Topics

امانت


                اچھے بھلے بیٹھے ہوئے ذہن میں جانے کہاں سے خیال ابھرا کہ میں حاملہ ہوں۔ اس حماقت آمیز اطلاع پر نظر خود ہی مسکرا دی۔ عقل نے اپنی دانائی کا ثبوت دیا۔ جب روح تخلیقی قوتوں سے لبریز ہو جاتی ہے۔ تو حواس کے دائرے روح کی روشنیوں سے بوجھل ہو جاتے ہیں۔ یعنی بوجھ اٹھانے والی۔ عقل کی فلسفیانہ توجیہہ پر لب مسکرا دیئے۔ ذہن عقل کی دلیل پر آگے بڑھنے لگا۔ خیال کی روشنی ذہن سے ٹکرا رہی ہے۔ تب ہی ذہن نے اپنے اسکرین پر ڈسپلے ہونے والی تصویر میں معنی پہنچائے ہیں۔ یوں لگا جیسے خیال کی روشنی ذہن کی اسکرین پر ٹھہر گئی ہے۔ فکر خیال کی گہرائی میں ڈوبنے لگی۔ نظر کے سامنے روح آ گئی۔ وہ سفید کپڑوں میں ملبوس قدوسیت کا نمونہ لگ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی جانب دو تین آدمی بڑھتے ہوئے دکھائی دیئے۔ انہوں نے روح سے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ تمہارا تعلق شعبہ تکوین سے ہے۔ ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ حاملہ ہیں۔ روح نے تعجب سے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ میں حاملہ ہوں؟ کون ہے وہ جس نے مجھ پر یہ بوجھ رکھا ان میں سے ایک شخص نے کہا۔ اے روح! وہ آپ کا رب ہے۔ ذات کی روشنیوں سے جب روح کے تمام لطائف رنگین ہو جاتے ہیں اور نقطہ ذات تجلی روشنیوں سے لبریز ہو جاتا ہے تو روح اپنے رب کی امانت کے بوجھ سے بوجھل ہو جاتی ہے۔ یہ امانت اسماء الٰہیہ کے علوم ہیں۔ جن کے بوجھ کو زمین و آسمان نے اٹھانے سے اس وجہ سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اس بوجھ کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ مگر اللہ کی امانت کو اللہ کے بندے نے قبول کر لیا اور وہ نائب مقرر ہوا۔ پس آدم کی اولاد میں سے جو بندہ اللہ کی امانت کا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتا ہے، اس کی روح اس امانت کی امین بن جاتی ہے۔ یہ امانت آدم کی روح کے ذریعے روح در روح منتقل ہو رہی ہے۔ روح امانت کے بوجھ کو محسوس کرتی ہے اور ذہن اسے حاملہ کے لفظ سے معنی پہناتا ہے۔ یہ باتیں سن کر روح تھوڑی سی گھبرا گئی۔ اب میں کیا کروں؟

                ان آدمیوں نے مہربان دوست کی طرح روح کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ آپ ذرا بھی نہ گھبرائیں بس جو کچھ ہم کہتے ہیں اس پر عمل کریں۔ آپ کو قطعی کوئی تکلیف انشاء اللہ نہیں ہو گی۔ روح کا ذہن بالکل خالی تھا اس نے ان کی جانب دیکھا اور بولی۔ اب مجھے کیا کرنا ہو گا۔

