Topics

علمِ نجوم


                میری نظر سے علم نجوم کے متعلق ایک کتاب گزری۔ دراصل میری سہیلی لے کر آئی تھی۔ کہنے لگی۔ ستاروں کے ذریعے زندگی کے آنے والے واقعات معلوم ہو جاتے ہیں۔ یہ بہت زبردست علوم ہیں۔ میرا تو ان پر بہت ہی زیادہ اعتقاد ہے۔ میں نے فلاں نجومی کو اپنا ہاتھ دکھایا تھا۔ اس نے بڑی صحیح صحیح باتیں بتائی تھیں۔ میری گزری ہوئی زندگی کے متعلق بہت سی باتیں بتائی تھیں اور آئندہ بھی جو ہونے والا ہے اس کے متعلق بتایا تھا۔ میں نے پوچھا۔ آئندہ کا کیا بتایا تھا۔ کہنے لگی اس نے بتایا تھا کہ تمہاری شادی فلاں سال میں ہو گی اور وہ بات سچ نکلی۔ میں نے کہا۔ پھر جو باتیں تمہیں نجومی نے بتائیں ان کا تمہیں کیا فائدہ ہوا۔ کہنے لگی۔ کچھ نہیں۔ کم از کم مجھے معلوم تو ہو گیا جو آئندہ میرے ساتھ ہونے والا تھا۔ میں نے ہنس کر کہا۔ نجومی کے کہنے پر تم اپنی شادی کے انتظار میں دن گننے لگیں۔ وہ بھی ہنس پڑی اور بات آئی گئی ہو گئی۔ وہ تو چلی گئی اور میں اپنی افتاد طبیعت کے مطابق ستاروں کے متعلق سوچنے لگی۔ ستاروں میں بھی تو شعور ہو گا۔ وہ بھی تو ہماری طرح سوچتے ہوں گے۔ اللہ پاک نے ہر شئے کے اندر نظر اور دماغ رکھا ہے۔ یہی سوچتے سوچتے رات آ گئی۔ میرا مراقبہ کرنے کا وقت آ گیا۔ ذہن پر تو وہی خیال چھایا ہوا تھا۔ مراقبے میں بیٹھتے ہی ذہن فوراً یکسو ہو گیا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ میرے بہت ہی قریب ایک روشن ستارہ ہے۔ یہ ستارہ میرے اس قدر قریب آ جاتا ہے کہ میں اس کو چھو لیتی ہوں۔ اتنے میں بابا جی آتے ہیں اور یہ ستارہ اپنے دونوں ہاتھوں میں اس طرح لے لیتے ہیں جیسے گیند اور پھر اسے میرے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔ سارا وقت مراقبہ میں یہ دیکھتی رہی کہ اس ستارے کی روشنی میرے اندر جذب ہو رہی ہے۔

