Topics

خلیل اللہ


                آدھی رات کو گہری نیند سے اچانک آنکھ کھلی۔ غنودگی کے عالم میں درد میں ڈوبی ہوئی ایک عجیب آواز سنائی دی۔ اس شیریں آواز کی ہر لہر سماعت کے اندر اترتی محسوس ہوئی۔ جس کی لے میں ہزاروں ساز شامل ہیں۔ میرے تمام حواس اس مدھر تان پر مجتمع ہو گئے۔ کیا دیکھتی ہوں کہ آگ کے بڑے بڑے دریا ہیں۔ جن میں لاوے کی طرح آگ بہہ رہی ہے اور پہاڑ کی طرح شعلے اٹھ رہے ہیں۔ روح مجذوبیت کے عالم میں اپنی دھن میں کاتی ہوئی آگے بڑھی چلی جا رہی ہے۔ اس نے ایک خوبصورت سرخی مائل اورنج رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی ہے اور اس چادر میں وہ خود ایک شعلہ جوالہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے نغمہ دل کے الفاظ میری سماعت میں گونجنے لگے۔

لکڑی جل کوئلہ بھئی اور کوئلہ جل بھئی راکھ

میں پاپن ایسی جلی نہ کوئلہ بھئی نہ راکھ

                خوف کی ایک لہر میرے تن بدن میں دوڑ گئی مگر دوسرے ہی لمحے یہ خوف حیرت میں بدل گیا۔ آخر آگ کے ان دریائوں میں روح کس طرح اپنی چادر کا پلو ہاتھ سے گھماتی کاتی چلی جا رہی ہے۔ اس ظالم آگ میں تو لوہا بھی ڈالتے ہی پگھل جائے۔ کمال ہے روح کے تو پائوں بھی جلتے نظر نہیں آتے اور میں اس حیرت میں اٹھ کر آگ کے دریا کے کنارے جا کھڑی ہوئی۔ جہاں حد نگاہ تک ایک دوسرے کے متوازی بیشمار آگ کے دریا بہہ رہے تھے۔ میں نے اسے زور سے آواز دی۔ اچھی روح اس خوفناک آگ میں تم کس طرح آرام سے چل رہی ہے۔ کیا تمہیں اس کی تپش محسوس نہیں ہوتی؟ میری آواز سن کر وہ چونک گئی اور ایک لمحے کو ٹھہر گئی۔ اس نے پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور ایک نظر دیکھنے کے بعد پھر اسی طرح گاتی ہوئی اپنی راہ پر چل پڑی، مگر اب جو میری نظر اس کے پائوں پر پڑی تو کیا دیکھتی ہوں کہ اس کے قدموں کے نیچے آگ گلزار بنتی جا رہی ہے، اس کا ہر قدم لالہ و سنبل کے پھولوں پر ہے۔ اس کے پائے نور کو چھوتے ہی انگارے پھول بن کر کھل اٹھتے ہیں۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ جی چاہا کہ کسی طرح بھاگ کر اسے پکڑ لوں اور اس سے یہ راز دریافت کر لوں۔ اسی شوق میں آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھایا تو لاوے کے بہتے ہوئے ریلے کو دیکھ کر دس قدم پیچھے ہٹ گئی۔ پھر جستجوئے شوق نے آگے بڑھایا، مگر اسی لمحے ایک بھڑکتا ہوا شعلہ سطح دریا پر نمودار ہوا۔ اور میں پھر لپک کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس دو مرتبہ کی ناکامی نے شوق کو کچھ اور بھڑکا دیا اور مجھے اپنے اندر ایک جلالی کیفیت محسوس ہوئی۔ اس کیفیت میں ارادے میں پہلے سے بہت زیادہ قوت محسوس ہوئی اور میں تیزی سے آگے بڑھ کر بالکل لب دریا کھڑی ہو گئی اور اپنی پوری قوت سے روح کو آواز دی۔ میری آواز سنتے ہی وہ پلٹ کر نہایت ہی تیزی سے میری طرف دوڑتی چلی آئی اورمیرا ہاتھ تھام لیا انتہائی محبت کے ساتھ مسکرا کر بولی۔ تم نے مجھے پکارا ہے۔ اس کے لہجے میں بے پناہ خوشی کا احساس تھا۔ جیسے میرے پکارنے پر وہ خوش ہو گئی ہے۔ میں نے اس سے کہا۔ آگ کے یہ دہکتے شعلے میرے جسم کو تو جلا کر کوئلہ اور راکھ بنا دیتے ہیں۔ پھر تم پر اس کا اثر کیوں نہیں ہوتا؟ پیاری روح! مجھے بھی اس کا بھید بتا دو۔ میں نے خوشامد سے اس کا ہاتھ سہلایا۔ وہ میری اس بچکانہ حرکت کو دیکھ کر زور سے ہنس پڑی۔ اسی لمحے اس کی نظروں سے محبوبیت کی ایک تجلی چمکی اور وہ عشق میں ڈوبی آواز میں گویا ہوئی۔ پگلی! مجنوں کو سگ لیلیٰ بھی لیلیٰ ہی نظر آتا ہے اور ان الفاظ کے ساتھ ہی اس کی نظر کی تجلی میرے قلب میں داخل ہو گئی۔ میرے اندر عشق کے سوتے پھوٹ پڑے اور آن کی آن میں عشق کے اس چشمے نے تمام آگ کو بجھا دیا۔ اب میری حد نگاہ تک لالہ و گل پھیلے ہوئے تھے۔ میں بے خیالی میں عشق حقیقی کی دھن میں مسرور روح کا ہاتھ پکڑ کر دریا میں اتر آئی۔ جہاں ہر طرف پھول بکھرے تھے۔ آگ کا تصور ہی میرے ذہن سے قطعی طور پر نکل گیا۔ ہم پھولوں کے ان تختوں پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے گھومنے لگے۔ روح کہنے لگی۔ جلتی آگ کو گلزار بنانے کا قانون حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے قصے میں ہے جس میں نمرود نے منوں ٹنوں آگ کو دہکا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گوپھن کے اندر رکھ کر اس جلتی آگ میں پھینک دیا تھا، مگر آپ کے آگ میں داخل ہوتے ہی آگ گلزار بن گئی تھی اور آپ اطمینان سے چلتے ہوئے اس گلزار سے باہر نکل آئے۔

                حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ‘‘خلیل اللہ’’ یعنی اللہ کا دوست کہا ہے۔ دوست وہی ہوتا ہے جو دوست کا لباس پہن لیتا ہے۔ یعنی دوست کی طرز فکر کو اپنا لیتا ہے اور سچے دوست کی محبت قربانی و ایثار کا مجموعہ ہے اور سچی دوستی اسی وقت ممکن ہے جب ایک دوسرے پر بھروسہ کامل اور یقین مستحکم ہو اور دونوں دوستوں کا آپس میں یقین اور بھروسہ ایک ہی سطح پر ہو۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دوست کہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوستی کا جو معیار مقرر کیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام اس معیار پر پورے اترتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کے لئے جنت کی راحتیں رکھتی ہیں۔ آگ دوزخ کے عذاب میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ جیسا کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نافرمان ہیں ان کی سزا نار جہنم ہے۔ لہٰذا جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار دوست ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچا رہے گا۔ کوئی آدمی جب دوسرے آدمی کی صفات کو اپنا لیتا ہے تو وہ اس کا گہرا دوست بن جاتا ہے۔ اسی طرح بندے کے اندر جب اللہ تعالیٰ کی صفات پیدا ہو جاتی ہیں تو بندے کے اعمال اللہ تعالیٰ کی صفات کا عمل بن جاتے ہیں اور بندے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کی حرکت بن جاتا ہے اور بندے کی ہر حرکت اللہ تعالیٰ کے امر کی حرکت بن جاتی ہے۔ روح چونکہ ‘‘امر ربی’’ ہے۔ جب روح کے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات کی روشنیاں متحرک ہوتی ہیں اور شعور ان روشنیوں کو قبول کر لیتا ہے تو بندہ شعوری طور پر اسمائے الٰہیہ کی روشنیوں کے قوانین سے واقف ہو جاتا ہے اور ان کے علوم سیکھ لیتا ہے اور اس کا ارادہ اللہ کے امر کے تابع ہو جاتا ہے۔ ایسے فرمانبردار بندوں کے لئے آگ کے اندر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم کام کر رہا ہے کہ وہ ایسے بندوں کے لئے اپنی صفت نار کو تبدیل کر کے صفت نور بن جائے۔ کائنات کی ہر شئے اللہ تعالیٰ کی صفات یا اسمائے الٰہیہ کی تجلیوں کا ڈسپلے ہے۔ ہر شئے کو اللہ نے دو رخوں پر بنایا ہے۔ اگر ایک رخ ظاہر ہے تو دوسرا رخ باطن ہے۔ ظاہر رخ کی صفات باطن سے متضاد ہیں، اگر ظاہر میں ٹھنڈک ہے تو باطن میں گرمی ہے۔ اسی طرح آگ کی صفت ظاہر میں جلانے والی ہے تو باطن میں ٹھنڈک اور زندگی بخشنے والی ہے۔ اللہ کے دوستوں کا ارادہ شئے کے اندر روشنیوں کی صفات کا رخ پلٹ دیتا ہے۔ اس طرح شئے کا وہ رخ جو نقصان پہنچانے والا ہے وہ باطن میں چلا جاتا ہے اور وہ صفات جو زندگی بخش ہیں وہ ظاہر میں آجاتی ہیں اور اسی مناسبت سے صفات کے تبدیل ہونے سے شئے کی شکل و صورت اور ہیئت میں بھی فرق آ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دوستوں کو کائنات کی کوئی شئے نقصان نہیں پہنچا سکتی خواہ ان کے راستے میں آگ کے ہزاروں دریا آ جائیں کیونکہ ان کے ذہن میں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے اور اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہے اور کوئی دوست کسی دوست کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس لئے ان کے شعور میں یہ بات آ جاتی ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی کسی شئے سے انسان کو نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اسی یقین کے ساتھ وہ راہ کی ہر رکاوٹ سے گزر کر اپنی منزل کو پہنچ جاتا ہے۔

