Topics

نور نبوت


                صبح صادق کے وقت درود شریف کی تسبیح پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے میرا سارا جسم موم کی طرح پگھل رہا ہے۔ اپنی ذات کا تصور مادیت سے ہٹ کر صرف نظر کی حیثیت سے باقی رہ گیا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ دور ایک نورانی فضا ہے اور اس فضا میں اونچائی کی جانب ایک دروازہ ہے، اس دروازے کی چوکھٹ پر میری روح کھڑی ہے۔ وہ بار بار پائوں اٹھانے کی کوشش کرتی ہے مگر اٹھا نہیں پاتی۔ میں نے سوچا بھلا اس کومل کامنی، من موہنی کو اب کیا مسئلہ درپیش ہے، شاید پائوں کسی چیز میں اٹک گیا ہے جا کر دیکھنا چاہئے۔ میں اس کے پاس آئی تو دیکھا کہ اس کا کومل سا بدن کسی انجانے خوف سے لرز رہا ہے، اس کے شہابی رخساروں پر چاندنی چھائی ہوئی ہے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا۔ پیاری روح! کیا بات ہے میں آج پہلی بار تمہارے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ رہی ہوں۔ میری آواز سنتے ہی اس نے میری طرف دیکھا اور ایک اطمینان کی لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔ بدن کا لرزنا ختم ہو گیا۔ وہ خوشی کا گہرا سانس لیتے ہوئے بولی۔

                اچھا ہوا تم آگئیں۔ میں کب سے اس دروازے پر کھڑی ہوں۔ جانتی ہوں کہ اس دروازے کے اندر میرے رب کے حسن تقدس کے جلوے ہیں۔ میں اپنے رب کے جمال حسن سے اپنی ازلی تشنگیوں کو دور کرنا چاہتی ہوں، مگر جب بھی اندر جانے کے لئے قدم اٹھاتی ہوں تو پائوں جیسے چپک کر رہ جاتے ہیں۔ اس کا شوق دید، آرزوئے قرب، جستجوئے وصل میرے دل کی آگ کو بھڑکائے دیتا ہے۔ جب تک میں اس دروازے کے اندر نہ دیکھ لوں مجھے کسی طرح چین نہ آئے گا۔ بار بار کی ناکام کوشش میرے اندر اس کی ناراضگی کا خوف پیدا کرتی ہے۔ کہیں میرا رب مجھ سے ناراض تو نہیں ہے۔ آخر وہ مجھے اپنے دروازے میں داخل کیوں نہیں ہونے دیتا۔

                اچھی لڑکی! مجھے بتائو میں کیا کروں۔ میں یہاں سے ہٹنے والی نہیں ہوں۔ میں اس کی اس معصوم سی ضد پر ہنس پڑی۔ کیا خوب! پائوں میں سکت نہیں ہے، مگر جانا بھی ضروری ہے۔ میں بھلا کیا کر سکتی ہوں اس کے لئے۔ اسی خیال کے ساتھ میں نے اس پر ایک گہری نظر ڈالی۔ اسی لمحے مجھے میرے ہادی میرے رہنما میرے استاد مکرم مرشد کریم پیارے بابا جی کا خیال آیا۔ میں چلا بڑی تم بھی عجیب ہو ایسی مشکل میں تم نے بابا جی کو کیوں نہیں پکارا۔ تم تنہا اس دروازے کے اندر کیسے جا سکتی ہو۔ غیب کی دنیا میں اجنبی راہوں پر جس نگری کے قانون سے تم واقف نہیں وہاں تم تنہا کیسے داخل ہو سکتی ہو۔ غیب کی دنیا کی وسعتیں تمہارے اس ننھے سے وجود کو اپنی لامحدود فضائوں میں گم کر دیں تو تم کہاں بھٹکتی پھرو گی۔ بابا جی کا نام سنتے ہی اس کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا جیسے مردہ جسم میں جان آ گئی ہو۔ خوشی سے اس کی آنکھیں بھر آئیں، کہنے لگی۔ اللہ تعالیٰ کے عجائبات غیب کو دیکھنے کے اشتیاق نے مجھے سب کچھ بھلا دیا۔ پھر اس نے اپنے ملکوتی لب کھولے اور عجیب دلربا انداز میں بابا جی کو پکارا۔ فضا کا ذرہ ذرہ اس کی آواز پر جھوم اٹھا۔ دوسرے لمحے بابا جی روح کے قریب کھڑے دکھائی دیئے۔ روح نے بابا جی کو فرش سے جڑے ہوئے اپنے پائوں دکھائے اور دروازے کے اندر جانے کی اجازت چاہی۔ بابا جی مسکرائے اور روح کے سر اور شانوں پر اپنی چادر ڈال دی اور اچھی طرح اس کے گرد لپیٹتے ہوئے فرمایا۔