                اس میں سے ایک شخص نے کہا۔ کیا آپ اس امانت کو دیکھ سکتی ہیں۔ جو آپ اٹھائے ہوئے ہیں؟ روح نے اپنے اندر نظر کی۔ پانی کی ایک بوند کے اندر رنگوں کے بے شمار دائرے اس کی نظر میں آ گئے۔ وہ شخص بولا آپ کیا دیکھ رہی ہیں؟ روح نے کہا۔ پانی کی بوند کے اندر گیارہ ہزار رنگوں کے دائرے ہیں۔ وہ شخص کہنے لگا۔ آپ اب ہمارے ساتھ چلیں۔ یوں لگا جیسے وہ اشخاص اور روح پانی پر کھڑے ہیں، سب پانی پر چلنے لگے۔ چلتے ہوئے اس شخص نے کہا۔ یہ دریائے وحدانیت ہے۔ اب ہم آپ کو اس دریا کے اس کنارے پر لئے چلتے ہیں، جہاں سے دریا شروع ہو رہا ہے۔ دریائے وحدانیت میں چلتے ہوئے روح وحدت فکر کے پانی میں بھیگ گئی۔ اس پانی سے اس کے اندر پانی کی بوند کے رنگ پھیلنے لگے۔ یوں لگتا تھا کہ رنگوں کے بوجھ سے بوند پھٹ جائے گی۔ اس کے قدم سست ہو گئے۔ وہ آہستہ آہستہ اس بوند کو اپنے اندر سنبھالے ہوئے قدم بڑھانے لگی۔ وہ شخص روح کی ہمت بڑھانے لگے۔ بس صرف چند ہی قدم ہیں۔ ہم آپ کو ایسی جگہ لے جا رہے ہیں۔ جہاں آپ اس بوجھ کو اتار کر آرام کا سانس لے سکتی ہیں۔ اور وہ اسے بتاتے جاتے تھے۔ آپ کو کیا کیا کرنا ہو گا۔ وہ دریا کا چکر کاٹ کر ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں پہاڑ میں ایک غار بنی ہوئی تھی۔ یہ غار اندر سے بالکل اندھیری تھی۔ وہ لوگ اس غار کے پاس جا کر رک گئے۔ پانی پر چلتے ہوئے روح کے ذہن میں یہی خیال رہا۔ جو درحقیقت کلام الٰہی ہے کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے عرش پانی پر تھا۔ اس کا ذہن ہر قدم پر یہی الفاظ دہراتا رہا۔ یہاں تک کہ ذہن نے خود اس کی تشریح کر دی۔ عرش مجموعہ ہے کرسی، لوح محفوظ، بیت المعمور اور سدرۃٰ المنتہیٰ کا۔ پانی سے مراد ارادہ باتصویر ہے۔ پس عرش کا پانی پر ہونے سے مراد کرسی، لوح محفوظ، بیت المعمور اور سدرۃ المنتہیٰ کا تصور یا خاکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے میں ہونا مراد ہے۔ یعنی حکم کن سے پہلے عرش کے علوم اللہ تعالیٰ کے ارادے میں موجود تھے۔ اس کی نظر غیر ارادی طور پر اپنے اندر موجود اس امانت کی جانب اٹھ گئی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس امانت میں اللہ تعالیٰ کے تمام اسرار و علوم موجود ہیں اور وہ اور زیادہ احتیاط سے پانی پر چلنے لگی۔ بالآخر وہ اس غار کے پاس جا کر رک گئے۔ اس نے غار کے اندر جھانکا۔ گھپ اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا، مگر تعجب کی بات یہ لگی کہ غار سے نور کا دریا اپنے پورے زور و شور سے نکل رہا تھا۔

