Topics

مقام آداب


                آدھی رات کو خواب سے آنکھ کھلتے ہی غیب سامنے آ گیا، کیا دیکھتی ہوں کہ روح ایک مجمع میں تقریر کر رہی ہے۔ وہ انہتائی سنجیدگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کر رہی ہے۔ مگر ابھی وہ چند جملے ہی کہتی ہے کہ لوگ آپس میں باتیں کرنا شروع کر دیتے ہی۔ روح انہیں ادب سے سننے کے لئے کہتی ہے لیکن وہ لوگ کسی قسم کی دلچسپی ظاہر نہیں کرتے اور اپنی ہی باتوں میں لگے رہتے ہیں۔ روح پاس کھڑے ہوئے انتظامیہ کے لوگوں سے کہتی ہے میں نے کہا تھا نا کہ ان لوگوں کو میری باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ کہہ کر سخت غصے کے عالم میں وہاں سے لوٹ جاتی ہے اب پھر انتظامیہ کے لوگ اسے ایک دوسری مجلس میں لے جاتے ہیں، روح پھر ان لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے علوم بیان کرتی ہے اب کے سے لوگ مجلس میں کوئی آ رہا ہے، کوئی اٹھ کر جا رہا ہے۔ کوئی پانی مانگ رہا ہے غرض کہ کسی کو بھی جیسے ان علوم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بلکہ سارے اپنے ہی مشاغل میں لگے ہوئے ہیں۔ روح بار بار انہیں ادب سے بیٹھنے اور غور سے اس کی باتیں سننے کی ہدایت کرتی ہے مگر لوگ کوئی پرواہ ہی نہیں کرتے۔ آخر کار روح خوب غصے میں وہاں سے انتظامیہ کے ساتھ تیسری مجلس میں جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہاں انسانوں کے ساتھ جنات بھی ہیں۔ اب کے سے پھر روح ان لوگوں میں ذات باری تعالیٰ کی تعریف بیان کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر جوں ہی یہ کھڑی ہوتی ہے چند جملے سن کر ہی لوگ بدتمیزی سے کہنے لگتے ہیں کہ یہ باتیں ہمارے کسی کام کی نہیں۔ ہمیں تو تم دنیا کی باتیں بتائو یہ کہہ کر سب آپس میں ہنسنے بولنے لگتے ہیں۔ روح بہت غصے میں وہاں سے بھی واپس آ جاتی ہے اور انتظامیہ سے کہتی ہے میں پہلے ہی کہتی تھی کہ یہ لوگ میری بات نہیں سنیں گے۔ یہ سب اپنے حال میں مگن ہیں انہیں سوائے اپنی ذات کے اور کسی سے دلچسپی نہیں ہے۔ اس کا چہرہ جلال خداوندی کا آئینہ دار بن گیا۔ میں نے روح کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا میں اس کی قوت جلال سے جیسے سہم کر رہ گئی اور اس کے ساتھ ہی مجھے ان لوگوں پر بھی غصہ آنے لگا جنہوں نے روح کا کلام سننے سے انکار کر دیا تھا۔

                میں نے سوچا کیسے بدنصیب ہیں یہ لوگ جب کہ انتظامیہ نے ان کے لئے اتنی سہولتیں مہیا کر دیں، انہیں جمع کیا پھر ان کے مجمع میں روح کو ان کی ہدایت کیلئے بھیجا گیا۔ اس پر بھی لوگ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ آخر لوگ کیا چاہتے ہیں۔ وہ کس طرح خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی محبت میں اپنے آپ کو غرق کر سکتے ہیں۔ مجھے لوگوں پر سخت افسوس ہوا اور غصہ آیا کہ آرام سے اگر ذرا بیٹھ کر بات سنیں تو کچھ تو ان کی سمجھ میں آ جائے گا…………جو سننا ہی نہ چاہیں تو کیا حاصل ہو گا۔ میں نے محسوس کیا کہ روح کے پاس بہت علم ہے اور اس کی باتیں انسان کے لئے بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہونگی۔ یہ سوچ کر میں آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔ روح کا غصے میں تمتمایا ہوا چہرہ اس کے رعب و دبدبے کی نشانی تھا۔ میں روح کے غصے کی زد میں نہیں آنا چاہتی تھی اس لئے محتاط تھی۔ میں نے دبے پائوں اس کے قریب آ کر آداب سے ہاتھ باندھ کر عرض کی۔

