Topics

زمان و مکان۔جولائی۔۲۰۱۶

 

علم کا مطلب ہے جاننا۔ یا کسی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنا، زمین و آسمان میں آباد مخلوق میں سے کوئی ایک مخلوق بھی ایسی نہیں ہے جو علم کے دائرے سے باہر ہو۔۔۔ہر مخلوق وائرس ہو، چیونٹی ہو، شہد کی مکھی ہو، ہرن ہو، نقش و نگار سے مزین خوبصورت پروں والا پرندہ ہو، زیبرا ہو، شیر ہو، ہاتھی ہو یا ہزاروں سال پہلے حجم میں ہاتھی سے بھی بڑی مخلوق ڈائیناسار ہو۔۔۔سب کے اوپر علم محیط ہے یعنی سب کو اپنی زندگی گزارنے اپنی خورد و نوش کا سامان حاصل کرنے اور اس سامان سے استفادہ کرنے کا علم حاصل ہے۔

ہم جب شہد کی مکھی کے رہائشی کمرے اور حفاظتی انتظامات دیکھتے ہیں تو ہمیں مکمل ضابطۂ حیات اور بھرپور ایڈمنسٹریشن نظر آتا ہے۔ یہی صورتحال چیونٹی کی بھی ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

’’چیونٹیوں کی ملکہ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے عظیم الشان لشکر کو دیکھ کر اپنی رعایا چیونٹیوں سے کہا کہ تم فوراً اپنے بلوں میں گھس جاؤ ورنہ سلیمان ؑ بادشاہ کے گھوڑوں اور پاپیادہ لوگوں کے قدموں کے نیچے آ کر ہلاک ہو جاؤ گی۔‘‘

مزدور چیونٹیاں غلہ جمع کرتی ہیں اور زمین کی تہہ میں بنے ہوئے الگ الگ خانوں میں ذخیرہ کرتی ہیں، مزدور چیونٹی کے اندر اپنے جسم سے دس گنا زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت ہوتی ہے، انجینئر چیونٹیاں اپنی ملکہ کے لئے شاہی محل تیار کرتی ہیں۔ یہ شاہی محل گیلریوں کے ذریعے ہر طرف سے ملا ہوا ہوتا ہے، انجینئر چیونٹیوں کا بنایا ہوا محل قلعہ کی طرح مضبوط ہوتا ہے تا کہ اس کے اوپر پانی کا کوئی اثر نہ ہو۔ اور شدید گرمی بھی اثر انداز نہیں ہوتی یعنی قلعے کے اندر محل، محل کے اندر گیلریاں، سینٹرلی ائیرکنڈیشنڈ ہوتی ہیں، چیونٹیوں میں ایک قسم ایسی ہے جو لہروں میں منتقل ہونے کا علم جانتی ہے، جس طرح کسی ٹی وی سٹیشن پر تصویر لہروں میں منتقل ہو کر ٹی وی اسکرین پر نظر آتی ہے۔ اسی طرح چیونٹیاں لہروں میں منتقل ہو کر دور دراز مقامات پر پہنچ جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سائنٹسٹ چیونٹیاں لاکھوں سال پہلے سے روشنیوں میں تحلیل ہونے کا عمل جانتی ہیں۔

قرآن حکیم میں ملکہ سباؔ کا واقع بڑا دلچسپ ہے اور اس واقعہ میں ایک پرندے کے عقل و شعور کا تذکرہ ہے۔ اس طرح زمین کے اوپر موجود ہر مخلوق علم کی دولت سے مالا مال ہے، کسی میں عقل و شعور زیادہ ہے، کسی میں کم ہے لیکن زمین پر موجود تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار مخلوق اور ان مخلوقات میں کھربوں لاکھوں افراد میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو علم نہ جانتا ہو۔

کہا جاتا ہے کہ انسان معاشرتی جانور ہے، معاشرتی جانور سے مراد اگر یہ ہے کہ انسان گروہی سسٹم کا پابند ہے یعنی انسان، انسان کے ساتھ رہتا ہے، بات کرتا ہے، نفرت کرتا ہے، محبت کرتا ہے، ایک انسان جو کچھ کھاتا ہے دوسرا بھی وہی نوش جان کرتا ہے تو یہ طرز تکلم دراصل انسان کی انا پرستی ہے، جب کہ ہر انسان یہ دیکھتا اور جانتا ہے کہ بھیڑ بھی معاشرتی جانور ہے، بھیڑ ہمیشہ بھیڑ کے گلہ میں بیٹھتی ہے۔ بکری ہمیشہ اپنے ریوڑ کے ساتھ رہتی ہے، ہاتھی ہاتھی کے ساتھ رہتے ہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہاتھی بھینس کے ساتھ بیٹھا ہو، بھینس اونٹ کے ساتھ بیٹھی ہوئی نظر آئی ہو۔ یہ سب جانور یا حیوانات ایک دوسرے کی خبر گیری رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آتے ہیں، ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ انسان چونکہ احساس برتری کا مریض ہے اس لئے اس نے اپنے گروہ کو معاشرتی جانور کے نام سے متعارف کرایا ہے۔

ایک گائے یا ہرن کا بچہ جب مر جاتا ہے گائے اور ہرن آنسوؤں سے روتے ہیں۔ حیوانات کے گروہ میں جب پیدائش ہوتی ہے تو اس گروہ کے افراد خوش ہوتے ہیں اور ان کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑتی ہوئی باآسانی نظر آتی ہے، انسان کہتا ہے  انسان کو فضیلت حاصل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں عقل و شعور زیادہ ہے، اگر حیوانات کی زندگی پر تفکر کیا جائے تو انسان کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