                دوسرے دن صبح اٹھتے ہی خیال آیا۔ وہ ستارہ کیا تھا۔ جس کی روشنی میرے اندر منتقل ہوئی ہے اور کافی دیر کام کاج کے دوران ذہن ستارے کی جانب متوجہ رہا۔ میں بار بار سوچتی ہم آسمان پر ستارے دیکھتے ہیں۔ جب ہم ستاروں کو دیکھتے ہیں تو ستارے بھی ہمیں دیکھتے ہوں گے وہ ہمارے متعلق کیا سوچتے ہونگے۔ وقتاً فوقتاً انہی سوچوں میں دوپہر ہو گئی۔ فرصت پا کر تھوڑی دیر کو صوفے پر بیٹھی تو ذہن پر سکون ہو گیا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ کیا دیکھتی ہوں کہ میرے جسم کے اندر چھ ستارے مختلف مقامات پر ہیں۔ ایک ستارہ ناف کے مقام پر ہے۔ ان ستاروں کی روشنی بہت دور دور تک پہنچ رہی ہے۔ خیال آیا، میں اشرف المخلوقات ہوں اور یہ تمام ستارے میرے تابع ہیں اور مجھے روشنی پہنچانے پر معمور ہیں۔ تھوڑی دیر بعد کوئی ہستی سامنے آئی۔ یہ روشنی کا ایک ہیولا تھا۔ میں نے پوچھا۔ تم کیسے آئے ہو اور تمہارا کیا کام ہے؟ کہنے لگا۔ میں بھیجا گیا ہوں۔ میں نے کہا کہ وہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ تم بھیجے گئے ہو۔ تم خود سے ہرگز بھی نہیں آ سکتے۔ اس نے کہا۔ کہ تم یہ کیسے جانتی ہو؟ میں نے کہا۔ تم میرے سامنے ہو، میری آنکھوں تم کو دیکھ رہی ہیں۔ تو کیا میں دیکھ کر اتنا بھی اندازہ نہیں لگا سکتی۔ اس نے حیرت سے پوچھا۔ اچھا! کیا تم صرف دیکھ کر یہ سب کچھ جان سکتی ہو۔ میں نے کہا۔ کیوں نہیں۔ دیکھ کر تو پتہ لگ ہی جاتا ہے۔ اب تم بتائو کہ تم یہاں کیوں آئے ہو۔ کہنے لگا۔ اچھا پہلے یہ بتائو میں کون ہوں؟ اس کی حیرت ابھی تک باقی تھی۔ میں نے مسکرا کر کہا۔ تم پلوٹو(Pluto) ہو۔ کہنے لگا کہ تم نے صحیح پہچانا۔ میں یہاں تمہارے پاس اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تم کو روشنی پہنچا سکوں۔ میں اپنے آپ کو تمہاری خدمت کے لئے پیش کرتا ہوں۔ میں نے کہا۔ تم میری کیا خدمت کر سکتے ہو؟ پہلے مجھے یہ معلوم ہو جائے تب میں تمہیں اپنی خدمت میں رکھنے کے متعلق سوچوں گی۔ اس نے کہا کہ میری روشنی میں تمہارے حواس خمسہ زیادہ اچھی طرح کام کرنے لگیں گے۔ تم زیادہ اچھی طرح دیکھ سکو گی، سن سکو گی، سونگھ سکو گی۔ میں نے کہا۔ ٹھیک ہے مجھے تمہاری خدمت منظور ہے۔ آج سے میں تمہیں اپنی خدمت پر مامور کرتی ہوں۔ تم میری ناف کے مقام پر ہمیشہ رہو گے اور خواہ میں تمہیں ہر بار حکم دوں یا نہ دوں۔ تم کو مستقل مجھے روشنی پہنچانی ہو گی۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً میں تم سے بات کیا کروں گی تا کہ اگر کوئی خصوصی ہدایت تم کو دینی ہو تو دے دوں۔ اس نے رکوع کے انداز میں جھک کر مجھے تعظیم کی اور کہا۔ میں آپ کے حکم کا تابع ہوں۔ میں نے کہا۔ اچھا! اب تم جا سکتے ہو۔ تو یہ ستارہ میری ناف کے مقام پر چپک گیا اور میرے اندر اور باہر روشنی پہنچانے لگا۔

