Topics

الحان داؤدی


                مراقبہ میں بیٹھی پہلے تو ایسا لگا جیسے ایک سیاہ چادر نظر کے سامنے تنی ہوئی ہے۔ نہ نظر اس سیاہی کے سوا کچھ دیکھ سکتی ہے، نہ ہی تفکر اس لاعلمی کی دیوار سے آگے بڑھتا ہے۔ خیال آیا، یہ سیاہی یہ اندھیرا لاعلمی کا ہے۔ میرے ارادے کی دیوار ہے، جب تک یہ دیوار نہیں ہٹے گی نظر اس کے پیچھے کام نہیں کرے گی۔ کیونکہ نظر میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ مگر نظر کی روشنی کے سامنے ارادے کی محدودیت نے ایک حد کھینچ دی ہے اور یہی حد سیاہ دیوار شکل میں سامنے ہے۔ نظر کے سامنے جب صرف ایک ہی رنگ ہو گا تو تفکر بھی اسی ایک نقطے کے اوپر جم کر رہ جاتا ہے۔ جب تک نظر نقطے کی بیرونی سطح پر دیکھتی ہے۔ اس کو سوائے سیاہی کے کچھ نہیں ملتا اور تفکر یکسانیت کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا۔ جب نظر کسی ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ تو ذہن کے بارہ کھرب خلیوں پر تفکر کی روشنی بیک وقت پڑتی ہے۔ سارے ذہن پر اس فکر کا دبائو پڑتا ہے۔ ذہن کا ہر خلیہ روشنیوں سے یکساں طور پر فیڈ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ خلیوں میں مزید روشنیوں کے جذب کی طاقت نہیں رہتی۔ تب ذہن کا خلاء روشنیوں سے پر ہو جاتا ہے اور تفکر ان روشنیوں میں معنی پہناتا ہے اور نظر تفکر کے ہیولے کو خدوخال اور شکل و صورت کے ساتھ دیکھنے لگتی ہے۔ لا علمی کا اندھیرا دور ہو جاتا ہے اور تفکر آزاد ہو جاتا ہے۔