                ان لوگوں میں سے ایک نے کہا۔ اے روح۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے وحدانیت کا دریا نکل رہا ہے۔ آپ کو اس کھوہ کے اندر جانا ہو گا۔ یہ ایک سرنگ ہے، آپ اس میں داخل ہو جائیں۔ آپ کی حفاظت کی جا رہی ہے، آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ روح کے ذہن میں سوائے فرمانبرداری کے اور کوئی ارادہ نہ تھا۔ اسے کچھ پتہ نہ تھا کہ سرنگ میں داخل ہونے کے بعد وہ کہاں جائے گی بس اس کے ذہن میں تو صرف اتنی بات تھی کہ اس کا رب اس سے یہی چاہتا ہے۔ اس نے منہ ہی منہ میں اپنے رب کا نام لیا اور اندھیری رات سے بھی زیادہ اندھیری سرنگ میں تنہا داخل ہو گئی۔ یوں لگا جیسے اس سرنگ میں کوئی تیل نما چکنی شئے ہے، جس پر وہ پھسلتی جا رہی ہے۔ اس کے ذہن نے بار بار قرآن کی یہ آیت دہرانی شروع کر دی اور کہا ہم نے آپ پر سے وہ بوجھ نہیں اتار دیا جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی۔ اس گھپ اندھیرے میں جہاں روح غیر اختیاری طور پر پھسلتی جا رہی تھی۔ کلام الٰہی کے الفاظ نے اسے سہارا دیا۔ اس کا یقین بڑھتا چلا گیا۔ بلاشبہ اللہ میرا دوست ہے، وہ میرا ہمدرد ہے، وہ میری حفاظت کرنے والا ہے۔ چند ہی لمحوں میں سرنگ ختم ہو گئی۔ اس آخری لمحے میں ایک زبردست چکا چوند ہوئی۔ اس چکا چوند نے ایک لمحے میں اس کے تمام حواس سلب کر لئے، اس کا ذہن بھی رک گیا اور جب اسے ہوش آیا تو اس نے محسوس کیا وہ بہت اونچائی سے چھلانگ لگا رہی ہے۔ خوف کے مارے اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ اس کے حواس نے محسوس کیا۔ جیسے اس کے اندر کی بوند پھٹ گئی۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا، اس بوند کے پھٹنے پر اسے اس کی قوت و طاقت کا اندازہ ہوا۔ اس نے دیکھا۔ اس دھماکہ سے اس کے اندر سے نور کا جیسے آتش فشاں پھٹ نکلا ہو۔ بوند کے سارے رنگ باہر اپنی پوری قوت سے جا پڑے۔ اس نے دیکھا گیارہ ہزار سورج ہیں، یہ تمام سورج ایک گول دائرے میں ہیں، یہ سب سورج اس بوند کے اندر سے نکلنے والے رنگ و نور کے ہیں۔ یہ دیکھ کر اسے سکون ملا۔ اس کے ذہن میں آیا۔ یہی میری کائنات ہے، یہی میرے رب کی امانت ہے۔ جس کے بوجھ نے میری کمر توڑ رکھی تھی۔ اس کائنات کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔ میں اللہ کی امانت کی آمین ہوں۔ اب روح کی آنکھ نے دیکھا کہ یہ گیارہ ہزار سورج انتہائی لطیف تاروں کے ساتھ اس کی ذات سے وابستہ ہیں۔ اس نے اپنی ذات کی جانب دیکھا اور پھر اس کھوہ کی جانب دیکھا جہاں سے نکل کر وہ اس روشن فضا میں آ گئی تھی۔ اس نے سوچا میں نقطہ وحدانی ہوں۔ کائنات کا نقطہ، دریائے وحدانیت کی ایک بوند، اس بوند کے اندر کائنات کا علم وحدت فکر کی حیثیت سے موجود ہے۔ جب اس بوند کے اندر وحدت و فکر میں ارادے کی حرکت پیدا ہوئی تو فکر کی روشنی نے ارادے یا اللہ تعالیٰ کے شیئون کی حرکت پر اس بوند کے اندر اپنی حرکت مکمل کر لی۔ لامحدودیت کی ہر حرکت دائرے میں ہے۔ بوند کے اندر تفکر کی ہر حرکت ایک ایک رنگ کا دائرہ ہے۔ ہر دائرہ وحدت فکر کا دائرہ ہے اور ہر دائرے میں کائنات کی ایک ایک نوع کا علم ہے۔ بوند کے اندر وحدت فکر کے یہی علوم اللہ کی امانت ہے، وحدت فکر وحدانیت کا تفکر ہے، جو وحدانیت کے دریا سے بوند کو منتقل ہوتا ہے۔ وحدانیت کا دریا ذات باری تعالیٰ کی تجلی ہے۔ اصل ذات باری تعالیٰ اس دریا سے ماوراء ہے۔ دریائے وحدانیت میں اصل ذات باری تعالیٰ کا تفکر موجود ہے، جو دریائے وحدانیت کو فیڈ کرتا رہتا ہے۔ محدودیت دریائے وحدانیت کی ایک بوند یا تجلی ذات کے عالم کی ایک تجلی ہے۔ جب یہ بوند دریا کے تفکر کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے، وحدت فکر کا رنگ اس تجلی یا بوند پر غالب آجاتا ہے۔ ہر وحدت فکر کائنات کی کسی نہ کسی نوع کا فارمولا ہے۔ تجلی ذات بذات خود باری تعالیٰ کی تجلی ہے۔ تجلی کے رنگ اسمائے الٰہیہ کی صفات یا تجلیاں ہیں اور نوع کا فارمولا اسمائے الٰہیہ کی متعین مقداریں ہیں۔ دریائے وحدانیت یا تجلی ذات کا عالم خلائے نور ہے۔ خلائے نور کو اللہ تعالیٰ کا ارادہ بغیر کسی اسباب و وسائل کے نور میں تبدیل کر دیتا ہے۔ خلائے نور کی نور میں تبدیلی صفت تدلی کہلاتی ہے۔ نور کے اندر کائنات کی فکر کام کر رہی ہے، یعنی لامحدودیت کا تفکر کائنات کے نقطے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ نقطہ نقطۂ وحدانی کہلاتا ہے۔ اس نقطے میں اللہ تعالیٰ کے گیارہ ہزار اسمائے الٰہیہ کی تجلیات موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کن سے گیارہ ہزار تجلیات حرکت میں آ جاتی ہیں اور ان سے کائنات کے نظام شمسی تخلیق ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم گیارہ ہزار اسمائے الٰہیہ کو ایک ایک سورج تسلیم کریں۔ تو گیارہ ہزار سورج کی روشنی ایک مرکز پر جمع ہو جاتی ہے اور ان کی روشنی سے یہ مرکز یا نقطہ روشن ہو جاتا ہے۔ یہی نقطہ کائنات کا نقطہ یا نقطہ وحدانی ہے۔ نقطہ وحدانی کا دماغ اللہ کا ارادہ ہے۔