                اے روح! کیا میں آپ سے ایک درخواست کر سکتی ہوں؟ میری عاجزانہ آواز پر اس نے چونک کر میری جانب دیکھا اور اسی وقت اس کے چہرے کی تمتماہٹ خوشی کی سرخی میں بدل گئی۔ اس نے مسکرا کر کہا کہئے ننھی بلبل آپ کیا چاہتی ہیں؟ اس کے خوبصورت الفاظ نے میرے دل سے اس کی دہشت مٹا دی اور میں نے اطمینان سے جواب دیا کہ میں نے ان تمام لوگوں کو دیکھ لیا ہے جو آپ کی بات نہیں سننا چاہتے تھے مجھے ان کی نادانی پر سخت افسوس ہے مگر میں ان میں شامل ہونا نہیں چاہتی۔ میں آپ سے مودبانہ عرض کرتی ہوں کہ آپ جو کچھ ان لوگوں کو سکھانا چاہتی ہیں وہ تمام علوم مجھے سکھا دیجئے کیونکہ مجھے ان کے سیکھنے کا بے حد شوق ہے۔ اگر آپ نے میری درخواست قبول نہ کی تو میری زندگی برباد ہو جائے گی۔ میری درخواست کے دوران اس کے چہرے پر خوشی کے رنگ آتے رہے جنہوں نے اسے اور بھی حسین بنا دیا جیسے ہی میں نے کلام بند کیا اس نے اسی وقت میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی آئو میں تمہیں وہ علوم سکھائوں گی جو یہ بدنصیب نہیں سیکھنا چاہتے۔

                وہ مجھے ایک چشمے پر لے گئی۔ بولی آب کوثر سے اچھی طرح وضو کرو۔ میں نے وضو کیا اس وقت میرے ذہن میں یہ آیت گونجی نٓ والقلم و مایسطرون ‘‘قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔’’ (سورہ القلم)

                اب ہم ایک لفٹ میں بیٹھے جو انتہائی تیز رفتار تھی اس نے ہمیں ایک مقام پر اتار دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے میں نور کی فضا میں کھڑی ہوں۔ میرے پائوں تلے زمین کی سختی نہیں تھی۔ یہ فضا بے حد روشن تھی۔ میں نے چاروں طرف نظریں گھمائیں کہ آخر یہ روشنی کہاں سے آ رہی ہے مگر نہ چاند دکھائی دیا نہ سورج، نہ ستارے۔ بس یہ فضا خود ہی چاند سورج سے بھی زیادہ روشن اور لطیف تھی۔ مجھے محسوس ہوا ہمارے جسم بھی انتہائی لطیف ہیں اور نور کی فضا میں معلق ہیں۔ ہم اس نور میں ایک جانب بڑھنے لگے۔ یوں لگا جیسے یہ راستہ اس نور کے عالم میں بہت گہرائی میں ہے۔ بہت دور چلنے کے بعد ایک گول دائرہ آ گیا جس کے اطراف میں پانچ راستے نکل رہے تھے اور ہر راستہ بہت خوبصورت پھولوں سے سجا ہوا تھا۔ ہم ایک راستے پر بڑھے تو اس تمام سفر میں روح نہایت ہی خاموش تھی۔ وہ بہت ہی پروقار دکھائی دیتی تھی۔ میرے اندر بھی اس کے جلال کا مشاہدہ کرنے کے بعد اتنی ہمت نہ تھی کہ کچھ بول سکوں۔ میں نے سوچا خود ہی کچھ سکھانا چاہتی ہے، سکھا دے۔ میں خواہ مخواہ کچھ بول کر اسے کیوں تنگ کروں۔ مجھے ویسے بھی بار بار اس کے ملال کا خیال آ رہا تھا کہ اس کی اتنی کوشش کے باوجود لوگ اس کی بات سننے کو آمادہ نہ ہوئے۔ اس راستے پر کچھ دور چلنے کے بعد سامنے ایک سفید نور کی بے حد عظیم الشان عمارت آ گئی۔

