہر شخص کا ذہن دوسرے کے لباس کی تراش خراش دیکھنے میں مصروف ہو سکتا ہے۔ سفید رنگ پاکیزگی کی علامت ہے، پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی صفتِ سبحان ہے۔

خانہ کعبہ کے غلاف کا رنگ سیاہ ہے اور زائرین سفید کپڑے کا احرام باندھتے ہیں۔ رنگوں سے مرکب روشنی ایک برقی مقناطیسی توانائی ہے۔ روشنی ہر شے میں سے گزر جاتی ہے، کسی شے میں سے گزرنے کے لیے اسے کسی وسیلے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ رنگ دراصل روشنی کی وہ خاصیت ہے جو اندھیرے (سیاہی) سے مل کر بنتی ہے۔

کالا رنگ ہمیں اس لیے نظر آتا ہے کہ وہ روشنی کی تمام لہروں کو جذب کر لیتا ہے۔ سفید رنگ ہمیں اس لیے نظر آتا ہے کہ یہ رنگ روشنی کی تمام لہروں کو منعکس کرتا ہے۔

خانہ کعبہ کے اوپر ہر وقت انوار و تجلیات کا نزول ہوتا رہتا ہے، خانہ کعبہ کا سیاہ رنگ پردہ ان کو اپنے اندر ذخیرہ کرتا رہتا ہے اور احرام کا سفید رنگ حجاج کے اوپر انوار کی لہروں کو منعکس کرتا ہے، جس کی وجہ سے زائرین کا جسمِ مثالی روشنی اور نور سے مزین ہو جاتا ہے۔ سفید رنگ لباس پاکیزگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔

ارکانِ حج اور طواف تقربِ الی اللہ کا ذریعہ ہیں۔ ظاہر و باطن، روح اور روح کے لباسِ جسم کے لیے جب اللہ تعالیٰ مرکز بن جاتے ہیں تو اندر کی آنکھ چشمِ بینا بن جاتی ہے اور حاجی اور زائرین دیکھ لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری رگِ جاں سے زیادہ قریب ہے۔

 

 

 

 


 

Topics