                اس ارادے کی یہ فکر اسمائے الٰہیہ کا شعور یا تفکر ہے۔ اسی تفکر کو وحدت فکر کہتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس تفکر کا اظہار ہوتا ہے تو فکر اپنا اظہار اسم یا لفظ میں کرتی ہے۔ وحدت فکر کا ہر حرف نقطہ وحدانی کے اندر ہونے والی ایک حرکت ہے۔ یہ حرکت اللہ تعالیٰ کے امر کی حرکت ہے۔ جس کا اظہار امر ربی یعنی روح کے ذریعے ہوتا ہے۔ روح نقطہ وحدانی یعنی تجلی ذات کا عکس ہے۔ یہ عکس نقطہ وحدانی کے اندر موجود گیارہ ہزار اسمائے الٰہیہ کے رنگوں سے رنگین ہے۔ روح کی ہر حرکت نقطۂ وحدانی کے ذہن سے ہوتی ہے۔ نقطہ وحدانی کا دماغ اللہ کا ارادہ ہے۔ جس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔ گویا نقطۂ وحدانی کی ہر حرکت کائنات کی ایک نوع کی تخلیق ہے۔ یہ تخلیق روح یا امر ربی کے ذریعے ہوتی ہے۔ علم کا مظاہرہ تخلیق ہے۔ کائنات کا ہر مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے ارادے پر اس کے کن کہنے سے ہو رہا ہے۔ یعنی لامحدودیت میں اللہ تعالیٰ کا ارادہ اسمائے الٰہیہ کی آیتوں کے ذریعے سے نقطۂ وحدانیت میں منتقل ہوتا ہے۔ تو نقطۂ وحدانی کے اندر ذات باری تعالیٰ کے ارادے کو اسمائے الٰہیہ کی ہستیاں حکم کن میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ حکم کن آواز ہے دوسرے لفظوں میں ذات باری تعالیٰ کی آواز کن اسمائے الٰہیہ کے ذریعے نقطۂ وحدانیت سے روح کے اندر منتقل ہو جاتی ہیں۔ روح اللہ کے امر کی روشنی حروف اور آواز کی صورت میں موصول کرتی ہے۔ امر کن کی ہر روشنی اللہ تعالیٰ کے تفکر کا ایک مکمل علم ہے۔ یہ علم روح کے ذریعے کائنات میں ڈسپلے ہوتا ہے۔ اسی ڈسپلے کو تخلیق یا کائنات کہتے ہیں۔ وحدت فکر اپنے اظہار کے لئے مخصوص الفاظ اختیار کرتی ہے۔ یہ الفاظ فکر کی روشنی کا لباس ہیں۔ اس لباس میں فکر کی روشنی حرکت کرتی ہے۔ نقطۂ وحدانی کے ذریعے روحوں کو کائنات کا تفکر تقسیم ہوتا ہے۔ آدم کی روح کو کائناتی تخلیق کے فارمولوں کے علوم حاصل ہیں۔ یہی وہ امانت ہے جس کے پہاڑ، آسمان اور زمین متحمل نہ ہو سکے۔ نقطۂ وحدانی کے یہ علوم جب آدم کی روح میں منتقل ہوئے تو اس کی ذمہ داریوں کے بوجھ کی فکر کو روح نے لفظ حاملہ کے ذریعے اظہار کیا۔ ان علوم کی منتقلی ذات باری تعالیٰ سے براہ راست اسمائے الٰہیہ سے نقطہ وحدانی سے روح کو منتقل ہو رہی ہے۔ نقطۂ وحدانی کی حقیقت روح اعظم یا روح محمد الرسول صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ روحانی علوم کی منتقلی دراصل رسول پاکﷺ کے انوار کی منتقلی ہے جو اللہ کے قانون کے مطابق سینہ در سینہ چلا آ رہا ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے اندر یہ علوم براہ راست اسمائے الٰہیہ کے ذریعے منتقل ہوئے عالم ناسوت میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے شعور میں اسمائے الٰہیہ کا تفکر یعنی فرشتے کے ذریعے علم منتقل ہوا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے مرشد اسمائے الٰہیہ ہیں۔ مراد اور مرید کا یہی قانون روحانیت کے علوم کی منتقلی میں کام کر رہا ہے۔ روح نے نیچے دیکھا گیارہ ہزار سورج دائرے کی صورت میں اس کے سامنے آ گئے۔ ہر سورج کے ساتھ روح ایک باریک تار کے ساتھ بندھی ہوئی تھی، ہر سورج میں اسمائے الٰہیہ کا عکس تھا۔ اس کے اندر اپنے رب کے لئے محبت اور تشکر اور روشنی پیدا ہوئی اور یہ روشنی ان تاروں سے ہر سورج میں منتقل ہونے لگی۔ روح کا ذہن حقیقت محمدی صلی اللہ علیہ و سلم میں جذب ہو گیا۔