                یہ منظر دیکھ کر میں سوچنے لگی۔ کائنات کی ہر شئے انسان کو اشرف المخلوقات کی حیثیت سے پہچانتی ہے۔ اگر آدمی خود اپنی ذات کو آگاہی کی اس منزل پر لے جائے تو ہر شئے اس کی خدمت کے لئے تیار ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات انسان کے لئے بنائی ہے نہ کہ انسان کائنات کے لئے۔ دوسرے دن پھر فرصت کے وقت ذہن ستاروں میں جا الجھا۔ کیا دیکھتی ہوں کہ ایک بہت ہی بڑا اور روشن ستارہ ہے۔ یہ بالکل ہی قریب ہے، اتنے قریب ہے کہ میں اسے چھو سکتی ہوں۔ یہ ستارہ ہماری دنیا سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس کی روشنی میرے دل پر پڑنے لگی۔ میں نے اس روشنی کو دیکھا۔ اس نے بھی دیکھا اور سلام کیا۔ کہنے لگا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ میرا نام زہرا (Venus) ہے۔ میں تمہارے دل کے مقام پر اپنی روشنی ڈال رہا ہوں۔ میری روشنی میں آپ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔ یہ آواز اس ستارے کی روشنی سے اس طرح آ رہی تھی جیسے یہ آواز بہت دور سے آ رہی ہے اور جیسے یہ ٹیپ کی ہوئی ریکارڈنگ ہے۔ پھر اس آواز نے کہا کہ جب تمہارے پاس ستارہ زہرہ کی یہ روشنی پہنچ جائے تو تم جان لینا کہ قیامت بہت قریب ہے۔ اس کے بعد یہ روشنی تصور سے ہٹ گئی اور میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گئی۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ان ستاروں کی انفارمیشن پر ذہن متوجہ رہا۔ دوسرے دن پھر فرصت کے وقت ذہن یکسو ہو گیا۔ بیٹھے ہوئے اچانک میرے سامنے ایک روشنی آ گئی۔ میں نے اس روشنی سے کہا کہ تم بہت دور سے آئے ہو۔ وہ کہنے لگی کہ تم کو کیسے پتہ کہ میں دور سے آیا ہوں۔ میں نے کہا کہ تمہاری لائیٹ ستاروں کی طرح ٹمٹماتی ہوئی آ رہی ہے۔ اگر سیدھی ایک شعاع ہوتی تو میں سمجھتی کہ یہ قریب سے ہی ہے۔ کہنے لگا۔ اچھا تو کیا تمہیں اتنی عقل ہے۔ میں نے کہا۔ ہاں ہے۔ کیا تمہیں اتنی عقل نہیں ہے۔ تم بھی تو مجھ دیکھ رہے ہو اور مجھ سے بات کر رہے ہو۔ میں نے کہا۔ اچھا بتائو تم کون ہو؟ کہنے لگا میں تمہاری تقدیر کا ستارہ ہوں۔ میں نے پوچھا۔ نام کیا ہے؟ بولا۔ میرا نام مریخ (Mars) ہے۔ میں اس وقت تمہارے لطیفہ خفی پر روشنی ڈال رہا ہوں اور یہیں سے تم سے بات کر رہا ہوں۔ اس نے کہا جب کبھی تمہیں اخفی کا ریکارڈ دیکھنا ہو اور لوح محفوظ کی کوئی بات معلوم کرنی ہو تو میں اپنی خدمات پیش کرتا ہوں۔ میں تمہارے حکم کا تابع ہوں۔

                اس کے بعد یہ منظر آنکھوں سے ہٹ گیا۔ میں غور کرنے لگی کہ یہ سب کیا ہے۔ آدھی رات کو میری آنکھ کھلی۔ میں نے محسوس کیا کہ مریخ مجھے علم دے رہا ہے۔ یہ ایک بزرگ کی صورت میں ہے۔ میں انہیں دیکھتے ہی فوراً پہچان گئی۔ اس نے کہا۔ اے بنت رسولﷺ! کائناتی نظام اللہ تعالیٰ کے اسمائے الٰہیہ کی روشنیوں پر قائم اور جاری و ساری ہے۔ یہ روشنیاں ستاروں کے ذریعے سے کائنات میں پھیلتی ہیں۔ زمین پر بسنے والی ہر شئے ان روشنیوں کو جذب کرتی ہے۔ ہر روشنی کے اندر اسمائے الٰہیہ کا تفکر کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ستاروں سے آنے والی روشنی میں زمین کی مخلوق کے لئے کوئی نہ کوئی پیغام ہے اور روشنی مخلوق کے لئے توانائی کا کام کرتی ہے۔ پھر وہ کہنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے تسخیر کائنات کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے کہ:

                ‘‘ہم نے تمہارے لئے زمین اور آسمانوں کو مسخر کر دیا ہے۔’’

                اللہ پاک کے اس حکم کے تحت میں تمہارے ارادے کے حکم کا تابع ہوں۔ تم جس وقت مجھے چاہو۔ میں تمہاری خدمت میں حاضر ہو کر اپنی خدمات پیش کرنے سے دریغ نہیں کرونگا۔

                یکے بعد دیگرے ان ستاروں سے ذہنی رابطہ قائم ہونے کے بعد میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ لاعلمی انسان کو کس قدر کم ہمت، ڈرپوک اور بزدل بنا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ وسائل کا محتاج بن کر رہ جاتا ہے۔ جبکہ تمام وسائل انسان کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ آدمی اپنے ارادے سے انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرے ذہن میں سہیلی کا چہرہ گھوم گیا جو بار بار نجومی کے پاس جا کر اپنی تقدیر جاننے کے درپے تھی کہ کسی طرح مستقبل کا سراغ مل جائے۔ مجھے سہیلی کی یہ بات بھی یاد آئی۔ اس نے کہا کہ ایک نجومی نے اسے بتایا کہ فلاں تاریخ سے لے کر فلاں تاریخ تک تمہارے شوہر کے لئے جان کا خطرہ ہے، ایکسیڈنٹ کا خدشہ ہے۔ اس نے ان تاریخوں کے دوران جو ایک ہفتہ بنتی تھیں۔ اپنے شوہر کو گھر سے باہر نکلنے نہ دیا۔ میں سوچنے لگی۔ آدمی اگر اپنی روحانی صلاحیتوں کو بیدار کر کے کائناتی شعور سے واقف ہو جائے تو کائنات کی ہر شئے اس کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہے۔ کائنات کی ہر شئے ایک سسٹم کے تحت ہے۔ تمام نظام شمسی، ستارے اور سیارے نقطہ وحدانی کا جز ہیں۔ نقطہ وحدانی کائنات کا نقطہ ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی آواز کن سے پھٹ کر لاشمار ٹکڑوں میں منقسم ہو گیا۔ نقطہ وحدانی کے اندر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کام کر رہا ہے اور اللہ کا ارادہ اور امر نقطہ وحدانی کا دماغ ہے۔ نقطہ وحدانی کا شعور اول حقیقت محمدیﷺ یا روح اعظم کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ نقطہ وحدانی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا مظاہرہ ہے۔ نقطہ وحدانی کی حدود کے اندر ربوبیت کا مظاہرہ ہی کائنات ہے۔ کائنات لاشمار نظام شمسی کا مجموعہ ہے۔ انسان کے اندر نقطہ وحدانی کا دماغ کام کر رہا ہے۔ نقطہ وحدانی کی روشنیاں کائنات کی ہر شئے کو فیڈ کرتی ہیں۔ ظاہر میں یہ فیڈنگ چاند، سورج، ستاروں کی روشنی ہے۔ جس کی توانائی سے زمین پر مخلوقات جنم لیتی ہیں۔ انسان، حیوانات، نباتات، جمادات سارے کے سارے روشنیوں کی وجہ سے تخلیق ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ان روشنیوں کا عمل داخلی صورت میں ہے۔ یہ داخلی عمل شعور و عقل اور باطنی صلاحیتیں ہیں۔ جو نقطہ وحدانی کے دماغ کی صلاحیتیں ہیں۔ انسان کو اللہ پاک نے وہی دماغ عطا فرمایا ہے جو دماغ نقطہ وحدانی یا کائنات کے نقطے کے اندر کام کر رہا ہے۔ یہی دماغ سارے کائناتی نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ انسان کو یہ دماغ عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کے علوم بھی انسان کو سکھا دیئے ہیں کہ کس طرح اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی علوم انسان کو دوسری انواع کے مقابلے میں افضل اور اشرف قرار دیتا ہے۔ انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ چاند ستاروں سے ملنے والی اطلاعات کو اپنے اوپر مسلط کر لے۔ انسان کا شعور چاند ستاروں سے کہیں زیادہ افضل ہے۔ وہ تو شعور کل ہے۔ شعور کل اطلاعات کا تسیم کرنے والا ہے۔ انسان کا رابطہ اس شعور کل سے ہو جائے تو وہ اپنے پاس آنے والی اطلاعات کو اپنے ارادے سے قبول بھی کرسکتا ہے اور رد بھی کر سکتا ہے۔ پس آدمی اس طرح اپنی زندگی اپنے ارادے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ بغیر کسی خوف و ہراس کے نہایت ہی خوش و خرم رہ کر گزار سکتا ہے۔ انسان کا دماغ نقطہ وحدانی کا دماغ ہے۔ جو کائنات کا نقطہ ہے۔ پس یہ دماغ اپنے ذہن پر کوئی بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ یہی آزادی انسان کی فطرت ہے۔ فطرت سے ہٹ کر جب کوئی کام ہوتا ہے تو اس میں شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی تنگی اور رنج و غم اور خوف محسوس کرتا ہے۔ میرا جی چاہا کہ میں دنیا والوں سے چیخ چیخ کر کہہ دوں کہ روحانی علوم حاصل کرو۔ تا کہ تم خود اپنی ذات کو پہچان سکو اور اپنے رب کو جان سکو جس نے تمہیں کائنات کی بہترین نعمتیں عطا کی ہیں۔