                ہم اس طرح پھولوں کے تختوں کو عبور کرتے ہوئے حرم شریف میں پہنچ گئے۔ حرم شریف کے دروازے سے آہستہ آہستہ روح چلتی ہوئی کعبہ شریف کی طرف بڑھنے لگی۔ اس کی نظر برابر کعبہ شریف پر لگی ہوئی تھی۔ اس وقت مجھے ایسا لگا جیسے میرا وجود روح کے اندر ہے اور روح کی آنکھوں سے میں یہ تمام نظارہ کر رہی ہوں۔ روح اور میں ایک ہی جسم ہیں۔ کعبہ شریف کی جگہ ایک اونچا سا چبوترا بنا ہے اور اس چبوترے کے اوپر سے تجلی آ رہی ہے۔ تجلی کے ساتھ ساتھ نظر اوپر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا یہ تجلی عرش سے کعبہ شریف کے مقام پر اس چبوترے پر آ رہی ہے۔ دنیا کی حدود میں آتے آتے یہ تجلی ایک انتہائی حسین جلوے کی شکل میں رونما ہو گئی اور یہ جلوہ کعبہ شریف کے چبوترے پر ظاہر ہوا۔ خیال آیا یہ اسمائے الٰہیہ کے جلوے ہیں۔ روح اس کے قریب پہنچ گئی اور اس کے قدموں میں سر کو جھکا دیا اور نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ اسم الٰہی کے اس جلوے سے اپنے کاموں میں مدد چاہنے لگی۔ اس وقت روح کی حالت عجز و انکساری کی وجہ سے لاچار و بے بس دکھائی دیتی تھی۔ وہ بار بار چبوترے سے اپنا سر ٹکراتی اور اسم الٰہی کا نام لے کر اس پر اپنی محتاجی ظاہر کرتی۔ یہاں تک کہ اس جلوے کی نظروں سے تجلی کی روشنی نکلی اور روح کے اندر سرایت کر گئی۔ اسی وقت روح کو سکون حاصل ہو گیا اور وہ سجدے میں گر کر شکر ادا کرنے لگی۔ اسی لمحے روح کے اندر سے نور کا ایک پرت نکلا۔ یہ بالکل روح کی طرح کا جسم تھا، مگر یہ جسم روح سے بھی ہلکا پھلکا لگتا تھا جیسے روح کا سایہ ہو۔ روح اسی طرح سجدے میں گری شکر ادا کر رہی تھی۔ یہ سایہ جیسے ہی باہر نکلا۔ اسم الٰہی کے اس جلوے نے بڑھ کر اس سایے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا لیا اور ہاتھ آسمان کی جانب بلند کر دیئے اور بہت آہستہ آہستہ بہت ہی محبت اور خشوع کے ساتھ اوپر تجلیوں کی جانب نظر کرتے ہوئے فرمانے لگا۔