 

 

 

 

 



Roohein Bolti Hain

سَیّدہ سَعیدہ خَاتون عَظیمی

                ‘‘زندگی جب زندگی سے گلے ملتی ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔’’

                یوں تو ہر آدمی ‘‘جیتا مرتا ہے’’ مگر میں نے اس جملہ پر غور کیا تو شعور لرزنے لگا۔ غنودگی نے مجھے اپنی آغوش لے لیا۔ تیز کرنٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ کرنٹ پیروں میں سے زمین میں ارتھ ہوا…………دھوئیں کی لاٹ کی طرح کوئی چیز اوپر اٹھی اور یہ دھواں خدوخال میں تبدیل ہو گیا۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ سعیدہ خاتون عظیمی تھی۔                میں نے اپنی روح کو اداس’ بے چین’ ضعیف و ناتواں اور ادھورا دیکھا تو دل ڈوبنے لگا۔ ڈوبتے دل میں ایک نقطہ نظر آیا۔ اس نقطہ میں حد و حساب سے زیادہ گہرائی میں مرشد کریم کی تصویر دیکھی۔ لاکھو ں کروڑوں میل کی مسافت طے کر کے اس تصویر تک رسائی ہوئی۔

                میری روح جو جنم جنم کی پیاسی تھی’ بے قراری کے عالم میں’ نقطہ میں بند اس تصویر سے گلے ملی تو اسے قرار آ گیا۔ سرمستی میں جھوم جھوم گئی۔ جمود ٹوٹا تو الفاظ کا سیل بے کراں بہہ نکلا اور روح کہانی صفحہ قرطاس پر مظہر بن گئی۔                روح کہانی کتاب’ واردات و کیفیات کے ان علوم پر مشتمل ہے جو مجھے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (باباجی) کی روح سے منتقل ہوئے۔ میں یہ علوم اپنی بہنوں کے سپرد کرتی ہوں تا کہ وہ توجہ کے ساتھ ان علوم کو اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔

                                     دعا گو:

                                                سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی

                                                تاریخ: 01-09-94