حیوانات میں چھوٹے چھوٹے حشرات الارض کئی معاملات میں انسان سے کہیں زیادہ ذہین، ہوشیار اور عقل مند ہیں۔

ہمیں یہ سوچنا ہے کہ علم کے حصول میں جب تمام حیوانات بشمول انسان (حیوان ناطق) (جب کہ ہر حیوان بھی حیوان ناطق ہے) کس طرح دوسری مخلوق پر افضل و اشرف ہے۔

علم یقین کا پیٹرن ہے۔ ایسا پیٹرن جس پر زندگی رواں دواں ہے، حیات و ممات قائم ہے، اور جس پر ترقی و ارتقاء موجود ہے۔

یقین وہ مرکزیت ہے جس میں شک اور ابہام نہیں ہوتا۔ دنیا کے کھربوں افراد میں یقین کا پیٹرن موجود ہے کہ پانی پینے سے پیاس بجھتی ہے، پیاس کا تقاضہ نہ ہو تو پانی معدوم ہو جائے گا، پانی سے پیاس اس لئے بجھتی ہے کہ پانی موجود ہے، یقین ایک ایسا عمل ہے جس کے اوپر ظاہر اور باطن متحرک ہیں۔ یقین علم کے بغیر نہیں ہوتا اور علم یقین کی آبیاری میں مکمل کردار ادا کرتا ہے۔

قرآن کریم میں یقین اور علم کی پوری طرح وضاحت کی گئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نور فراست سے نوازا تھا۔ ان کے علم نے یقین کا درجہ حاصل کر لیا تھا کہ بت سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ان کے علم نے انہیں بتا دیا تھا کہ بے جان مورتیوں کو میرا باپ اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے پھر یہی مورتیاں عبادت گاہوں میں سجا دی جاتی ہیں۔ جہاں بادشاہ، بادشاہ کے مصاحب، بڑے بڑے عہدے دار اور عوام پتھر سے تراشی ہوئی ان بے جان مورتیوں کو سجدہ کرتے ہیں اور حاجت روائی کے لئے ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔

ایک روز انہوں نے اپنے والد آذر سے پوچھا:

’’اے میرے باپ! کیوں پوجتا ہے جو چیز نہ سنے، نہ دیکھے اور نہ کام آوے تیرے کچھ۔‘‘( مریم۔ ۴۲)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نے جو کچھ جواب میں کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے علم نے اس کی نفی کردی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اندر علم کے بعد تفکر اور تفکر کے بعد یقین کا پیٹرن متحرک ہوا تو انہوں نے سوچا کہ:

ہر شئے مقرر ہ قاعدے اور ضابطے کے تحت خود بخود کیسے متحرک ہے؟

کون ہے جو روزانہ سورج کو طلوع کرتا ہے؟

کون ہے جو دن کے اجالے کو تاریکی میں بدل دیتا ہے؟

کون ہے جو درختوں کی شاخوں میں سے پھل نمودار کرتا ہے؟

بارش کون برساتا ہے؟

لہلہاتی کھیتیاں کون اگاتا ہے؟

کون ہے وہ ہستی جس کی عمل داری میں کائنات کا ہر فرد اپنے کام میں لگا ہوا ہے، آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا اور کبھی کوئی اختلاف واقع نہیں ہوتا۔

نتیجہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے لکڑی سے بنائے ہوئے بتوں، پتھر سے بنائی ہوئی مورتیوں اور مٹی چونے سے بنائی ہوئی دوسری چیزوں کو خدا ماننے سے انکار کر دیا۔

’’میں اپنا رخ اس طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘( انعام۔ ۷۹)

تفکر کی راہوں پر چلتے ہوئے تاروں بھری ایک رات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک روشن ستارہ دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے، جب وہ روشن ستارہ نظروں سے اوجھل ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں چھپ جانے والے کو معبود نہیں مانتا۔ پھر ٹھنڈی میٹھی رو پہلی چاندنی سے بھرپور چاند کو دیکھا جیسے جیسے طلوع آفتاب کا وقت قریب آیا چاند بھی نگاہوں سے اوجھل ہونے لگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چاند کے رب ہونے کی بھی نفی کر دی۔ طلوع آفتاب کے بعد سورج بھی زوال پذیر ہونے لگا اور اس پر اتنا زوال غالب آیا کہ وہ نظروں سے مخفی ہو گیا۔

تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم اور علم کے نتیجے میں یقین سے کہا:

’’میرا رب وہ ہے جو نہ کبھی چھپتا ہے اور نہ اسے کبھی زوال ہے۔‘‘

بات بادشاہ نمرود تک پہنچی۔ نمرود خود کو ’’رعایا کا رب‘‘ اور مالک سمجھتا تھا، رعایا یا نمرود کو خدا مانتی تھی اور اس کی پرستش کرتی تھی، شاہی دربار میں سجدہ کرنے کا رواج عام تھا، باطل عقائد کی پیروکار اور باطل عقائد کا پرچار کرنے والے مذہبی پیشواؤں، ارباب اقتدار اور عوام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:

’’تم کائنات کے مالک اور مختار کل اللہ کو چھوڑ کر باطل معبودوں کو پوجتے ہو تم شعور کیوں نہیں استعمال کرتے۔‘‘

کوئی بندہ علم تصوف اور روحانیت سے بھٹک جاتا ہے تو اس کے شعور میں ایسی محدودیت پیدا ہو جاتی ہے کہ شعور بوجھل ہو جاتا ہے۔ شعور کے آئینہ پر شک کی دبیز تہہ جم جاتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے لیکن کچھ نہیں دیکھتا۔ وہ سنتا ہے لیکن کچھ نہیں سنتا۔ بے مقصد زندگی اس کا نصب العین بن جاتا ہے۔

 


 

Topics