                اسی لمحے اس گھپ اندھیرے میں روشنی کا ایک جھماکہ ہوا۔ میری آنکھیں جیسے چندھیا سی گئیں۔ پلک جھپکنے کے بعد دوبارہ آنکھیں کھلیں تو بالکل سامنے روشنیوں کا ایک حسین مرقع دکھائی دیا۔ حسن و جمال کا رنگین نمونہ۔ بے شمار رنگوں کے امتزاج سے ڈھلا ہوا یہ حسین مجسم جیسے کسی مصور کا بہترین شاہکار۔ جس کے اندر بنانے والے نے اپنے قلم کا ہر رنگ بھر دیا ہے۔ ضاع قدرت کے ہر رنگ میں ڈھلی ہوئی یہ صورت حسن فطرت کا ایسا معصوم شاہکار ہے کہ خود فطرت جھک جھک کر اس کی معصومیت کی بلائیں لیتی ہے۔ سبحان اللہ۔ یقیناً میرا رب احسن الخالقین ہے۔ اس کی پیدا کی ہوئی ہر شئے اسی کے جمال کا ایک عکس ہے نظر جیسے اس سراپائے نور پر جم کر رہ گئی۔ نظر کی تپش نے اس مہوش و مہ جبین کے رگ و ریشے میں زندگی کی حرارت دوڑا دی۔ فطرت کی معصوم ادائیں اس کی انگڑائی بن گئی، حسن کی تمام رعنائیاں اس کی ایک حرکت میں سمٹ آئیں، خوابیدہ حسن جاگ اٹھا۔ عشق اپنی تمام فتنہ پردازیوں کے ساتھ عمل میں آ گیا۔ دل سے خوشی کی ایک لہر سی اٹھی۔ جس کے ہر زیر و بم میں محبوب کا نام تھا۔ ہر دھڑکن میں محبوب صدا بن کر سمایا ہوا تھا اور یہی صدا لبوں پر نغمہ عشق بن کر فضا میں گونجنے لگی۔ میری نظر نے دیکھا کہ میری روح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کر رہی ہے۔ اس کی جادو بھری آواز نے ساری کائنات کو اپنے سحر میں لپیٹ لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑ وجد میں آ گئے۔ درختوں کے پتے جھوم جھوم کر اس کی مدبھری آواز میں اپنی آواز ملانے لگے۔ روح نے مسکراتے ہوئے جھک کر ایک چھوٹا سا پتھر اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ہتھیلی پر یہ پتھر اس کے ساتھ حمد و ثناء کرنے لگا۔ مجھے یاد آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں فرمایا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خوش الحانی کی دولت سے نوازا تھا۔ جب آپ اللہ کی حمد و ثناء کرتے تھے۔ تو آپ کے ساتھ پہاڑ اور پتھر بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے میں شامل ہو جاتے تھے۔ الحمدللہ! یقیناً حضرت دائود علیہ السلام کی خوش الحانی کائنات کی تمام مخلوق میں تقسیم ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا۔ روح کے چاروں طرف ننھے منے جانور چرند، پرند فطرت کی ہر معصومیت سمٹ آئی ہے۔ اس کی نظر میں سب کے لئے بے پناہ پیار امنڈ آیا ہے۔ اس کے روئیں روئیں سے عشق کے ساغر چھلک رہے ہیں اور ساری کائنات اس کے نشے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔ مجھے اپنے قریب دیکھ کر پہلے اس نے ایک اچٹتی نظر مجھ پر ڈالی اور پھر فوراً اس کے لہراتے لب خاموش ہو گئے۔ اس کی نغمہ سرائی رک گئی۔ ایسا لگا جیسے بہتے جھرنے تھم گئے ہیں۔ نسیم سحر چلتے چلتے رک گئی ہے۔ کائنات کی ہر شئے مجھے خشمگیں نگاہوں سے گھورنے لگی۔ جیسے میری دخل در معقولات ان کے اوپر گراں ہے۔ میں نے جلدی سے اس سکوت کو توڑا۔ اپنے لہجے میں اپنے اندر کی تمام تر مٹھاس کو شامل کرتے ہوئے خوشامدانہ انداز میں بولی۔ پیاری روح! مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے وقت میں مخل ہوئی۔ مگر یقین کرو، یہ سب تمہاری ساحرانہ آواز کا جادو ہے۔ جو مجھے ایک تنکے کی مانند تمہاری جانب کھینچ لایا ہے۔ ورنہ میری یہ جرأت نہ تھی کہ تمہارے کام میں دخل اندازی کروں۔ میری یہ عاجزی و انکساری کام کر گئی۔ اس کے بند لب آہستہ آہستہ کھلنے لگے۔ سچے موتیوں جیسے دانت چمک اٹھے اور خوشیوں سے بھرپور کھنکتی آواز سے ایک بار فضا پھر جھنجنا اٹھی۔ نہیں تم تو ہماری مہمان ہو۔ مہمان کی آمد رحمت ہے۔ وہ کائنات کی تمام اشیاء کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔ ہم سب تمہاری میزبانی کے لئے دل و جان سے تیار ہیں۔ یہ سن کر کائنات کی ہر شئے ایک آواز میں بول اٹھی۔ ہاں ہاں کیوں نہیں۔ یہی تو ہمارے واسطے ہمارے رب کا حکم ہے اور اس حکم کو ہم تک پہنچانے والی یہ روح ہے۔ جو اللہ کا امر ہے۔ ہم سب اپنے رب کے اور اپنے رب کے احکامات ہم تک پہنچانے والی ہستی کے تابعدار ہیں اور شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں اپنی خدمت میں قبول فرمایا ہے۔

                فطرت کے ننھے منے جانبازوں کی یہ جانثاری، یہ وفاداری، یہ تابعداری دیکھ کر میری نظر کے سامنے بے شمار پروانے آ گئے۔ ایک لمحے کو ایسا لگا۔ جیسے روح ایک جلتی ہوئی شمع ہے اور کائنات کی تمام مخلوق پروانہ ہے۔ شمع کی روشنی پر پروانے دیوانہ وار نثار ہوتے ہیں۔ ان کے ذہن میں اس بات کا تصور ہی نہیں ہوتا کہ شمع کی تپش انہیں جلا کر خاکستر بھی کر سکتی ہے۔ وہ تو بس شمع کے دیوانے ہیں۔ اس کی روشنی کو دیکھ کر شمع کی قربت کی آرزو پروانوں کے اندر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہو جاتی ہے اور یہی آرزو انہیں شمع کی تپش سے بے نیاز کر کے شمع کے قریب تر کر دیتی ہے۔ میری نظر میں شمع کے اندر جلنے والی ڈوری آ گئی۔ عشق کی اس ڈور میں تمام پروانوں کے دل بندھے ہوئے تھے۔ اسی لمحے عشق حقیقی کی ڈور ہلی۔ میری نظر شمع کے شعلے پر مرکوز ہو گئی۔ شمع کا تفکر میرے اندر منتقل ہونے لگا اور خیال کے پردے پر یہ شعر ابھر آیا۔

