Topics
آپ
کی ہدایت کے مطابق صرف املا/کتابت کی غلطیوں کو بولڈ کیا گیا ہے، متن اور اسلوب
میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی:
تصوف
کیا ہے؟ جنوری ۲۰۱۴ء
پتوں
کی دنیا
جڑی
بوٹیاں پھول پھل اور پودے مخلوق ہیں۔ جس طرح انسان کی پیدائش مرحلہ وار پراسس (Process) سے ہوتی ہے۔ اس
طرح نباتات اور جمادات کی حیات و ممات بھی مرحلہ وار پراسس(Process)
پر قائم ہے اللہ نے کائنات میں ہر شے کو
جوڑے جوڑے بنایا ہے ۔ یعنی ہر شے کے دو دو رخ ہیں ۔۔۔ اور ہر رخ ، مقداروں (خلیوں
) سے مرکب ہے۔ ہر خلیے کی بیرونی دیوار میں آکسیجن ، ہائیڈرجن اور کاربن کا عمل
دخل ہے۔
ہر
شے کی بنیاد پانی ہے ، پانی کے اوپر تخلیق کا دارومدار ہے ، پانی نہ ہو تو زمین بے
آب و گیاہ بنجر بن جاتی ہے۔ انسان ، جنات ، پودوں ، درختوں اور دوسری تمام مخلوقات
کی نشونما کے لئے نمی ، ہوا اور گرمی کا ہونا ضروری ہے۔ فاسفورس ، پوٹاشیم اور
نائٹروجن نہ ہو تب بھی نشونما نہیں ہوگی اور یہ سب چیزیں قدرت نے پانی میں جمع کر
دی ہیں۔
درختوں
میں اگر پتے نہ ہوں تو درختوں کی زندگی مخدوش ہو جاتی ہے۔ ہر پتے میں رگیں ہوتی
ہیں۔ مسامات ہوتے ہیں، ان مسامات میں کاربن خون کی طرح دوڑتا ہے اور یہی مسامات
آکسیجن کو باہر نکالتے ہیں۔
پتوں
کی ایک پوری دنیا ہے پتے درخت کو زندہ رکھتے ہیں اور یہی پتے اگر بیمار ہو جائیں
تو درخت بیمار ہو کر ختم ہو جاتا ہے ۔ یہی پتے جب زمین پر گرتے ہیں تو زمین کے
اوپر نباتات کے لئے کھاد کا کام دیتے ہیں ۔ انسان کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہے
کہ وہ اتنی بڑی زمین پر کھاد ڈال سکے، بارش برستی ہے ، بجلی کڑکتی ہے ، بجلی کی
کڑک سے اور بارش کی بوندوں سے کھیتوں کو بیش بہا نائٹروجن مہیا ہوتی ہے۔
”اور
تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔“ (۲۱ : ۳۰)
”اور
وہ ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے
نباتات کو نکالا۔ پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے
ہوئے نکالتے ہیں اور کھجور کے درختوں سے یعنی ان کے گچھے میں سے خوشے ہیں جو بوجھ
سے نیچے لٹکے ہوئے ہیں اور اس ہی پانی سے ہم نے انگور کے باغ اور زیتون اور انار
کے درخت پیدا کئے ہیں ، جو کہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے
جلتے نہیں ہیں۔ ہر پھل کو دیکھو ان میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے
ہیں۔“ (۶ : ۹۹)
”اور
وہی ہے جس نے تمہارے واسطے آسمان سے پانی برسایا۔ جس کو تم پیتے ہو۔۔ اور اس سے
درخت سیراب ہوتے ہیں اور اس پانی سے تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور
انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے ۔ بے شک اس میں تفکر کرنے کے لئے دلیل ہے ۔“ (۱۶ : ۱۰)
”اور
وہ رب ایسا ہے جس نے لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے واسطے