                آئندہ جب بھی تم اس دروازے کے اندر قدم رکھو تو یہ چادر اوڑھ لیا کرو۔ اس چادر کے ساتھ تم قلندری نسبت سے پہچانی جائو گی۔ میری نظر بابا جی کی شفقت میں اللہ تعالیٰ کی شان رحیمی اور شان ربوبیت کا مشاہدہ کرنے لگی، خیال آیا۔ غیب میں داخل ہونے کے لئے کسی نہ کسی رہبر کا ہونا ضروری ہے۔ غیب کے عالمین میں اللہ تعالیٰ کی کرشمہ سازیاں ہیں۔ غیب کے اندر بے شمار دنیائیں آباد ہیں جن کے اندر مشیت ایزدی کی حکمرانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں سے شعور اور لاشعور دونوں بے خبر ہیں۔ جب تک کسی مرشد کامل کا سہارا نہ ملے ان عالمین کے دروازوں میں داخل ہونا ہی مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے عالمین میں مرید اپنے مرشد کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ مرشد کی ہستی اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت اور شان رحیمی کی صفت کا عکس ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو بہت محبت سے پالتا ہے۔ اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتا ہے۔ اللہ کا ہر تفکر اس کا امر بن کر کائنات کے دائرے میں کام کر رہا ہے۔ امر ربی یعنی روح اللہ کے حکم پر اس کے کاموں کی معاون بن جاتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ باباجی نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ روح کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے دروازے کے اندر جانے کی ا جازت دے دی۔ روح نے بسم اللہ شریف پڑھ کر قدم اٹھایا۔ اس کے پائوں اب ہر بندش سے آزاد تھے۔ وہ بے فکر ہو کر اس دروازے کے اندر داخل ہو گئی۔ بابا جی جا چکے تھے۔ میری نظر روح کا تعاقب کرنے لگی۔ دل میں تجسس لئے نظر نے روح کو اپنے احاطے میں لے لیا۔ نظر جیسے ہی اندر پہنچی عالم غیب کی وسعتوں کا احساس ہوا۔ پہلے تو ایک لمحے کو روح ٹھٹک کر رہ گئی۔ اوپر نیچے چاروں طرف فضا میں اپنی نظریں دوڑائیں۔ نظر کے سامنے بے شمار کہکشائوں کے راستے بنے ہوئے تھے۔ ہر راستے کا ایک اپنا ہی رنگ تھا۔ چاروں طرف چراغاں کا سماں تھا۔ ہر راستے پر بے شمار لوگ آ جارہے تھے۔ میں نے کچھ لوگوں کو روح کی طرف بڑھتے دیکھا۔ اسی وقت چند فرشتے آئے اور ان لوگوں سے کہا۔

                انہیں چھوڑ دیں’ ان کے سر پر بابا جی کی چادر ہے۔

                روح نے ہر راستے پر ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی اور پھر داہنی طرف ایک پتلے سے راستے پر قدم رکھ دیا۔ آن کی آن میں وہ ایک حسین ترین وادی میں پہنچ گئی۔ جہاں ہر طرف پھول ہی پھول تھے۔ خیال آیا مقام محمود ہے۔ میں نے دل سے کہا۔ یہ تو محبوب خدا صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام ہے۔ میری روح یہاں کیسے آ گئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا احترام اور دبدبہ میرے حواس پر چھا گیا اور میں دعا کرنے لگی کہ یا باری تعالیٰ! میری روح کو تیری ہی جستجو ہے، تیری ہی کھوج ہے، تیری تلاش اسے تیرے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے در پر لے آئی ہے۔ اے ہمارے رب! تو نے ہمیں اپنے پیارے نبیﷺ کی تعظیم کا حکم دیا ہے، ان کی بارگاہ ادب میں اونچی آواز سے بولنے کے لئے بھی منع کیا ہے۔ میری روح نادان ہے، نا سمجھ ہے۔ تیرے پیارے رسولﷺ کی محبت اور تیرے شوق دید نے اسے ہر شئے سے نڈر بنا دیا ہے۔ میری روح کی اس معصوم جرأت پر اسے معاف فرما، اس کی ہر تقصیر پر درگذر فرما۔ بے شک تو رب الرحیم ہے۔ میں نے دیکھا روح حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے محل مبارک کے دروازے پر کھڑی ہے۔ دربان نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا اور ادب کے ساتھ کورنش بجا لاتے ہوئے فرمایا۔

                یا سیدی میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کے آنے کی اطلاع کر دوں۔ یہ کہہ کر وہ اندر جانے کے لئے مڑا۔ نظر نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم دبیز قالین پر گائو تکیے کے سہارے لیٹے ہوئے ہیں۔ دربان کی خبر سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم فوراً بیٹھ اٹھے اور خوشی کے لہجے میں فرمایا۔ ہاں بھئی! ہاں اسے اندر آنے دو وہ ہماری بیٹی ہے۔ روح اندر آ گئی اور دوڑ کر نانا جان کہہ کر آپﷺ کے گلے سے لپٹ گئی۔

                حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے سر اور ماتھے پر کتنے ہی بوسے لئے اور خوشی اور استعجاب کے ملے جلے تاثر کے ساتھ سوال کیا۔ بیٹی کیا تم یہاں اکیلی آئی ہو۔ روح نے مسکراتے ہوئے سر پر اوڑھی ہوئی چادر کی طرف اشارہ کیا۔ اکیلی نہیں اس چادر کے ساتھ آئی ہوں۔ حضور پاکﷺ نے فرمایا۔ یہ چادر کس کی ہے؟ روح نے معصومیت کے ساتھ جواب دیا۔ یہ چادر میرے بابا جی کی ہے۔ حضور پاکﷺ نے ایک گہری نظر چادر پر ڈالی اور پھر مسکرا کر فرمایا۔ سبحان اللہ! بہت اچھی ہے۔ اتنے میں حضرت ابوہریرہؓ تشریف لائے۔ روح نے انہیں سلام کیا۔ ایسا لگا جیسے روح برسوں سے انہیں جانتی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ نے روح کے ماتھے کو چوما اور فرمایا۔ بیٹی! یہ چادر کس کی ہے؟ ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے۔ روح نے چادر کو اپنے اطراف میں لپیٹتے ہوئے فخر سے جواب دیا۔ یہ چادر میرے بابا جی کی ہے۔ میں اس کو اوڑھ کر یہاں اکیلی آئی ہوں۔ اس چادر نے مجھے بہت حفاظت سے یہاں پہنچا دیا، کوئی وقت نہیں ہوئی۔

                حضرت ابوہریرہؓ بہت خوش ہوئے اور بہت سی دعائیں دیں۔ نظر نے دیکھا کہ روح ایک معصوم بچے کی طرح اپنے نانا جانﷺ کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ اس کے نانا جانﷺ اسے خوب لاڈ پیار کر رہے ہیں۔ پھر روح حضور پاکﷺ سے کہنے لگی۔ نانا جانﷺ آپ کی نظر تو براہ راست اللہ تعالیٰ کی تجلیوں کو دیکھتی ہے۔ مجھے یہ تجلیاں کیوں نظر نہیں آتیں۔ حضور پاکﷺ نہایت ہی شفقت کے ساتھ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا۔ بیٹی! ابھی تم چھوٹی ہو اس لئے تمہاری نظر ان تجلیوں کو نہیں دیکھ سکتی۔ روح نے بچے کی طرح ضد کرنی شروع کر دی۔ نانا جان! مجھے بھی تو اللہ میاں اتنے ہی اچھے لگتے ہیں جس طرح آپﷺ مجھے اچھے لگتے ہیں۔ میں آپﷺ کو تو دیکھ سکتی ہوں۔ پھر اللہ میاں کو کیوں نہیں دیکھ سکتی اور اب میں چھوٹی کہاں ہوں نانا! اب تو میں بڑی ہو گئی ہوں اور ابھی تک میں نے اللہ میاں کو نہیں دیکھا ہے۔