                روح نے اس عمارت کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا یہ مقام محمود کی یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی کے چانسلر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ اس یونیورسٹی میں علم حضوری سکھایا جاتا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا دروازہ کھل گیا۔ میں روح کے ساتھ ہی اس کے اندر داخل ہوئی۔ وہ مجھے ایک کمرے میں لے گئی جہاں بہت سے اولیاء اللہ تھے۔ سب کے سروں پر سیاہ ٹوپیاں تھیں جیسی ڈگری یافتہ پہنتے ہیں۔ روح نے میری ملاقات ان سے کرائی اور بتایا کہ یہ تمام خواتین و حضرات اس یونیورسٹی کے اساتذہ ہیں۔ کہنے لگی جس طرح دنیا میں ڈگریاں ہوتی ہیں۔ کوئی ڈاکٹر کہلاتا ہے، کوئی بیچلر کہلاتا ہے، کوئی ماسٹر کہلاتا ہے، اسی طرح علم حضوری کی بھی ڈگریاں ہوتی ہیں، یہ ڈگریاں غوث، قطب، ابدال، نجباء وغیرہ ہوتی ہیں۔ یہ تمام اساتذہ ڈگری یافتہ ہیں۔ مقام محمود کی اس یونیورسٹی میں صرف ڈگری یافتہ ہی کام کر سکتے ہیں پھر اس کے بعد وہ مجھے کلاس روم میں لے گئی۔ روح اس وقت سر پر دوسرے اساتذہ کی مانند سیاہ ٹوپی پہنے ہوئی تھی۔ کلاس روم میں داخل ہوئی۔ یہ بہت ہی بڑا روم تھا جیسے ساری دنیا جتنا ایک کمرہ۔ روح سیدھی ٹیچر کی کرسی پر جا بیٹھی۔ میں اس کی اجازت سے طالب علم کے ڈیسک پر بیٹھ گئی۔ روح نے آواز دی۔ السلام علیکم اے بنت رسولﷺ! آپ کا داخلہ مقام محمود کی یونیورسٹی میں قبول کیا جاتا ہے، آپ کو مبارک ہو، خوشی سے میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ میں نے کہا اے روح! آپ کا شکریہ۔ میری آواز کلاس میں گونجی اب جو میں دیکھتی ہوں تو سارا کلاس روم بھرا ہوا ہے۔ اسکول کی طرح قریب قریب ڈیسک ہیں اور ڈیسک پر طالب علم بیٹھے ہیں، مگر یہ دیکھ کر حیرت سے میری آنکھیں کھل گئیں کہ ہر ڈیسک پر میں ہی اپنے آپ کو بیٹھا دیکھ رہی تھی۔ میرے ذہن میں آیا۔ یہ ساری شبیہہ میرا ہی وجود ہے۔ ہر شبیہہ روح کی شکر گزار تھی۔ جیسے میں بے شمار آئینوں میں اپنا عکس دیکھ رہی ہوں۔ روح نے بلند اور پر وقار آواز میں فرمایا۔ اے بنت رسولﷺ! اس یونیورسٹی کا پہلا سبق پڑھئے۔ میں متوجہ ہو کر بیٹھ گئی۔ روح کی آواز آئی۔ ‘‘با ادب با نصیب۔ بے ادب بے نصیب’’۔ اسی لمحے ایک فلیش کی طرح میری سماعت سے مرشد کریم کی آواز ٹکرائی۔ جب پہلی بار آپ نے ان ہی الفاظ سے میری تعلیم کا آغاز کیا تھا۔ روح نے کہا آپ جانتی ہیں کہ نصیب کیا ہے؟ میں خاموش روح کی آواز پر ہمہ تن گوش تھی۔ وہ خود ہی جواباً کہنے لگی۔ نصیب علم حضوری کی ڈگری ہے جو صرف تعلیم یافتہ کو ملتی ہے۔ بے ادب علم اور ڈگری دونوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ادب یہ ہے کہ استاد کے آگے اپنے کان اور زبان بند کر لو صرف دل اور آنکھ کھلی رکھو۔ استاد کا علم آنکھ کے ذریعے تمہارے دل میں سما جائے گا۔ جب یہ علم دل میں سما جائے تب اپنے کان اور زبان کھول لو تا کہ یہ علم ہی تمہاری گفتار اور سماعت بن جائے۔ ذات باری تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس ادب کا ذکر ان آیات میں فرمایا ہے۔

                ترجمہ: ‘‘اے ایمان والو جب تمہیں کہا جائے کہ جگہ کشادہ کر دو مجلس میں تو کشادہ کر دیا کرو۔ اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو۔ اللہ تعالیٰ ان کو جو تم میں سے ایمان لے آئے اور جن کو علم دیا گیا درجات بلند فرما دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو اس سے خوب آگاہ ہے اے ایمان والو! جب تنہائی میں بات کرنا چاہو رسولﷺ سے تو سرگوشی سے پہلے صدقہ دیا کرو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اور پاک کرنے والی ہے اور اگر تم نہ پائو تو بے شک اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے کیا تم ڈر گئے کہ تمہیں سرگوشی سے پہلے صدقہ دینا چاہئے۔ پس جب تم ایسا نہیں کر سکتے تو اللہ نے تم پر نظر کرم فرمائی۔’’