راستے بنائے۔ اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر ہم نے اس ہی پانی کے ذریعہ سے مختلف
اقسام کے نباتات پیدا کئے تاکہ تم خود بھی کھاؤ۔۔۔ اور اپنے جانوروں کو بھی کھلاؤ۔
ان چیزوں میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔“ (۲۰ : ۵۳۔۵۴)
”
اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا
کیا پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا ۔ پھر نطفہ ( پانی کی پھٹکی)
کو ہم نے جمے ہوئے خون کے لوتھڑے میں اور لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا۔“ (۲۳ : ۱۲ ۔۱۴)
”پھر
اس کی نسل حقیر پانی کے نچوڑ سے پیدا کی۔“
(۳۲ : ۸)
”
کیا ہم نے تم کو حقیر پانی کے نچوڑ سے پیدا
نہیں کیا۔“ (۷۷ : ۲۰)
”وہ
اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا ہوا ۔“ (۸۶ : ۶)
اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اور
یہ جو بہت سی رنگ برنگی چیزیں اُس نے تمہارے لئے پیدا کر رکھی ہیں ان میں نشانی ہے
اُن لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہیں۔“
(۱۶ : ۱۳)
انجیر
کے پودے میں ایک چھوٹا سا غنچہ (نر یا مادہ ہوتا ہے ، ایک خاص قسم کی بھڑ غنچوں
میں انڈے دے جاتی ہے، جب بچے نکلتے ہیں تو نر انجیر مادہ انجیر میں چلے جاتے ہیں۔
بعض
بیلیں براہ راست زمین سے غذا حاصل نہیں کرتیں بلکہ دوسرے درختوں کے رس پر پلتی ہیں
اور یہ درخت رفتہ رفتہ خشک ہو جاتے ہیں ، درختوں کی جڑیں کیونکہ پانی جذب کر لیتی
ہیں اس لئے زمین پر دلدل نہیں بنتی ، فضا جب درختوں کے سانس سے بھر جاتی ہے تو
بادل وزنی ہو کر برسنے لگتے ہیں۔
ریگستان
میں اگر بے شمار بانس کھڑے کر دیئے جائیں اور ان بانسوں کو مختلف رنگوں سے رنگ دیا
جائے تو قانون یہ ہے کہ ریگستان میں بارش برسے گی اور جب تک یہ بانس لگے رہیں گے
بارش برستی رہے گی تا آنکہ ریگستان نخلستان اور جنگل میں تبدیل ہو جائے۔ حیوانات
کی زندگی کا دارومدار آکسیجن پر ہے اور نباتات کی زندگی کا انحصار کاربن پر ہے ،
اگر آکسیجن کم ہو جائے تو حیوانات ہلاک ہو جائیں گے اور کاربن کا ذخیرہ نہ رہے تو
نباتات فنا ہو جائیں گی۔۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے ۔۔ اور ایک ایسا علم ہے
جسے انسان کو ودیعت کر دیا گیا ہے پوری کائنات اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے اور اس کنبہ
کا ہر فرد دوسرے فرد سے ہم رشتہ ہے ، ہر شے دوسری شے کے کام آرہی ہے۔ ہر شے خوراک
بن کر دوسری شے کے لئے ایثار کر رہی ہے۔“
زمین
کے اوپر موجود مخلوقات کی یہ بہت مختصر روداد اس لئے لکھی گئی ہے کہ ہمارے اندر
تفکر پیدا ہو ، ہم یہ دیکھ سکیں اور سمجھ سکیں اور اس بات پر یقین کریں کہ نظامِ
کائنات میں یہ قدرِ مشترک ہے کہ ہر چیز دوسری چیز سے ایک مخفی رشتے میں بندھی ہوئی
ہے اور یہ مخفی رشتہ ایسا مضبوط رشتہ ہے کہ مخلوق میں سے کوئی ایک فرد بھی اس رشتے
سے انکار نہیں کر سکتا اور نہ اس رشتے کو توڑ سکتا ہے ، جب تک کوئی شے دوسری شے کے