                روح کی یہ معصومانہ باتیں سن کر رحمتہ اللعالمینﷺ نے روح کا سر اپنے سینے سے لگا لیا اور والہانہ انداز میں فرمانے لگے۔ بیٹی! تم ضرور اپنے رب کا دیدار کرو گی۔ تم میری بیٹی ہو۔ تم ضرور اپنے رب کا دیدار کرو گی اور اسی لمحے نظر نے دیکھا کہ روح کے اوپر جیسے نیند سی طاری ہو گئی۔ جیسے کوئی دودھ پیتا بچہ اپنی ماں کے سینہ سے لگ کر سکون کی میٹھی نیند سو جائے۔ سینہ نبوت کے اندر دل کا دریچہ کھلا اور رحمت خداوندی کا نزول ہونے لگا۔ کتنی ہی دیر تک روح کی نگاہ اپنے طالع بیدار کی خوش بختی کو دیکھتی رہی اور جب وہ اس خواب دل افروز سے بیدار ہوئی تو اس کی آنکھوں میں جام جم کا خمار تھا۔ اس کے روئیں روئیں سے نور پھوٹنے لگا۔ جیسے کوئی نوخیز کلی چتک کر پھول بن جائے۔ روح نے عشق حقیقی کے نشے میں مست ہو کر آہستہ سے حضور پاکﷺ کو پیار کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ اب وہ حضرت ابوہریرہؓ کے پاس آئی۔ آپؓ ایک درخت کے نیچے بیٹھے نہایت ہی شیریں آواز کے ساتھ حضور پاکﷺ کی تعریف میں قصیدہ پڑھ رہے تھے۔ عشق حقیقی کی شراب میں صوت سرمدی کی مدھر تانیں سن کر روح کے دل کی دنیا کا ہر ہر تار جھنجھنا اٹھا۔ اٹھلاتی ہوئی قریب آئی اور کہنے لگی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے عشق میں ڈوبی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ آئو بیٹی! اب تم ہمارے دل کی دنیا کا بھی نظارہ کر لو۔ انہوں نے بڑے ہی پیار سے بچوں کی طرح روح کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔ نظر کے سامنے حدیث شریف کی تجلیاں آ گئیں۔ ہر تجلی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حسین جلوہ دکھائی دی۔ یہ رنگ برنگے جلوے، یہ حسن، یہ نور دنیا و مافیہا کی ہر شئے کو بھلائی دینے کے لئے کافی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کے سینے میں عشق محمدیﷺ کی بجلیاں کوندتی دکھائی دیں۔ حدیث شریف کی ہر تجلی جلوۂ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہے۔ روح نے جی بھر کر سیر ہونے کے بعد سر اٹھایا اور ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئی۔

                اب میں جان گئی میرے نانا جانﷺ کے دل میں تو اللہ تعالیٰ کا عشق ہے اور آپﷺ ہر وقت اللہ کے عشق میں ڈوبے رہتے ہیں۔ مگر آپؓ کے دل میں میرے نانا جانﷺ کا عشق ہے۔ آپؓ انہیں کے جلوئوں میں مست رہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے سکون کا ایک گہرا سانس لیتے ہوئے فرمایا۔ بیٹی! محبوبﷺ کی نظروں نے اپنے عشق کی شراب میرے دل کے ساغر میں بھر دی ہے۔ اب کسی اور کی کہاں گنجائش ہے۔

                اور روح عشق حقیقی کے نشے میں سرشار ہنستی اٹھلاتی بچوں کی طرح رقص کرتی ہوئی نظر سے اوجھل ہو گئی۔

 

 

 

 

 


Roohein Bolti Hain

سَیّدہ سَعیدہ خَاتون عَظیمی

                ‘‘زندگی جب زندگی سے گلے ملتی ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔’’

                یوں تو ہر آدمی ‘‘جیتا مرتا ہے’’ مگر میں نے اس جملہ پر غور کیا تو شعور لرزنے لگا۔ غنودگی نے مجھے اپنی آغوش لے لیا۔ تیز کرنٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ کرنٹ پیروں میں سے زمین میں ارتھ ہوا…………دھوئیں کی لاٹ کی طرح کوئی چیز اوپر اٹھی اور یہ دھواں خدوخال میں تبدیل ہو گیا۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ سعیدہ خاتون عظیمی تھی۔                میں نے اپنی روح کو اداس’ بے چین’ ضعیف و ناتواں اور ادھورا دیکھا تو دل ڈوبنے لگا۔ ڈوبتے دل میں ایک نقطہ نظر آیا۔ اس نقطہ میں حد و حساب سے زیادہ گہرائی میں مرشد کریم کی تصویر دیکھی۔ لاکھو ں کروڑوں میل کی مسافت طے کر کے اس تصویر تک رسائی ہوئی۔

                میری روح جو جنم جنم کی پیاسی تھی’ بے قراری کے عالم میں’ نقطہ میں بند اس تصویر سے گلے ملی تو اسے قرار آ گیا۔ سرمستی میں جھوم جھوم گئی۔ جمود ٹوٹا تو الفاظ کا سیل بے کراں بہہ نکلا اور روح کہانی صفحہ قرطاس پر مظہر بن گئی۔                روح کہانی کتاب’ واردات و کیفیات کے ان علوم پر مشتمل ہے جو مجھے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (باباجی) کی روح سے منتقل ہوئے۔ میں یہ علوم اپنی بہنوں کے سپرد کرتی ہوں تا کہ وہ توجہ کے ساتھ ان علوم کو اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔

                                     دعا گو:

                                                سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی

                                                تاریخ: 01-09-94