شمع نے آگ رکھی سر پہ قسم کھانے کو

بخدا میں نے جلایا نہیں پروانے کو

                میں نے بڑے درد کے ساتھ سوچا۔ آہ! شمع کا دل تو خود پروانوں کے عشق کی آگ میں جل رہا ہے۔ اتنے میں روح کی نشیلی آواز کانوں میں آئی۔ ہمارے عشق کا ایسا بے کنار سمندر ہے۔ جس کے اندر کائنات کی ہر شئے ڈوبی ہوئی ہے۔ اسی کے بحر عشق نے ہم سب کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔ سمندر کا پانی سمندر میں بسنے والی ہر مخلوق کے لئے ہے۔ آئو! اور تم بھی اس پانی سے اپنی پیاس بجھائو اس کے دریائے عشق میں ڈوب جائو۔ تم جان لو گی کہ سطح سے لے کر گہرائی تک ہر قدم پر اس کے عشق کا ایک نیا مزا اور نیا لطف ہے۔ اس کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبنے سے مت گھبرائو۔ تم ہماری مہمان ہو اور میزبان پر یہ فرض ہے کہ مہمان کے آرام اور پسند کا ہر طرح سے خیال رکھے۔ ہم تمہیں ان گہرائیوں میں ڈوبنے اور کھونے سے محفوظ رکھیں گی۔ اللہ تعالیٰ کی مدد ہر لمحے ہمارے ساتھ ہے۔ روح کا ہر لفظ میرے دل کی گہرائیوں میں داخل ہوتا محسوس ہوا۔ یہاں تک کہ اس کے الفاظ کے موتی میرے دل کی زمین پر پڑے اور جستجو و شوق کا دروازہ کھل گیا۔ میں نے مسکراتے ہوئے روح کا میری جانب بڑھتا ہوا ہاتھ تھام لیا اور اس کے ساتھ سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ اندر داخل ہوتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے میں کائناتی شعور سے نکل کر ملکوتی شعور میں داخل ہو گئی ہوں۔ عشق کا سرور میرے وجود میں چھانے لگا۔ خوشی کی روشنی دل کے نقطے سے پھوٹنے لگی۔ سارا بدن سمندر کی لہروں کے ساتھ لہرانے لگا اور میرے جسم کا ہر ذرہ زبان بن کر شراب عشق کا مزا چکھنے لگا۔ اسی وارفتگی شوق میں روح کا تھاما ہوا ہاتھ چھوٹ گیا اور میں خود ہی نہایت برق رفتاری کے ساتھ سمندر کے اندر یہاں سے وہاں تک تیرنے لگی۔ گہرائیوں میں ڈوبنے کا خوف یکسر ذہن سے منفقود ہو گیا۔ میری رفتار روح کی رفتار کے برابر ہو گئی۔ روح نے میری طرف دیکھا اور اچھنبے کے ساتھ کہنے لگی۔ ارے تم تو بالکل میری شکل ہو گئی ہو۔ وہی رنگ روپ وہی خدوخال سچ مچ ذرا آئینے میں اپنی شکل تو دیکھو۔ روح کے اس انکشاف پر شوق جستجو سے میرا دل مچل اٹھا۔ میں نے کہا۔ یہاں تو پانی ہی پانی ہے۔ میں آئینہ کہاں سے لائوں۔ اس نے پھر ایک بار میرا ہاتھ تھام لیا اور ہنستے ہوئے بولی۔ چلو میرے ساتھ اس سمندر کی تہہ میں تمہیں آئینہ مل جائے گا۔ جس میں تم اپنی شکل دیکھ سکو گی۔ اب کے میں نے روح سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑایا۔ مبادا بچھڑ جائوں تو آئینہ کہاں ڈھونڈتی پھروں گی۔ کیونکہ روح تو یہاں کے چپے چپے سے واقف ہے مگر میں تو یہاں اجنبی ہوں۔ ہم دونوں نہایت تیزی سے تیرتے ہوئے سمندر کی تہہ میں پہنچ گئے۔ سمندر کی تہہ میں ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے روح بولی۔ تمہارا آئینہ وہ ہے۔ تم اس میں اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہو۔ میں بیتابانہ آئینے کی جانب بڑھی۔ قریب پہنچی تو دیکھا کہ آئینے کے اندر میرے مرشد کریم میرے بابا جی کی تصویر ہے۔ میں ایک لمحے کو ٹھٹک سی گئی۔ سوچا شاید یہ میرے ذہن کا عکس ہے۔ یہ سوچ کر آئینہ اٹھا لیا۔ اب اس کی سطح پر مجھے اپنی شبیہہ نظر آئی۔ میں خوشی سے دیوانہ وار چلا اٹھی۔ پیاری روح سچ مچ میں تو بالکل ہی تم جیسی ہو گئی ہوں وہ بھی میرے قریب آ گئی اور ہنستے ہوئے میرے گال سے گال ملا دیا۔ ہم دونوں نے بیک نظر آئینے میں اپنے چہرے دیکھے جیسے دو جڑواں بہنیں۔ خوشی سے ہنسنے لگیں۔ روح نے مسرت بھری آواز کے ساتھ کہا۔ دیکھا تم نے یہ سب میرے عشق کی کارفرمائیاں ہیں۔ جس نے تمہیں بھی میری طرح حسین بنا دہا ہے۔ اسی لمحے آئینے کی گہرائی میں بابا جی کی شبیہہ دوبارہ ابھری۔ جسے دیکھ کر میرے ذہن کا ہر شک و شبہ یکسر دور ہو گیا۔ میں بیساختہ چیخ اٹھی۔ نہیں نہیں۔ یہ سب میرے پیارے بابا جی کی نظر کرم ہے۔ جس نے مجھے شیشے سے گوہر آبدار بنا دیا ہے۔ پھر میں نے روح کی طرف دیکھ کر بڑے انکشافانہ انداز میں کہا۔ پیاری روح تم نہیں جانتی کہ مرشد کریم کی نظر عنایت جب سالک کے دل کی سیپی کے اندر شبنم کا قطرہ بن کر داخل ہوتی ہے تو یہی نظر سالک کو ایک انمول موتی بنا دیتی ہے۔ روح نے گہری نظر سے مجھے دیکھا۔ میرے چہرے سے بابا جی کے عشق کی پھوٹتی کرن سے اس کا چہرہ اور بھی روشن ہو گیا۔ وہ میری روشنی کو دیکھتے ہوئے عجیب انداز میں ہنسی اور لہراتی ہوئی سمندر کی گہرائیوں میں گم ہو گئی۔


 


Roohein Bolti Hain

سَیّدہ سَعیدہ خَاتون عَظیمی

                ‘‘زندگی جب زندگی سے گلے ملتی ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔’’

                یوں تو ہر آدمی ‘‘جیتا مرتا ہے’’ مگر میں نے اس جملہ پر غور کیا تو شعور لرزنے لگا۔ غنودگی نے مجھے اپنی آغوش لے لیا۔ تیز کرنٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ کرنٹ پیروں میں سے زمین میں ارتھ ہوا…………دھوئیں کی لاٹ کی طرح کوئی چیز اوپر اٹھی اور یہ دھواں خدوخال میں تبدیل ہو گیا۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ سعیدہ خاتون عظیمی تھی۔                میں نے اپنی روح کو اداس’ بے چین’ ضعیف و ناتواں اور ادھورا دیکھا تو دل ڈوبنے لگا۔ ڈوبتے دل میں ایک نقطہ نظر آیا۔ اس نقطہ میں حد و حساب سے زیادہ گہرائی میں مرشد کریم کی تصویر دیکھی۔ لاکھو ں کروڑوں میل کی مسافت طے کر کے اس تصویر تک رسائی ہوئی۔

                میری روح جو جنم جنم کی پیاسی تھی’ بے قراری کے عالم میں’ نقطہ میں بند اس تصویر سے گلے ملی تو اسے قرار آ گیا۔ سرمستی میں جھوم جھوم گئی۔ جمود ٹوٹا تو الفاظ کا سیل بے کراں بہہ نکلا اور روح کہانی صفحہ قرطاس پر مظہر بن گئی۔                روح کہانی کتاب’ واردات و کیفیات کے ان علوم پر مشتمل ہے جو مجھے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (باباجی) کی روح سے منتقل ہوئے۔ میں یہ علوم اپنی بہنوں کے سپرد کرتی ہوں تا کہ وہ توجہ کے ساتھ ان علوم کو اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔

                                     دعا گو:

                                                سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی

                                                تاریخ: 01-09-94