                اے اللہ، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، اے عرش کے مالک، اے زندگی و موت کے خالق، اس روح کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرما۔ اس لمحے عرش سے ایک تجلی اترتی چلی آئی اور اس تجلی سے برف کی طرح رحمت برسنے لگی۔ روئی کے گالوں کی طرح رحمت نے روح کے اس پرت کو جو ہر لباس سے بیگانہ تھا، ہر طرف سے ڈھانپ لیا۔ اسی لمحے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ شعور کی ذات ہے اور شعور ایک برہنہ لاش کی مانند تھا۔ جس کو اللہ نے اپنی رحمت سے ڈھانپ دیا۔ روح اسمائے الٰہیہ کے جلوئوں کو دیکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اسمائے الٰہیہ کے جلوے کعبہ شریف پر عرش سے نازل ہونے والی تجلیوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ جب بندے حرم شریف میں جا کر اپنے دل کی گہرائیوں سے روح کے شعور کے ساتھ اپنے رب سے عاجزی کرتے ہیں اور اپنی محتاجی کے ساتھ اس سے مدد مانگتے ہیں تو اسمائے الٰہی کے یہ جلوے روح کی مشکل آسان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بندے کے لئے دعا کرتے ہیں۔ جس سے بندے کی حاجت پوری ہو جاتی ہے۔

                چند لمحوں بعد روح نے سجدے سے سر اٹھایا۔ اسم الٰہی کے جلوے نے رحمت الٰہی سے لپٹی ہوئی اس لاش کو روح کی آغوش میں دے دیا۔ اسی لمحے یہ لاش زندہ ہو گئی اور حرم شریف کے فرش پر چلنے لگی۔ مجھے محسوس ہوا یہ شعور کا جسم ہے۔ روح نے بچے کی طرح اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور حرم شریف کے آداب سکھانے لگی۔ مجھے ایسا لگا جیسے پوری کائنات اللہ کا گھر یا حرم شریف ہے۔ اس دنیا اور اس تمام کائنات میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کے لئے وہی ادب اور احترام سیکھنے کی ضرورت ہے جو ادب احترام حرم شریف کے لئے مخصوص ہیں اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔ پیاری روح! تم ہی میری رہبر ہو۔ مجھے حرم شریف کے آداب سکھا وہ نہایت شفقت کے ساتھ مسکرائی اور ہم حرم شریف میں گھومنے لگیں۔

 

 

 

 

 


Roohein Bolti Hain

سَیّدہ سَعیدہ خَاتون عَظیمی

                ‘‘زندگی جب زندگی سے گلے ملتی ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔’’

                یوں تو ہر آدمی ‘‘جیتا مرتا ہے’’ مگر میں نے اس جملہ پر غور کیا تو شعور لرزنے لگا۔ غنودگی نے مجھے اپنی آغوش لے لیا۔ تیز کرنٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ کرنٹ پیروں میں سے زمین میں ارتھ ہوا…………دھوئیں کی لاٹ کی طرح کوئی چیز اوپر اٹھی اور یہ دھواں خدوخال میں تبدیل ہو گیا۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ سعیدہ خاتون عظیمی تھی۔                میں نے اپنی روح کو اداس’ بے چین’ ضعیف و ناتواں اور ادھورا دیکھا تو دل ڈوبنے لگا۔ ڈوبتے دل میں ایک نقطہ نظر آیا۔ اس نقطہ میں حد و حساب سے زیادہ گہرائی میں مرشد کریم کی تصویر دیکھی۔ لاکھو ں کروڑوں میل کی مسافت طے کر کے اس تصویر تک رسائی ہوئی۔

                میری روح جو جنم جنم کی پیاسی تھی’ بے قراری کے عالم میں’ نقطہ میں بند اس تصویر سے گلے ملی تو اسے قرار آ گیا۔ سرمستی میں جھوم جھوم گئی۔ جمود ٹوٹا تو الفاظ کا سیل بے کراں بہہ نکلا اور روح کہانی صفحہ قرطاس پر مظہر بن گئی۔                روح کہانی کتاب’ واردات و کیفیات کے ان علوم پر مشتمل ہے جو مجھے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (باباجی) کی روح سے منتقل ہوئے۔ میں یہ علوم اپنی بہنوں کے سپرد کرتی ہوں تا کہ وہ توجہ کے ساتھ ان علوم کو اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔

                                     دعا گو:

                                                سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی

                                                تاریخ: 01-09-94