Roohein Bolti Hain

سَیّدہ سَعیدہ خَاتون عَظیمی

                ‘‘زندگی جب زندگی سے گلے ملتی ہے تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔’’

                یوں تو ہر آدمی ‘‘جیتا مرتا ہے’’ مگر میں نے اس جملہ پر غور کیا تو شعور لرزنے لگا۔ غنودگی نے مجھے اپنی آغوش لے لیا۔ تیز کرنٹ کا جھٹکا لگا۔ یہ کرنٹ پیروں میں سے زمین میں ارتھ ہوا…………دھوئیں کی لاٹ کی طرح کوئی چیز اوپر اٹھی اور یہ دھواں خدوخال میں تبدیل ہو گیا۔مجھے حیرت ہوئی کہ یہ سعیدہ خاتون عظیمی تھی۔                میں نے اپنی روح کو اداس’ بے چین’ ضعیف و ناتواں اور ادھورا دیکھا تو دل ڈوبنے لگا۔ ڈوبتے دل میں ایک نقطہ نظر آیا۔ اس نقطہ میں حد و حساب سے زیادہ گہرائی میں مرشد کریم کی تصویر دیکھی۔ لاکھو ں کروڑوں میل کی مسافت طے کر کے اس تصویر تک رسائی ہوئی۔

                میری روح جو جنم جنم کی پیاسی تھی’ بے قراری کے عالم میں’ نقطہ میں بند اس تصویر سے گلے ملی تو اسے قرار آ گیا۔ سرمستی میں جھوم جھوم گئی۔ جمود ٹوٹا تو الفاظ کا سیل بے کراں بہہ نکلا اور روح کہانی صفحہ قرطاس پر مظہر بن گئی۔                روح کہانی کتاب’ واردات و کیفیات کے ان علوم پر مشتمل ہے جو مجھے مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (باباجی) کی روح سے منتقل ہوئے۔ میں یہ علوم اپنی بہنوں کے سپرد کرتی ہوں تا کہ وہ توجہ کے ساتھ ان علوم کو اپنی اولاد میں منتقل کر دیں۔

                                     دعا گو:

                                                سیدہ سعیدہ خاتون عظیمی

                                                تاریخ: 01-09-94