کام آرہی ہے اس کا وجود ہے ورنہ وہ شے مٹ جاتی ہے۔ یہ پورا نظام ہے جو زمین میں ،
پانی کی دنیا میں ، فضا میں ، خلا میں ، آسمانوں میں انسانوں میں اور تمام مخلوقات
میں جاری ہے۔
قدرت
یہ بھی چاہتی ہے کہ زمین کا کوئی خطہ کوئی حصہ قدرت کے فیض سے محروم نہ رہے انسان
درختوں کی خدمت کرتا ہے اور درخت انسانوں کی خدمت پر مامور ہیں۔ انسان حیوانات کی
حفاظت کرتا ہے اور حیوانات انسانوں کے کام آتے ہیں۔
ہوا
بیجوں کو اپنے دوش پر اٹھا کر دور دراز مقامات تک پہنچاتی ہے ، دریا ، ندیاں ، نالے
بیجوں اور جڑوں کو زمین کے ہر خطے تک پہنچاتے ہیں۔ یہی قانون قوموں کے عروج و زوال
میں بھی نافذ ہے۔ جب کوئی قوم اس سسٹم سے تجاوز کرتی ہے اور ایثار سے کام نہیں
لیتی تو قدرت اسے فنا کر دیتی ہے۔
قرآن
حکیم میں ارشاد ہے :
”اگر
تم نے کائناتی سسٹم سے منہ پھیر لیا تو یہ زمین کسی اور کے قبضہ میں دے دی جائے
گی۔“ (۴۷ : ۳۸)
زمین
پر صرف وہی قومیں باقی رہتی ہیں جو مظاہر فطرت کے جاری و ساری قانون سے واقف ہیں
اور حیرت انگیز تخلیق اور نظام آفرینش کا مطالعہ کرتی ہیں، سب سے بڑا ظلم اور
جہالت یہ ہے کہ کسی قوم کو یہ معلوم نہ ہو کہ آسمان کیا ہیں اور ان کا قیام کن
مقداروں (فارمولوں) پر قائم ہے۔
زمین
کے خزانوں کو استعمال کئے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہتی، زمین کے خزانوں کے
استعمال کا عمل اور طریقہ قرآن میں تفکر
(کنسنٹریشن اور مراقبہ ) کرنا ہے۔
حضرت
ابراہیم ؑ نے کائنات میں تفکر اور اللہ وحدہ لا شریک کی پرستش کو اپنی اولاد اور
امت کے لئے فرض قرار دیا ہے۔
اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں :
”میں
تجھے بنانے والا ہوں انسانوں کے لئے امام۔“
(۲ : ۱۲۴)
حضرت
ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کے لئے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”تیری
اولاد میں سے ظالم لوگ محروم ہو جائیں گے۔“
(۲ : ۱۲۴)
آج
کا دور ، خود غرضی، مصلحت کوشی اور افراتفری کا دور ہے۔ بلاشبہ دین کو قوم کے لئے
بھول بھلیاں بنانے والے لوگ ظالم اور سرکش ہیں۔ سیدھی بات یہ ہے خالق نے ، مخلوق
کو پیدا کیا ہے ۔ خالق نے زندہ رہنے کے لئے وسائل عطا کئے ہیں۔ مرنے کے بعد کی
زندگی پر بھی اللہ کی حاکمیت ہے۔
جس
بندے کا دلی تعلق اللہ سے قائم ہو جاتا ہے ۔ وہ صراطِ مستقیم پر گامزن ہے اور
صراطِ مستقیم پر گامزن خواتین و حضرات اللہ کے دوست ہیں۔ جنہیں خوف ہوتا ہے نہ غم۔
اللہ
کی کتاب جو اللہ کے محبوب ﷺ پر نازل ہوئی جس میں لَا رَیْبَ ، شک نہیں ۔ جو کتاب
روشن دلیلوں کے ساتھ ہدایت ہے متقی لوگوں کے لئے۔ جس کتاب کا ہر ہر لفظ نور ہے ،
یہ نور انسان اور خالق کے درمیان تعلق قائم کرتا ہے۔ یہی نور زمین و آسمان کی
حقیقت ہے۔ جب کوئی انسان قرآن و حدیث کی روشنی میں تصوف کے طریقہ پر اس نور کو
تلاش کرتا ہے تو اللہ اس نور کی ہدایت دیتا ہے جسے چاہے۔۔: