Topics
ایک روز حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ ایک محلے سے گزرے
وہاں ایک عیسائی اور ایک مسلمان دست و گریبان تھے۔ پوچھا:
”کیوں لڑ رہے ہو؟“
مسلمان نے کہا:
”یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت محمد رسول
اللہ ﷺ سے افضل ہیں اور میں کہتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ سب سے افضل ہیں۔“
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ نے عیسائی سے دریافت کیا:
”تم کس دلیل کے ساتھ حضرت عیسیٰ ؑ کو حضرت محمد رسول
اللہ ﷺ پر فضیلت دیتے ہو؟“
عیسائی نے کہا:
”حضرت عیسیٰ ؑ مردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔“
بڑے پیر صاحب ؒ نے فرمایا:
”میں نبی نہیں ہوں بلکہ نبی ﷺ کا غلام ہوں اگر میں مردہ
زندہ کر دوں تو تم حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آؤ گے؟“
عیسائی نے کہا:
”بے شک میں مسلمان ہو جاؤں گا۔“
اس کے بعد حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ نے فرمایا:
”مجھے کوئی پرانی قبر دکھاؤ۔“
عیسائی، حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ کو پرانے قبرستان میں
لے گیا اور ایک پرانی قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا:
”اس قبر کے مردہ کو زندہ کرو۔“
حضرت غوثِ پاکؒ نے فرمایا:
”قبر میں موجود یہ شخص دنیا میں موسیقار تھا۔ اگر تم
چاہو تو یہ قبر میں سے گاتا ہوا باہر نکلے گا۔“
عیسائی نے کہا: ”ہاں میں یہی چاہتا ہوں۔“
حضرت شیخ ؒ قبر کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
”قم باذن اللہ“
قبر پھٹ گئی اور مردہ گاتا ہوا قبر سے باہر آگیا اور
عیسائی حضرت کی یہ کرامت دیکھ کر مسلمان ہوگیا۔
اس کرامت کی علمی توجیہہ یہ ہے ہم جسے آدمی کہتے ہیں وہ
گوشت پوست کے پنجرے سے بنا ہوا پتلا ہے اس پتلے کی حیثیت اسی وقت تک برقرار ہے جب
تک کہ پتلے کے اندر روح ہے۔ روح نکل جائے تو ہم اس کو زندہ آدمی نہیں کہتے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی سے بنایا اور اُس میں
اپنی روح پھونک دی۔“
روح اللہ کا امر ہے۔
سورۃ یٰسین میں اللہ تعالیٰ نے امرِ رب کی تعریف یہ
فرمائی ہے:
”اس کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو
کہتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔“
اس کی Equation یہ بنی۔ آدمی پتلا ہے، پتلا خلا ہے۔۔۔ خلا میں روح ہے، روح امرِ
رب ہے اور امر یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ”ہو جا“ اور وہ
چیز مظہر بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی ؒ کو
روح اور تخلیقی فارمولوں کا علم عطا کیا ہے۔ حضرت شیخ ؒ نے اسرار و رموزِ الٰہیہ
کے اس فارمولے کے مطابق جب فرمایا:
قم باذن اللہ۔ تو مردہ قبر سے باہر نکل آیا۔
ایک ولی سے ولایت چھن گئی جس کی وجہ سے لوگ اسے مردود
کہنے لگے۔ بے شمار اولیاء اللہ نے اس کا نام لوحِ محفوظ میں اشقیا کی فہرست میں
لکھا ہوا دیکھا۔ وہ بندہ نہایت سراسیمگی اور مایوسی کے عالم میں پیرانِ پیر دستگیر
ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور رو رو کر اپنی کیفیت بیان کی۔ حضرت غوثِ پاک ؒ نے اس
کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی: اسے میں نے تمہارے سپرد کیا، جو
چاہے کرو“۔ آپ ؒ نے اسے سر دھونے کا حکم دیا اور اس کا نام بدبختوں کی فہرست سے
دھل گیا۔
اس کرامت کی توجیہہ یہ ہے:
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کو سیدنا حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام سے وراثتاً علوم اور اختیارات منتقل ہوئے ہیں یہ علوم اور
اختیارات ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں:
”میں اپنے بندے کو دوست رکھتا ہوں اور میں اُس کے کان
آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں، پھر وہ میرے ذریعے سنتا ہے، میرے ذریعے بولتا ہے اور
میرے ذریعے چیزیں پکڑتا ہے۔“ (بخاری شریف)
شیخ عبد القادر جیلانیؒ علمِ لدنی کے حامل بندے ہیں جب
انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو ان کا نام اشقیا کی فہرست سے نکل کر سعید
روحوں میں درج ہو گیا۔
ماہ ربیع الثانی ۵۶۱ ھ کے شروع میں شیخ
عبدالقادر جیلانی ؒ سخت علیل ہو گئے اور ۹ ربیع الثانی کو نوے سال سات ماہ کی عمر
میں خالقِ حقیقی سے جا ملے دورانِ علالت صاحبزادے کو نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ
کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھنا، تقویٰ اور عبادت کو شعار بنانا، توحید کا دامن
ہاتھ سے نہ چھوڑنا اور اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہ کرنا۔
سلسلہ چشتیہ میں کلمہ شہادت پڑھتے وقت ”الا اللہ“ پر
زور دیا جاتا ہے بلکہ سلسلہ کے اراکین الا اللہ کے الفاظ کو ادا کرتے وقت سر اور
جسم کے بالائی حصے کو ہلاتے ہیں ان حضرات پر سماع کے وقت ایک وجدانی کیفیت طاری ہو
جاتی ہے سلسلہ چشتیہ کے امام حضرت ممشاد دینوریؒ ہیں۔ اور ہندوستان میں یہ سلسلہ
حضرت معین الدین چشتی اجمیری ؒ (خواجہ غریب نواز) کے ذریعے خوب پھیلا اور مقبول
ہوا۔
حضرت معین الدین چشتی اجمیری ؒ، غریب نواز کی ولادت
سنجر صوبہ سیستان ایران میں ہوئی تاریخِ ولادت ۱۱۴۱ء ہے سلجوقیہ خاندان کے
حکمران سلطان سنجر نے گیارویں صدی عیسوی میں اس شہر کو آباد کیا تھا۔ خواجہ غریب
نواز ؒ کے والدِ بزرگوار کا اسمِ گرامی سید غیاث الدین اور والدہ کا نام ماہ نور
تھا۔
حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کی عمر تیرہ برس کی تھی تو حسن
بن صباح کے فدائیوں نے سنجر پر حملہ کر کے اسے تاراج کر دیا۔ نامور علما اور مشائخ
کو چن چن کر قتل کر دیا گیا خواجہ غریب نواز ؒ کے والد خاندان کے افراد کے ساتھ
خراسان میں نیشا پور منتقل ہو گئے۔ سفر کی سختی اور مصائب و آلام نے سید غیاث
الدین ؒ کی صحت پر برا اثر ڈالا۔
حالات اور صحت کی خرابی کی وجہ سے دو سال میں ان کا
انتقال ہو گیا اور ایک سال کے بعد والدہ ماجدہ ماہ نور بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
خواجہ غریب نواز ؒ ان لگاتار حوادث اور صدموں کی وجہ سے زیادہ وقت خاموش رہنے لگے۔
ایک روز ایک درویش ابراہیم قندوزی ؒ تشریف لائے خواجہ
معین الدین چشتی ؒ نے انہیں سائے میں بٹھایا درویش بہت خوش ہوئے انہوں نے اپنے
تھیلے میں سے کھل کا ایک ٹکڑا نکالا دانتوں سے چبایا اور خواجہ صاحبؒ کو دے دیا۔
آپ ؒ نے بلا تکلف کھل کا ٹکڑا کھا لیا۔
سترہ سال کی عمر میں آپ نے سمرقند کے عالمِ دین مولانا
حسام الدین بخاری کی شاگردی اختیار کی اور دو سال تک ان سے تفسیر، حدیث، فقہ کے
علوم پڑھے۔ ۲۰
سال کی عمر میں ریاضی، فلکیات اور علمِ طب میں مہارت حاصل کی۔
حضرت خواجہ ممشاد دینوریؒ نے اپنے شاگرد حضرت ابواسحاق
ؒ کو وسط ایشیائی ریاستوں میں تبلیغ کے لیے بھیجا ان ریاستوں میں آتش پرست بہت بڑی
تعداد میں رہتے تھے۔
امامِ سلسلہ حضرت ممشاد دینوری ؒ نے رخصت کے وقت سلسلہ
کی اجازت و خلافت عطا کی اور اس نئے سلسلے کا نام چشتیہ رکھا۔ لفظ چشتی نے آتش
پرستوں کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کر لیا اور تبلیغِ اسلام کے لیے حضرت ممشاد
دینوری ؒ کی حکمت سے بہت فائدہ ہوا چشتیہ بزرگوں کی جدوجہد سے بے شمار آتش پرست
مسلمان ہو گئے چوں کہ چشتی کے لفظ سے آتش پرست بخوبی واقف تھے اس لیے انہوں نے ان
بزرگوں کو اپنے لیے اجنبی محسوس نہیں کیا۔
چشتیہ سلسلہ کے بزرگوں نے خدمت، اخلاق اور سخاوت کے
ذریعے لوگوں کو اپنے قریب کر لیا اور ان تک اسلام کی روشنی پھیلائی۔ حضرت خواجہ
معین الدین چشتی ؒ جب سلسلہ چشتیہ کے بزرگ خواجہ عثمان ہارونی ؒ کی خدمت میں حاضر
ہوئے تو اس وقت آپ کی عمر ۱۸
برس تھی، خواجہ عثمان ہارونی ؒ نے بیعت کرنے کے بعد آپ کو خانقاہ میں پانی بھرنے
کی ذمہ داری سونپ دی۔
دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے کم و بیش ۲۲ سال خواجہ صاحب یہ خدمت
انجام دیتے رہے۔ جب خواجہ معین الدین ؒ کی عمر ۴۰ سال ہوئی تو ایک روز
حضرت خواجہ عثمان ہارونی ؒ نے آپ کو بلایا اور پوچھا:
”تمہارا کیا نام ہے؟“
خواجہ صاحب نے عرض کی:
”حضور اس خادم کا نام معین الدین ہے۔“
معین الدین چشتی اپنی تصنیف ”انیس الارواح“ میں تحریر
کرتے ہیں:
”مرشدِ کریم نے ارشاد فرمایا: دو رکعت نماز ادا کرو میں
نے ادا کی۔ پھر فرمایا قبلہ رو بیٹھو۔ میں بیٹھ گیا۔ حکم دیا! سورۃ بقرہ پڑھ۔ میں
نے پڑھی۔ فرمان ہوا کہ اکیس مرتبہ درود شریف پڑھ۔ میں نے پڑھا۔ پھر مرشدِ کریم
کھڑے ہو گئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی جانب منہ کر کے فرمایا۔ آ تجھے خدا سے
ملا دوں۔ پھر فرمایا: آسمان کی طرف دیکھ۔ میں نے دیکھا۔ پوچھا کہاں تک دیکھتا ہے،
عرض کیا۔ عرشِ اعظم تک۔ فرمایا زمین کی طرف دیکھ۔ میں نے دیکھا۔ دریافت فرمایا
کہاں تک دیکھتا ہے۔ عرض کیا تحت الثریٰ تک۔ پھر فرمایا سورہ اخلاص پڑھ۔ میں نے
پڑھی۔ فرمایا آسمان کی طرف دیکھ۔ میں نے دیکھا۔ پوچھا اب کہاں تک دیکھتا ہے۔
عرض کیا: حجابِ عظمت تک۔ فرمایا آنکھیں بند کر۔ میں نے
بند کر لیں۔ فرمایا: کھول۔ میں نے کھول دیں پھر مجھے اپنی دو انگلیاں دکھا کر
پوچھا کیا دیکھتا ہے؟ میں نے عرض کیا: مجھے اٹھارہ ہزار عالم نظر آرہے ہیں۔ پھر
سامنے پڑی ہوئی اینٹ اٹھانے کا حکم دیا۔ میں نے اینٹ اٹھائی تو مٹھی بھر دینار
برآمد ہوئے۔ فرمایا یہ فقرا میں تقسیم کر دے۔۔ میں نے دینار تقسیم کر دیے۔“
خواجہ غریب نواز ؒ فرماتے ہیں:
رخصت کرتے وقت مرشدِ کریم نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا
سر اور آنکھوں کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”تجھے خدا کے سپرد کیا۔۔“ اور عالمِ تحیر
میں مشغول ہو گئے۔
حضرت خواجہ غریب نواز ؒ نے اپنے مرشدِ کریم سے رخصت
ہونے کے بعد مختلف شہروں اور ملکوں سے ہوتے ہوئے حرم شریف کا سفر اختیار کیا۔
راستہ میں اصفہان شہر میں خواجہ بختیار کاکی ؒ سے ملاقات ہوئی انہوں نے بیعت کی
درخواست کی۔ جو خواجہ غریب نواز نے قبول فرمائی۔ دونوں حضرات مکہ معظمہ پہنچے اور
حج کیا پھر مدینہ منورہ تشریف لے گئے مسجدِ نبوی میں آپ مسلسل مراقبہ اور مشاہدہ
میں مشغول رہے ایک روز آپ کو حضورِ نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”اے معین الدینؒ تو میرے دین کا معین ہے میں نے ولایتِ
ہندوستان تجھے عطا کی وہاں کفر و ظلمت پھیلی ہوئی ہے تو اجمیر چلا جا تیرے وجود سے
ظلمتِ کفر دور ہوگی اور اسلام رونق افروز ہوگا۔“
دربارِ رسالت کی اس بشارت سے خواجہ غریب نواز ؒ پر
وجدان کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اجمیر کے بارے میں آپؒ کچھ نہیں جانتے تھے کہ اجمیر
کس ملک میں ہے؟ میں وہاں کیسے پہنچوں؟ سفر کے لیے کون سا راستہ اختیار کروں۔ اسی
سوچ میں آنکھ لگ گئی۔ حضرت محمد ﷺ نے اجمیر کے بارے میں باخبر کیا۔
اجمیر کے اردگرد قلعہ کوہستان بھی دکھائے اسی خواب میں
رسول اللہ ﷺ نے خواجہ معین الدینؒ کو جنت کا ایک انار عطا فرمایا اور آپ کو سفر کے
لیے رخصت کر دیا۔
فوراً آپ ؒ نے سفر کی تیاری شروع کر دی۔ ۱۱۸۹ء میں آپ مدینہ منورہ سے
بغداد پہنچے کچھ عرصہ قیام کر کے افغانستان کے راستے لاہور پہنچے اور لاہور میں
حضرت سید علی ہجویری ؒ کے مزار پر چالیس روز مراقبہ میں مشغول رہے۔