                ان آیات میں رسول کریمﷺ کی مجلس میں سوال کرنے والے کو سوال کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم ہے۔ پھر اس حکم میں فوراً ہی نرمی کر دی گئی۔ جیسے ہی یہ حکم نازل ہوا حضرت علیؓ نے اس حکم پر ایک دینار صدقہ دے کر حضور پاکﷺ سے علمی سوال کئے۔ پھر اس کے بعد اس حکم میں رخصت کر دی گئی کیونکہ لوگوں پر یہ حکم ماننا مشکل گزرا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے علم کے راستے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر کے ادب کا درجہ حاصل کر لیا اور مقام محمود کی یونیورسٹی میں علم حضوری کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہوئے۔ جیسا کہ حضور پاکﷺ نے فرمایا کہ علیؓ باب علم ہیں۔ اے بنت رسولﷺ! بارگاہ علم میں مرید کے درجات مراد کی فرمانبرداری سے ملتے ہیں۔ فرمانبرداری ہی ادب کا مقام ہیں علم حضوری کی راہ میں مراد کی فرمانبرداری اور ادب بندگی کی نشانی ہے۔ یہی آداب بندگی بندے کو بارگاہ نبوی اور بارگاہ الٰہی تک پہنچاتے ہیں۔ مقام ادب کی سند حاصل کئے بغیر کسی کا گزر وہاں نہیں ہو سکتا اور بانصیب وہی ہے جس کی رسائی بارگاہ عالی تک ہو۔

                روح جتنی دیر بولتی رہی۔ میں اس طرح ساکت بیٹھی رہی جیسے کوئی بت۔ روح کی آواز کا نور کمرے میں موجود میری ایک ایک شبیہہ میں جذب ہو گیا۔ میں آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھی اور روح کے سامنے پہنچ گئی اپنا ہاتھ روح کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔ ‘‘اے روح! میں آج آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتی ہوں کہ راہ علم میں آپ کی بندگی کی حد تک فرمانبرداری کرونگی۔’’ روح نے اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ لے لیا۔ اسی لمحے قرآن کی یہ آیت ذہن سے گزری۔

                ترجمہ: ‘‘بے شک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں درحقیقت وہ اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہو گا اور جس نے ایفا کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ سے کیا تو وہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ ’’ (سورہ الفتح)

جائے مسجود ملک مجھ کو نہ ہونا تھا یہاں

کیا تھا آغاز مرا، کیا ہوا انجام مرا Type: Standard Order: SEO Slug: Page Title: Keywords: Description: Tags: Comma-separated search terms Search Fields: title content tags Facebook Title: Description: Twitter Title: Description: 2017 ©type:StandardOrder: SEOSlug:Page Title:Keywords:Description:Tags:Comma-separated search termsSearch Fields:title content tagsFacebookTitle:Description:TwitterTitle:Description:2017 %C2%A9


 
SEO
Comma-separated search terms

title content tags
Facebook
Twitter




Roohein Bolti Hain

سَیّدہ سَعیدہ خَاتون عَظیمی

                ‘‘زندگی جب زندگی سے گلے ملتی ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔’’

                یوں تو ہر آدمی ‘‘جیتا مرتا ہے’’ مگر میں نے اس جملہ پر غور کیا تو شعور لرزنے لگا۔ غنودگی نے مجھے اپنی آغوش لے لیا۔ تیز کرنٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ کرنٹ پیروں میں سے زمین میں ارتھ ہوا…………دھوئیں کی لاٹ کی طرح کوئی چیز اوپر اٹھی اور یہ دھواں خدوخال میں تبدیل ہو گیا۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ سعیدہ خاتون عظیمی تھی۔                میں نے اپنی روح کو اداس’ بے چین’ ضعیف و ناتواں اور ادھورا دیکھا تو دل ڈوبنے لگا۔ ڈوبتے دل میں ایک نقطہ نظر آیا۔ اس نقطہ میں حد و حساب سے زیادہ گہرائی میں مرشد کریم کی تصویر دیکھی۔ لاکھو ں کروڑوں میل کی مسافت طے کر کے اس تصویر تک رسائی ہوئی۔

                میری روح جو جنم جنم کی پیاسی تھی’ بے قراری کے عالم میں’ نقطہ میں بند اس تصویر سے گلے ملی تو اسے قرار آ گیا۔ سرمستی میں جھوم جھوم گئی۔ جمود ٹوٹا تو الفاظ کا سیل بے کراں بہہ نکلا اور روح کہانی صفحہ قرطاس پر مظہر بن گئی۔                روح کہانی کتاب’ واردات و کیفیات کے ان علوم پر مشتمل ہے جو مجھے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (باباجی) کی روح سے منتقل ہوئے۔ میں یہ علوم اپنی بہنوں کے سپرد کرتی ہوں تا کہ وہ توجہ کے ساتھ ان علوم کو اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔

                                     دعا گو:

                                                سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی

                                                تاریخ: 01-09-94